آداب عزاداری حضرت امام حسین (علیه السلام)

آداب عزاداری حضرت امام حسین (علیه السلام)

ہم عزاداروں کی خدمت میں چند آداب عزاداری امام حسین (ع) کو ذکر کرتے ہیں۔ امید ہے تمام مؤمنین عزاداری کی مجالس میں ان آداب کا خیال رکھیں گے انشاء اللہ تعالی:

عزاداری کے اصول و آداب:

کسی بھی عمل سے اس کے مطلوب اور مقررہ نتائج حاصل کرنے کے لیے لازم ہے کہ اس عمل کو اس کے متعین قواعد و آداب کے ساتھ انجام دیا جائے۔

ظاہر ہے کہ عزاداری سید الشہداء بھی جب تمام اعمال سے افضل ہے تو، اسکو بھی اس اصول و قانون سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا عزاداری سے بھی اس کے مطلوب نتائج حاصل کرنے کے لیے اس کے دوران بعض اصول و آداب کی پابندی لازم ہے۔ یہ اصول و آداب کیا ہیں ؟ انہیں کہاں سے اخذ کیا جائے ؟ اس مسئلے پر غور و فکر کہ بعد ہم تین ایسے مصادر کا تعین کر پائے ہیں جن سے عزاداری منانے کے اصول و قواعد اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تین مصادر ہمیں عزاداری کے ذریعے پیش کیے جانے والے مضمون ، اس کے منانے کے انداز و کیفیت اور اس کے مراسم کی درستگی کی حدود سے روشناس کرتے ہیں۔ یہ مصادر درج ذیل ہیں۔

1۔ حسین ابن علی (ع) کی تحریک کے مقاصد ،

2۔ عزاداری کے بارے مین آئمہ اطہار (ع) کی ہدایات ،

3۔ عزاداری کے مراسم کے بارے میں علماء کرام کی ہدایات و نصائح۔

آئیے اس حوالے سے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

1۔ حسین ابن علی (ع) کی تحریک کے مقاصد:

سید الشہداء کے فرض منصبی کو ملحوظ رکھا جائے ، آپ کی تحریک کا واقعاتی جائزہ لیا جائے اور اس تحریک کے دوران آپ کے فرامین، مکتوبات اور اقدامات کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امام حسین کی تحریک امت کے سیاسی و اجتماعی نظام کی اصلاح کے لیے تھی۔

امام حسین بنی امیہ کے غصبی و مکارانہ اقتدار کے نتیجے میں شریعت کی پامالی ، حدود الہی کے تعطل اور عوام کے ساتھ ظلم و نا انصافی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ آپ (ع) دیکھ رہے تھے کہ امت کا اقتدار یزید جیسے فاسق ، فاجر ، شرابی اور زانی شخص کے حوالے کر دیا گیا ہے، امت کے امور ایک ایسے شخص کے سپرد کر دیئے گئے ہیں کہ جو کسی بھی طرح سے اس عہدے کا اہل نہیں اور بیعت کے ذریعے اس کے اقتدار کی تصدیق در اصل اسلام کی موت کے پروانے پر دستخط کے مترادف ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس صورتحال پر خاموشی بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ لہذا امام حسین نے یزید کے خلاف تحریک شروع کی اور اپنی حکمت عملی سے اسلام کو نابودی کے خطرے سے نجات دلائی۔

2۔ عزاداری کے بارے میں آئمہ اطہار (ع) کی ہدایات:

روایات سے ظاہر ہے آئمہ معصومین اپنے اصحاب اور ماننے والوں کو عاشورہ محرم غم و اندوہ ، حزن و ملال کے ساتھ گزارنے کی ہدایت کرتے تھے ، مصائب کربلا کے بیان اور انہیں سن کر اشک فشانی کی تاکید کرتے تھے ، ان ایام میں ابا عبد اللہ الحسین کے مصائب کے بیان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ آئمہ اطہار اپنے گھروں میں ان مصائب کو سننے، سنانے کا اہتمام کرتے، یہ مصائب سن کر آنسو بہاتے اور اس اشک فشانی پر انتہائی اجر و ثواب اور آخرت میں نجات کی نوید بھی دیتے تھے۔

3۔ عزاداری کے مراسم کے بارے میں علماء کرام کی ہدایات و نصائح:

علمائے امامیہ ایام عزا کے خصوصی اہتمام کے ساتھ ساتھ عزاداری کی رسوم کو غیر شرعی امور اور نامناسب اخراجات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی کوشاں رہے ہیں۔ لہذا ان علماء نے عزاداری میں صرف ان امور کی شمولیت کو جائز قرار دیا ہے کہ جن سے کسی قسم کے ضرر اور نقصان کا خوف نہ ہو، یعنی وہ مذہب کے لیے نقصان دہ نہ ہوں اور جن پر عزاداری کا عنوان صادق آتا ہو، یعنی وہ اظہار غم و اندوہ کے منافی نہ ہو۔ اسی طرح یہ امور مذہب کے تمسخر کا موجب بھی نہ ہوں، یعنی انہیں دیکھ کر لوگوں کو مذہب کا مذاق اڑانے کا موقع نہ ملے ، نیز مسلمانوں کے درمیان نفرت و عداوت کا سبب نہ ہوں۔

حتی علماء نے ایسے مباح امور کو انجام دینے سے بھی اجتناب کی تاکید کی ہے جنہیں دیکھ کر مخالفوں کو خوامخواہ سوال و اعتراض اٹھانے اور شکوک و شبہات پھیلانے کا موقع ملے۔

اس تین مصادر کی روشنی میں جو اصول وضع کیے جا سکتے ہیں ، وہ یہ ہیں اور ان پر شدید توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے:

