خطبات امام حسین اور مقصد قیام

خطبات امام حسین اور مقصد قیام

محمد غالب حیات

اگر ہم تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو بے شمار تحریکیں اور قیام دیکھنے کو ملتے ہیں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا وہ تحریکیں جو انسانی اقدارپر مبنی ہیں اور ایسے قیام جو اقدار انسانی تحفظ کی خاطر ہوئے بےشتر ایسے قیام انبیاء الہی اور اولیاء خدا کی رہبری میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔

اگر ہم غور اور دقت نظر سے دیکھیں تو یہ جتنے اہداف و مقاصد انبیاء الہی کے قیاموں میں نظر آتے ہیں وہ بنحو اتم قیام امام حسین میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔معاویہ جب چالیس سالہ آمرانہ دور حکومت کو تمام کرچکا تو اس پر اپنی موت کے آثار واضح ہونا شروع ہوگئے یہ دیکھ کر اس نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا ور اپنی زندگی میں ہی اس کی بیعت بھی لے لی ۔معاویہ کے مرنے کے بعد یزید تخت نشین ہوا اور اس نے مدینہ کے گورنر ولید کو خط لکھا جس میں امام حسین سے بیعت لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ولید نے امام کو دربار میں بلا بھیجا اور معاویہ کے مرنے اوریزید کے تخت نشین ہونے کی اطلاع دی اور بیعت کا مطالبہ کیا اور اگلے دن تک کے لئے آپ کو مہلت دی۔ اگلی صبح مروان کی آپ سے ملاقات ہوئی اور اس نے یزید کی بیعت کر نے کا مشورہ دیا، امام حسین نے فرمایا: انَّا لَلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیہ رٰاجِعُون وَ عَلٰی الْاِسْلٰامِ وَالسَّلاٰمِ،اِذْ قَدْ بَلِیتْ الِامۃبراع مِثْلَ یزید وَلَقَدْ سَمِعْتُ جَدِّی یقُولُ: اَلْخِلٰافَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلی آلِ سُفْیان “(۱)

اگر یزید کی بیعت کروں تو اسلام کو سلام کہہ دوں کیونکہ اسلام یزید جیسے کی حکمرانی سے دوچار ہوگیا ہے اور میں نے اپنے جد رسول اللہ سے سنا تھا کہ آل سفیان پر خلافت حرام ہے۔

پس اسلام پر اب ایسا مشکل وقت آن پڑا تھا کہ وجود اسلام خطرے میں پڑ چکا تھا اور اب اسلام کو ایک مددگار کی ضرورت تھی جو اسلام کے کمزور و نحیف بدن کو اپنے خون سے قو ی و توانا کردے اور اسلام کے زخموں کا مداوا کرے تاکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی کاوشوں کا نتیجہ یہ دین مبین اسلام قائم رہ سکے۔

شہید مطہریۺ فرماتے ہیں کہ آپ کے قیام کے بارے میں تین قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں(۲):

۱۔ دشمنوں کانظریہ:

انکے مطابق یہ اقتدار کے حصول کی جنگ تھی۔اور امام حسین حکومت کا ارادہ رکھتے تھے، جسکو وہ حاصل نہ کرسکے۔

۲۔ نادان دوستوں کا نظریہ:

آپ اس لئے شہید ہوئے تاکہ امت کے گناہوں کا کفارہ قرار پائیں (تاکہ امت کے بہشت میں جانے کی راہ آسان ہوجائے) انہوں نے وہی نظریہ اپنایا جوعیسائیوں نے حضرت عیسی کے بارے میں اپنایا کہ آپکو سولی پر لٹکائے جانے سے امت کے گناہوں کو معاف کردیا گیا ۔لیکن آئے دیکھیں خود سید الشہداء اپنے قیام کا کیا ہدف قرار دیتے ہیں

۳۔ نظریہ سید الشہداء:

”انی لم اخرج اشرا و لا بطرا ولا ظالما ولا مفسدا انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی۔ ارید ان آمر بالمعروف و انھی عن المنکر و اسیر بسیرة جدی و ابی علی ابن ابی طالب

میرا قیام خودپسندی و گردن کُشی اور ظلم و فساد پھیلانے کے لئے نہیں ہے بلکہ میرا قیام اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے ہے میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر انجام دینا چاہتا ہوں اور اپنے نانا اور والد علی ابن ابی طالب کی سیرت کو اپنانا چاہتا ہوں (۳)

