زیارت عاشورا کے آثار و فوائد

زیارت عاشورا

خدا وند عالم اپنی ذات اقدس کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت اس زیارت (عاشورا) کے ساتھ دور سے یا نزدیک سے کرے میں اس کی زیارت کو قبول کروں گا اور اس کی ہرآرزو کو پورا کروں گا چاہے وہ جتنی بھی ہواور اس کے ہر سوال کوپورا کروں گا۔ اس کو ہرگز اپنی بارگاہ سے ناامید نہیں پلٹائوں گا بلکہ وہ اس حالت میں پلٹے گا کہ اس کی تمام حاجتیں پوری ہو چکی ہو ںگی ۔وہ جنت میں داخل ہوگا اور دوزخ سے رہائی حاصل کرے گا۔ وہ جس کے بھی حق میں شفاعت کرے گا میںاس کی شفاعت قبول کروں گا۔حضرت علیہ السلام نے فرمایا: ہم اہلبیت کے دشمنوں کے حق میں کسی قسم کی کوئی دعا قبول نہ ہوگی ۔خدا وند عالم نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھائی ہے اور ہم کو گواہ بنایا ہے جس کی ملائکہ نے گواہی دی ہے ۔

زیارت عاشورا کی شان وفضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ اسے معصوم علیہ السلام نے تعلیم فرمایاہے۔اورجو چیز ان کے پاک وطاہر قلوب سے زبان مبارک کے ذریعہ ہم تک پہنچے وہ عالم بالا سے تعلق رکھتی ہے ،یہ زیارت حدیث قدسی میں سے ہے۔ حضرت احدیت سے جناب جبرئیل امین، اور ان سے حضرت رسول خدا (ص) تک پہنچی ہے ۔

مراد حاصل کرنے یا دشمنوں کے شرسے محفوظ رہنے کے لئے اس زیات کا پڑھنا ،چالیس روز تک یا اس سے کم بے حد مو ¿ثرہے ،جس کا تجربہ ہمارے بزرگ علماءنے بیان کیا ہے ۔

اس کی پابندی سے جونتیجہ حاصل ہوا ہے اسے ہم نیچے خلاصہ کے طور پر بیان کر رہے ہیں :

نجف اشرف کے مجاوروں میں ایک نیک اور متدین شخص حاجی ملا حسن یزدی جو متقی او رپرہیزگار تھے وہ ہمیشہ زیارت وعبادت میں مشغول رہا کرتے تھے ، انھوں نے یزدکے ایک موثق او رامین شخص حاجی علی یزدی جوہمیشہ Èخرت کی اصلاح کی کوشش میں رہا کرتے تھے اور انھوں نے ایک صاحب کرامت شخص سے نقل کیا ہے :

وہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ اپنی راتیں یزد کے باہرایک قبرستان میں جہاں کچھ صالح افراد دفن ہیںاورجسے مزار کہا جاتا ہے گزارتا تھا۔ میرا ایک پڑوسی دوست تھا جوبچپن ہی سے ہمارے ساتھ تھا،ہم دونوں ایک ہی ساتھ ایک ہی معلم سے پڑھنے جاتے تھے۔بعد میں اس نے ٹیکس وصول کرنا اپنامشغلہ بنالیاتھا ۔ کچھ دن کے بعد جب وہ دینا سے رخصت ہواتو اسے اسی قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ابھی ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا ہم نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بہت ہی اچھی حالت میں ہے میں اس کے قریب گیا اور اس سے پوچھاکہ: تم ان افراد میں سے نہیں تھے جس کے باطن نیک ہونے کا احتمال دیا جائے بلکہ تمھارے برے ہونے میںکسی قسم کا شک و شبہ نہیں تھااور تم نے جو پیشہ اختیار کررکھا تھا وہ بھی صحیح نہیںتھاتم عذاب کے مستحق تھے پس تمھارے کس عمل نے تمھیں اس مقام پر پہنچایا؟