امام کا یہ کلام بہت ہی کلیدی اہمیت کا حامل ہے امام کا یہ کلام گویا کہ دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں دشمن کی طرف سے ممکنہ تہمتوں کا جواب دیا ہے اور دوسری حصے میں اپنے قیام کے اہداف و مقاصد کو واضح طور پر بیان کردیا ہے۔

امام بخوبی آگاہ تھے کہ میری شہادت کے بعد دشمن پروپےگنڈہ کرکے میرے اس قیام کو مختلف نام دے کر تحریف کی نظر کردے گا پس آپ نے تا قیامت آنے والی نسلوں پر یہ روشن کردیا کہ میرے قیام کا مقصد

(۱ ) فخر و مباہات نہیں ہے۔

(۲) قتل و غارت کرنا نہیں ہے۔

(۳) فساد کو رواج دینا نہیں ہے۔

(۴) اور ظلم کو عام کرنا نہیں ہے۔

بلکہ میرے اہداف اس سے بالکل ہٹ کر ہیں میرا یہ قیام:

(الف) اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے ہے جو فساد کا شکار ہوچکی ہے اور اپنی فطرت (اسلام )سے دور ہوچکی ہے۔

(ب) امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو معاشرے میں رواج دینے کے لئے ہے کیونکہ یہ اسلام کے دو بنیادی و اساسی رکن ہیں اور اسلام کا نظام انہی کی بدولت قائم ہے۔ جبکہ موجودہ معاشرہ ان دونوں کو فراموش کرچکا ہے۔لہذا اسلام کاوجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔

(ج) اپنے جد اور والد گرامی کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کے لئے ہے کہ جنکی آغوش میں اسلام پروان چڑھا اورجنہوں نے اسلام کی حفاظت کے لئے مشرکین اورمنافقین کی اذیتیں برداشت کیں،آپ نے ”مقام بےصہ“ پر حرکے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا (۴)۔

اَیھَا النَّاس اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ قٰالَ: مَنْ رَاٴی سُلْطٰانا ًجٰائِراً مُسْتَحِلّاً لِحَرَامِ اللّٰہِ، نٰاکِثاً عَہْدَہُ،مُخٰالفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللّٰہِ یعمَلُ فِی عِباٰدِ اللّٰہِ بِاالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ فَلَمْ یغیر عَلَیہ بِفِعْلٍ وَلا قَوْلٍ کٰانَ حقاً عَلیٰ اللّٰہِ اَنْ یدخِلَہُ مُدْخَلَہُ

اے لوگو ! رسول اللہ نے فرمایا: جو کسی ایسے سلطان جابر کو دیکھے کہ جو حرام خدا کو حلال قرار دے، عہد شکنی کرے، سنت رسول کا مخالف ہو، لوگوں کے ساتھ ظلم و تجاوز کرے اور یہ اس کے کرتوتوں پر زبانی طور پریا عملی صورت میں کوئی قدم نہ ا ٹھائے ، تو خدا کے لئے سزاوار ہے کہ اسکو دوزخ میں اس جگہ قرار دے جہاں پر وہ ظالم ہے، یعنی خدا کے لئے سزاوار ہے کہ اسکا حشر بھی سلطان جابر جیسا ہو اور اسکا ٹھکانا بھی ظالم بادشاہ کا ٹھکانا ہو۔

امام جب مقام ” ذی حسم “ پر پہنچے تو وہاں پر دنیا کی بے وفائی پر خطبہ دیا اور آخر میںاپنے قیام کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: (۵)

اَلَا تَرَوْنَ اِلَی الْحَقِّ لَا یعمَل بِہِ وَ اِلَی الْبٰاطِلِ لَا یتنٰاھِی عَنْہُ لِیرغِبَ الْمُوٴمِن فِی لِقَاءِ اللّٰہِ مُحَقًّا فَاِنّی لَا اَرَی الْمَوْتَ اِلَّا سَعٰادَةً وَالْحَیاةَ مَعَ الظَّالِمِین اِلَّا بَرَمًا

کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہورہا(بلکہ اسے چھپانے اور نابود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے) اور باطل سے منع نہیں کیا جارہا(بلکہ سب اسکے سامنے سر خم کئے ہوئے ہیں اور کوئی اسکے خلاف آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے ) پس جب ایسا ماحول قائم ہوتو ایسی حالت میں مومن پر لازم ہے کہ وہ اپنے ربّ کے لقاء کی طرف رغبت پیدا کرے یعنی ظالم کے اس ظلم کے خلاف قیام کرے۔

کیونکہ ایسی موت میری نظر میں سعادت کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ظالمین کے ساتھ زندگی گزارنا ذلت اور ننگ و عار ہے۔

اپنے اس فرمان میں مولا نے اپنا قیام کا مقصد بھی واضح کردیا ہے اور ہمارے لئے فرےضہ بھی تعین فرمادیا کہ یاد رکھو جب حق پر عمل نہ ہو رہا ہو اور باطل رواج پارہا ہو تو اُس وقت ایک مومن کے لئے خاموش رہنا جائز نہیں ہے بلکہ اُسے ظالموں کے خلاف میدان میں اترنا ہوگا۔

یہاں پر امام گویا کہ یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ظالم و فاسق حکمرانوں کے سائے میں فاسق و فاسد معاشرے وجود میں آتے ہیں کہ جن میں حق کی پامالی ایک عام چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے فاسد معاشروں میں پھرفاسد روحیں ہی پیدا ہونگی،پاکیزہ روحیں کبھی بھی پروان نہیں چڑھ سکتیں،اسلام کبھی بھی ایسے معاشروں میں اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ پس پہلے اپنے ان معاشروں کو ظالموں اور فاسدوں سے پاک کرو جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور اس کام کے انجام دینے کے دوران آنے والی موت محض سعادت ہے۔

اور اگر ظالموں کے خلاف آواز بلند نہ کی بلکہ خاموشی اختیار کی یا اُن کی ہاں میں ہاں ملائی پھر ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

جیسا کہ چند سطر پہلے بیان ہوا کہ امام نے اپنے ایک خطبہ میں رسول خدا کی اس حدیث (مَنْ رَاٴی سُلْطٰانا ًجٰائِراً )کو بیان فرمایا یہ حدےث واضح کردیتی ہے کہ ظالم سلطان کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے وگرنہ انجام خود اس جیسا ہوگا۔ اسکے باوجود اگر کوئی یہ نظریہ رکھے کہ ہمیںظالم حکومتوں سے کیا لینا دیناہے ؟ ہم اپنے کام سے کام رکھیں تو یہ سوچ بے شعوری پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے ظالم حکومتوں کے سائے میں حقیقی اسلام کا وجود خطرے میں ہوتا ہے۔حرام خدا کو حلال قراردے دیا جاتا ہے۔

آج ہمارے زمانے میں مسلمان ممالک پر قابض ظالم حکمراں ہی تو اس بات کا موجب بنے ہیں کہ ان ممالک میں آج فقط اسلام کا نام باقی رہ گیا ہے، اور عملی طور پر اسلام کا نام و نشان بھی نہیں ہے بلکہ اُلٹا حرام خدا کو حلال قرار دیا جارہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ظلم ا ور اسلام کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ایک کے ہوتے ہوئے دوسرے کا وجود قائم نہیں رہ سکے گا صدام کی ظالم حکومت ہمارے سامنے ہے کہ جس نے ہزار سالہ عظیم الشان حوزہٴ علمیہ نجف کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا علماء کو شہید کردیا گیا۔ کتب خانوں کو آگ لگادی گئی۔

خود انقلاب اسلامی سے پہلے شاہ ایران کی ظالم حکومت کا دور ہمارے سامنے ہے کہ اسی حوزہٴ علمیہ قم میں سکون و اطمینان کے ساتھ درس و بحث کرنا بھی نصےب نہ تھا ہمارے بڑے علماء چوری چھپے باغات میں جاکردرس و تدریس کیا کرتے تھے۔ لیکن جب امام خمینی ۺ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کے ذریعے اس ظالم حکومت کا خاتمہ ہوا،اور دنیا کے سامنے حقیقی اسلام کی ایک جھلک نظر آئی تو دنیا نے حوزہٴ علمیہ قم میں ایک عظیم علمی ترقی کا مشاہدہ کیا،پس ظالم حکومتوں کے سائے میں رہ کر اسلام اپنی اصلی حقیقت پر باقی رہ سکے یہ ناممکن بات ہے اور اسی خطرے کو بھانپ کر امام حسین نے قیام فرمایا،