اس نے جواب دیا تم نے صحیح کہا ۔میں جس روز مرا او رجب مجھے دفن کیا گیا اسی وقت سے کل تک میں شدید عذاب میں مبتلا تھا کل استاد اشرف Èہنگر کی زوجہ کا انتقال ہوااو راسے اسی جگہ دفن کیا گیا،اس نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جوتقریباً اس سے سو میٹر کے فاصلہ پر تھی۔ دفن ہونے کی شب میں حضرت امام حسین علیہ السلام تین مرتبہ اس عورت سے ملاقات کے لئے Èئے جب تیسری مرتبہ تشریف لائے تو فرمایا: اس قبرستان سے عذاب اٹھالیا جائے ، لہٰذا عذاب اٹھا لیا گیا۔ اسی وقت سے ہماری حالت بہترہو ئی اوراللہ کی رحمت ونعمت ہمارے شامل حال ہوگئی ہے۔

جب میں نیند سے اٹھا توحیرت زدہ تھا اس لئے کہ میں کسی لوہار کونہیںجانتا تھا نہ اس کے محلہ سے واقف تھا،میں لوہاروں کے بازار میں گیا او راسے تلاش کرنا شروع کیا،آخرکار وہ مل گیا اس سے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟

اس نے جواب دیا: ہاں لیکن میری بیوی کا کل انتقال ہوگیا او راسے فلاںقبرستا ن میںدفن کردیا ہے ۔

میں نے پوچھا: کیا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے گئی تھی؟اس نے کہا: نہیں۔

میں نے پوچھا:تو کیا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے مجلسیںبرپا کرتی تھی ؟ کہا: نہیں۔

میں نے پوچھا: پھرکیا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پڑھتی تھی ؟اس نے جواب دیا: نہیں ۔

لوہار نے مجھ سے پوچھا:آخر تم یہ سوالات کیوں کررہے ہوماجرا کیا ہے؟اور کیا معلوم کرنا چاہتے ہو؟

میں نے اس سے اپنا خواب بیان کیا تو وہ کہنے لگاکہ میری بیوی زیارت عاشورا پابندی سے پڑھاکرتی تھی ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ واقعہ سید احمد رشتی کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے ۔جوبہت بڑے پر ہیزگار اورعبادت گزارشخص تھے اورزیارت کے پابند تھے،ا ور اہل شہر کے درمیان سچائی اورپرہیزگاری میں مشہور تھے ۔( بہ نقل از تحفہ  صیام(

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ألسَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أبَا عَبْدِ اللَّہِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّہِ (السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَۃَ اللَّہِ وَ ابْنَ خِيَرَتِہِ) السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ ‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَۃَ سَيِّدَۃِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ‏السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللَّہِ وَ ابْنَ ثَارِہِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ

السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَی الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ عَلَيْكُمْ مِنِّي جَمِيعاً سَلاَمُ اللَّہِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّہَارُيَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِيَّۃُ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِيبَۃُ بِكَ (بِكُمْ) عَلَيْنَا وَ عَلَی جَمِيعِ أَہْلِ الْإِسْلاَمِ ‏وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِيبَتُكَ فِي السَّمَاوَاتِ عَلَی جَمِيعِ أَہْلِ السَّمَاوَاتِ ‏فَلَعَنَ اللَّہُ أُمَّۃً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ أَہْلَ الْبَيْتِ ‏وَ لَعَنَ اللَّہُ أُمَّۃً دَفَعَتْكُمْ عَنْ مَقَامِكُمْ وَ أَزَالَتْكُمْ عَنْ مَرَاتِبِكُمُ الَّتِي رَتَّبَكُمُ اللَّہُ فِيہَاوَ لَعَنَ اللَّہُ أُمَّۃً قَتَلَتْكُمْ وَ لَعَنَ اللَّہُ الْمُمَہِّدِينَ لَہُمْ بِالتَّمْكِينِ مِنْ قِتَالِكُمْ‏ بَرِئْتُ إِلَی اللَّہِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْہُمْ وَ (مِنْ) أَشْيَاعِہِمْ وَ أَتْبَاعِہِمْ وَ أَوْلِيَائِہِمْ ‏يَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَۃِوَ لَعَنَ اللَّہُ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ وَ لَعَنَ اللَّہُ بَنِي أُمَيَّۃَ قَاطِبَۃً وَ لَعَنَ اللَّہُ ابْنَ مَرْجَانَۃَ وَ لَعَنَ اللَّہُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللَّہُ شِمْراً (شَمِراً) وَ لَعَنَ اللَّہُ أُمَّۃً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتَالِكَ

بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي ‏لَقَدْ عَظُمَ مُصَابِي بِكَ فَأَسْأَلُ اللَّہَ الَّذِي أَكْرَمَ مَقَامَكَ وَ أَكْرَمَنِي (بِكَ) أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكَ مَعَ إِمَامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَہْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَيْہِ وَ آلِہِ‏ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِي عِنْدَكَ وَجِيہاً بِالْحُسَيْنِ عليہ السلام فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَۃِيَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَی اللَّہِ وَ إِلَی رَسُولِہِ وَ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ‏وَ إِلَی فَاطِمَۃَ وَ إِلَی الْحَسَنِ وَ إِلَيْكَ بِمُوَالاَتِكَ‏ وَ بِالْبَرَاءَۃِ (مِمَّنْ قَاتَلَكَ وَ نَصَبَ لَكَ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَۃِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ‏ وَ أَبْرَأُ إِلَی اللَّہِ وَ إِلَی رَسُولِہِ) مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ ذَلِكَ وَ بَنَی عَلَيْہِ بُنْيَانَہُ‏ وَ جَرَی فِي ظُلْمِہِ وَ جَوْرِہِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَی أَشْيَاعِكُمْ بَرِئْتُ إِلَی اللَّہِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْہُمْ‏ وَ أَتَقَرَّبُ إِلَی اللَّہِ ثُمَّ إِلَيْكُمْ بِمُوَالاَتِكُمْ وَ مُوَالاَۃِ وَلِيِّكُمْ‏ وَ بِالْبَرَاءَۃِ مِنْ أَعْدَائِكُمْ وَ النَّاصِبِينَ لَكُمُ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَۃِ مِنْ أَشْيَاعِہِمْ وَ أَتْبَاعِہِمْ‏

إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ وَ وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاَكُمْ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ‏ فَأَسْأَلُ اللَّہَ الَّذِي أَكْرَمَنِي بِمَعْرِفَتِكُمْ وَ مَعْرِفَۃِ أَوْلِيَائِكُمْ وَ رَزَقَنِي الْبَرَاءَۃَ مِنْ أَعْدَائِكُمْ‏ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَۃِ وَ أَنْ يُثَبِّتَ لِي عِنْدَكُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَۃِوَ أَسْأَلُہُ أَنْ يُبَلِّغَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ لَكُمْ عِنْدَ اللَّہِ‏ وَ أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِي (ثَارَكُمْ) مَعَ إِمَامٍ ہُدًی (مَہْدِيٍّ) ظَاہِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْكُمْ‏ وَ أَسْأَلُ اللَّہَ بِحَقِّكُمْ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِي لَكُمْ عِنْدَہُ أَنْ يُعْطِيَنِي بِمُصَابِي بِكُمْ أَفْضَلَ مَا يُعْطِي مُصَاباً بِمُصِيبَتِہِ‏ مُصِيبَۃً مَا أَعْظَمَہَا وَ أَعْظَمَ رَزِيَّتَہَا فِي الْإِسْلاَمِ وَ فِي جَمِيعِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ (الْأَرَضِينَ) اللَّہُمَّ اجْعَلْنِي فِي مَقَامِي ہَذَا مِمَّنْ تَنَالُہُ مِنْكَ صَلَوَاتٌ وَ رَحْمَۃٌ وَ مَغْفِرَۃٌ اللَّہُمَّ اجْعَلْ مَحْيَايَ مَحْيَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ مَمَاتِي مَمَاتَ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ اللَّہُمَّ إِنَّ ہَذَا يَوْمٌ تَبَرَّكَتْ بِہِ (فِيہِ) بَنُو أُمَيَّۃَ وَ ابْنُ آكِلَۃِ الْأَكْبَادِ اللَّعِينُ ابْنُ اللَّعِينِ عَلَی (لِسَانِكَ) وَ لِسَانِ نَبِيِّكَ (صَلَّی اللَّہُ عَلَيْہِ وَ آلِہِ) فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَ مَوْقِفٍ وَقَفَ فِيہِ نَبِيُّكَ (صَلَّی اللَّہُ عَلَيْہِ وَ آلِہِ) اللَّہُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ وَ مُعَاوِيَۃَ وَ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَۃَ عَلَيْہِمْ مِنْكَ اللَّعْنَۃُ أَبَدَ الْآبِدِينَ‏ وَ ہَذَا يَوْمٌ فَرِحَتْ بِہِ آلُ زِيَادٍ وَ آلُ مَرْوَانَ بِقَتْلِہِمُ الْحُسَيْنَ صَلَوَاتُ اللَّہِ عَلَيْہِ (عَلَيْہِ السَّلاَمُ) اللَّہُمَّ فَضَاعِفْ عَلَيْہِمُ اللَّعْنَ مِنْكَ وَ الْعَذَابَ (الْأَلِيمَ) اللَّہُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ فِي ہَذَا الْيَوْمِ وَ فِي مَوْقِفِي ہَذَا وَ أَيَّامِ حَيَاتِي ‏بِالْبَرَاءَۃِ مِنْہُمْ وَ اللَّعْنَۃِ عَلَيْہِمْ وَ بِالْمُوَالاَۃِ لِنَبِيِّكَ وَ آلِ نَبِيِّكَ (عَلَيْہِ وَ) عَلَيْہِمُ السَّلاَمُ‏

سو مرتبہ کہے:

اللَّہُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تَابِعٍ لَہُ عَلَی ذَلِكَ‏ اللَّہُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَۃَ الَّتِي (الَّذِينَ) جَاہَدَتِ الْحُسَيْنَ وَ شَايَعَتْ وَ بَايَعَتْ وَ تَابَعَتْ (تَايَعَتْ) عَلَی قَتْلِہِ اللَّہُمَّ الْعَنْہُمْ جَمِيعاً

سو مرتبہ کہے:

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ وَ عَلَی الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ‏ عَلَيْكَ مِنِّي سَلاَمُ اللَّہِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّہَارُوَ لاَ جَعَلَہُ اللَّہُ آخِرَ الْعَہْدِ مِنِّي لِزِيَارَتِكُمْ (لِزِيَارَتِكَ) السَّلاَمُ عَلَی الْحُسَيْنِ وَ عَلَی عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (وَ عَلَی أَوْلاَدِ الْحُسَيْنِ ) وَ عَلَی أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ

پھر کہے:

اللَّہُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّي وَ ابْدَأْ بِہِ أَوَّلاً ثُمَّ (الْعَنِ) الثَّانِيَ وَ الثَّالِثَ وَ الرَّابِعَ‏ اللَّہُمَّ الْعَنْ يَزِيدَ خَامِساً وَ الْعَنْ عُبَيْدَ اللَّہِ بْنَ زِيَادٍ وَ ابْنَ مَرْجَانَۃَ وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ أَبِي سُفْيَانَ وَ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَۃِ

اب سجدہ میں جاکر کہے:

اللَّہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاكِرِينَ لَكَ عَلَی مُصَابِہِمْ الْحَمْدُ لِلَّہِ عَلَی عَظِيمِ رَزِيَّتِي ‏اللَّہُمَّ ارْزُقْنِي شَفَاعَۃَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِوَ ثَبِّتْ لِي قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَكَ مَعَ الْحُسَيْنِ وَ أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ الَّذِينَ بَذَلُوا مُہَجَہُمْ دُونَ الْحُسَيْنِ عليہ السلام‏.