اگر ہم ” کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا “ پر ایمان و عقیدہ رکھنے والے ہیں تو آج بھی امام کا یہ کلام ہمارے اوپر اسی طرح حجت ہے گویا کہ امام ہم سے خطاب فرمارہے ہیں۔

(۱) اَلَا تَرَوْنَ اِلَی الْحَقِّ لَا یعمَل بِہِ

(۲) وَ اِلَی الْبٰاطِلِ لَا یتنٰاھِی عَنْہُ

(۳) لِیرغِبَ الْمُوٴمِن فِی لِقَاءِ اللّٰہِ مُحَقًّا

پس امام نے ہمارا فرےضہ معین فرمادیا ہے اور کوئی عذر و بہانہ اب ہمارے پاس باقی نہیں ہے۔

شہید مطہر ی ایک اور جگہ پرفرماتے ہیں:(۶)

امام حسین کا یہ جہاد صرف یزید کے خلاف نہ تھا امام کا مقام اس سے کہیں بلند و بالاترہے کہ اُنکا ہدف ایک خاص فرد و شخص قرار پائے۔ ہدف امام اصولی و کلی تھا اور حقیقت میں امام کا یہ مبارزہ ظلم اور جہل کے خلاف تھا جس طرح کہ ہم زیارت اربعین میں پڑھتے ہیں:

وَ بَذلَ مُھْجَتَہُ فِیک لِیستَنْقِذَعِبٰادَکَ مِنَ الْجِھٰالَةِ وَ حَیرةِ الضَّلاٰلَةِ

(خدایا) انہوں نے تیری خاطر جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی اور گمراہی کی پرےشانیوں سے، کربلا کی جنگ اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ اقدار کی جنگ تھی، یزید جیسے لعین شخص کے ہاتھوں اسلامی اقدار کو خطرہ درپےش تھا اور اسی اقدار کی حفاظت کے لئے امام نے یہ قیام فرمایا، پس دراصل معرکہ کربلا میں ہمیں دو مجسم اقدار کے نمونے نظر آتے ہیں ایک طرف حسینی اقدار کے مجسم نمونے ہیںتو دوسری طرف یزیدی اقدار کے مجسم نمونے ہیں۔حسینی اقدار رکھنے والے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے وارث ہیں تو یزیدی اقدار والے فرعون و قارون و ہامان و نمرود و معاویہ کے وارث ہیں۔

امام حسین اپنے ایک خطاب میں انہیں اقدار کویوں بیان فرمایا:

اِنَّااَھْلُ بَیت النُّبُوَّةِ وَ مَعْدَنُ الرِّسٰالَةِ وَ مُختَلَفُ الْمَلٰائِکَةِ وَ بِنَا فَتَحَ اللّٰہ وَ بِنا خَتَمَ اللّٰہ وَ یزید رَجُلٌ فٰاسِقٌ، شٰارِبُ الْخَمْرِ،قٰاتِلُ النَّفْسِ الْمُحَرَّمَةِ،مُعْلِنٌ بِالْفِسْقِ وَ مِثلِی لاٰ ےُبایع مِثلَہ نُصْبِحُ وَتُصْبِحُوْنَ وَ نَنْظُرُ وَتَنْظُرُوْنَ اینا اَحقُّ بِالْبَیعةِ وَالْخِلٰافَةِ“(۷)

ہم اہل بیت نبوت ہیں اور رسالت کا معدن ہیں اور ملائکہ کی رفت وآمد کا مرکز ہیں خداوند متعال نے ہم سے ہی ابتدا کی اور ہم پر ہی اختتام کرے گا جبکہ یزید فاسق مرد ہے شرابی ہے،پاکیزہ نفوس کا قاتل ہے،اور فسق و فجور کو علناً انجام دینے والا ہے اور میری شان کا آدمی اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ہم بھی صبح کرتے ہیں تم بھی کرو، ہم بھی منتظر ہیں اور تم بھی منتظر رہو، کہ ہم میں سے کون بیعت و خلافت کا زیادہ حقدار ہے۔

امام کے یہ کلمات اس وقت کے ہیں جب ولید نے آپ سے یزید کی بیعت مانگی تھی۔اور امام نے اس پر دونوں طرف کے کردار کو واضح کردیا۔ بلکہ اس پر یہ بھی واضح کردیا کہ قیامت تک کے لئے جو میری طرح ہوگا یعنی حسینی اقدار و کردار کا حامل ہوگا وہ یزید جیسے فاسق و فاجر کے سامنے نہیں جھکے گا۔ امام کا یہ کلام ” مثلی لا ےبایع مثلہ“ بہت معنی خیز کلام ہے گویا امام نے ایک معیار بیان فرمادیا ہے اور ان دو اقدار کے درمیان ہمےشہ کی جنگ کو بیان فرمادیا ہے یعنی مثلی لا یبایع مثلہ“ کی تفسیر و وضاحت ” کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا“ سے واضح ہورہی ہے۔

امام حسین حقیقت میں ”امام عزت“ ہیں یزید کے اقتدار پر آنے سے کرامت انسانی کو خطرہ درپےش تھا اور یہی کرامت نفس ہی تو ہے کہ جس میں انسان کی انسانیت کا راز مضمر ہے وگرنہ ” کَالْاَنْعٰامِ بَلْ ھُم اَضَلُّ سبیلا “ کا مصداق ہے ۔ امام حسین کا یہ قیام حقیقت میں اس انسانیت کی بقاء کے لئے تھا پس امام حسین نے قیامت تک آنے والی نسلوں کو عزت و کرامت نفس کا دستور عطا فرمایا۔ا ور یہ واضح کردیا کہ جب ذلت کی زندگی اور عزت کی موت میں سے ایک کے انتخاب کا موقع آئے تو اس وقت عزت کی موت کو ترجےح دینا، آپ فرماتے ہیں (۸)

 

الا و ان الدعی ابن الدعی قد ترکنی بین الثنتین بین السلّة والذلّة و ھےھات منا الذلة

اس زنا زادے کے بیٹے زنا زادے نے مجھے دو کاموں کے درمیان مخیر کردیا ہے موت اور ذلت کی زندگی کے مابین اور بہت بعید ہے کہ میں ذلت کو قبول کروں۔

پس جو حسینی ہوگا اسکی زندگی کا شعار بھی ” ھَیھَاتَ مِنَّا الذِّلَّة “ ہوگا ۔ دراصل امام حسین نے اپنے اس قیام سے اپنے پیروکاروں پر یہ واضح کردیا کہ دیکھو جب بھی زندگی میں معرکہ حق و باطل پےش آئے ایک طرف حق اور دوسری طرف باطل ہوتو ایسی صورت میں تماشائی نہ بننا،کنارہ کشی اختیار نہ کرلینا، عافیت طلب نہ بن جانا، اور ہم اکثر زیارات میں پڑہتے ہیں کہ ” لَعَنَ اللّٰہُ اُمَّةً سَمِعَتْ بِذٰلِکَ فَرَضِیت بِہِ“۔ پس حسینی تب ہوگے جب اس معرکہ حق و باطل میں اپنی پوری توانائی کے ساتھ کردار ادا کرو گے اور اگر حق کو تمہارے خون کی ضرورت ہو تو وہ بھی دینے سے دریغ نہ کرنا۔

پس امام حسین کا قیام ایک نمائندہ الہی کا نمائندہ شےطان کے مقابلے میں قیام تھا اور یہ ان تمام اہداف و مقاصد پر مشتمل تھا جو کہ انبیاء الہی کے قیاموں میں موجود تھے۔

حوالہ جات:

(۱) بحار الانوار ج۴۴،ص۳۲۶ (چاپ موسسہ الوفاء بیروت لبنان)

(۲) حماسہٴ حسینی ج۲،ص۵۸ (چاپ ۲۹)

(۳) بحار الانوار ج۴۴،ص۳۲۹

(۴) سوگنامہ آل محمد ص۲۲۱ (چاپ چاردہم)

(۵) سوگنامہ آل محمد ص۲۰۳ (چاپ چاردہم)

(۶) حماسہ حسینی ج۲،ص۳۲

(۷) بحارالانوار ص۳۲۵، ج۴۴

(۸) سوگنامہ آل محمد ص۲۳۰