1- عزاداری پر رنج و الم اور سوگواری کی فضا طاری ہو۔ اس کے اجتماعات اور رسومات دیکھنے والے پر غم و اندوہ کا تاثر پیدا کریں۔ تا کہ ایک طرف اس کے ذریعے اسلام کی خاطر اٹھائی جانے والی اہل بیت (ع) کی مصیبت اجاگر ہو اور دوسری طرف اس فضا میں بیان کیا جانے والا پیغام سننے والوں کے دل کی گہرائی میں اتر جائے۔

2- عزاداری محض غم کی داستان کا بیان نہیں بلکہ اس کا پیغام مسلمانوں کے اجتماعی اور انفرادی معاملات میں دین کی حکمرانی کا قیام ہے۔ لہذا اس کے دوران ، خطیبوں و ذاکرین کی تقاریر اور شعراء کے کلام میں حسین ابن علی (ع) ان کے اصحاب ، اہل حرم کے مصائب کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کی ترویج اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات و مسائل کے بارے میں بھی گفتگو ہو۔

تقاریر اور اشعار ایسے مواد پر مشتمل ہوں جو عزاداروں کو وقت کے حسین اور دور حاضر کے یزید کی پہچان کرائیں، نہ صرف پہچان کرائیں، بلکہ انہیں اس حسین کی مدد نصرت اور اس یزید کی مخالفت پر کمر بستہ بھی کریں۔ عزاداری کا بنیادی اور اصل مقصد بھی یہی ہے۔ حسین ابن علی (ع) اپنی تحریک کے ذریعے مسلمانوں میں ایک ایسے مکتب کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے کہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کے  امور و معاملات سے کسی طور غافل اور لا تعلق نہ ہوں، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے رحجانات اور ان کے خلاف ہونے والے اقدامات سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ انہیں ناکام بنانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہ کریں۔

3- عزاداری کے اجتماعات اور رسموں میں شرعی اصول اور دینی اقدار پیش نظر رہیں۔ کوئی ایسا عمل انجام نہ دیا جائے جو احکام دینی کے خلاف اور ان سے متصادم ہو، دین کو کمزور کرنے والا ہو، مسلمانوں میں انتشار و افتراق پھیلانے کا موجب ہو، اور ہمارے مذہب کو تماشا بناتا ہو۔

1- اہل بیت(ع) کی ثقافت کو زندہ رکھنا:

محرم الحرام کی مجالس اور جلوسوں میں کچھ اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے:

الف: معصوم کی حدیث ہے کہ عزاداری کی مجالس میں اہلبیت کی تعلیمات اجاگر کیا جائے:

قال جعفر بن محمد الصادق (ع)‏ تلاقوا و تحادثوا و تذاكروا فإن في المذاكرة إحياء أمرنا رحم‏ الله‏ امرأ أحيا أمرنا.

امام صادق (ع) نے فرمایا ہے کہ: آپس میں ملاقات کرو، اور آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرو، پس جو باتوں باتوں میں ہماے امر (ولایت و امامت) کو زندہ کرے گا تو خداوند اس شخص پر اپنی خاص رحمت نازل کرے گا۔

بحار الانوار ، ج 1 ، ص 200

خطیب کے منبر پر جانے سے یا ایک نوحہ خواں کے نوحہ پڑھنے سے سامعین کی فکری سطح اور سوچ میں تبدیلی آنی چاہیے۔ اگر خطیب کی تقریر سے لوگوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہو اور لوگوں کی فکری سطح اور سوچ میں تبدیلی آتی ہو اور لوگوں کے اخلاق ، کردار اور گفتار میں مثبت تبدیلی آتی ہے، تو اس خطیب اور نوحہ خواں نے اہلبیت کے امر کو زندہ کیا ہے۔ اسی طرح سامعین کو بھی چاہیے کہ خطیب کے نصائح پر عمل کر کے اہلبیت کے امر کو زندہ کریں۔

ب: معرفت و بصیرت:

مجالس عزاداری میں جو افراد شرکت کرتے ہیں وہ وہاں سے کوئی نئی بات ، علمی ، تاریخی ، فقہی معلومات یا دور جدید کے حوالے سے کچھ حاصل کر کے جائیں اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جو خطیب مجلس پڑھ رہا ہے، وہ اپنے مطالعات کو وسعت دے اور ساتھ ساتھ اخلاص کے ساتھ گفتگو کرے تا کہ لوگوں کی معرفت و بصیرت میں اضافہ کر سکے۔

ج:  احکام کی تعلیم :

ہر خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنی مجالس میں فقہی احکام بھی بیان کرے اور سامعین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ فقہی احکام پر عمل کریں خصوصا مجالس عزاداری میں عزاداری کے احکام پر عمل ہونا چاہیے۔

د: اعترضات کا جواب دینا:

معاشرے میں ، لوگوں کے ذہن میں بعض اوقات کچھ سوالات پیش آتے ہیں یا مخالفین کی طرف سے کچھ اعتراضات کیے جاتے ہیں، لہذا خطیب کو چاہیے کہ ان کا منطقی ، عقلی و نقلی دلائل سے جواب دے ۔ البتہ سامعین کو بھی چاہیے کہ ان کے ذہنوں میں موجود شبہات اور اعتراضات علماء کے حضور پیش کریں تا کہ ان کے اذہان باطل چیزوں سے پاک و خالی ہو جائیں۔

2- عزاداری میں شرعی مسائل کا خیال رکھنا :

امام حسین جب کربلاء پہنچے تو سب سے پہلے فقہی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کربلا کی زمین کو خریدا، کیونکہ امام حسین نہیں چاہتے تھے کہ غصبی زمین پر شہید ہوں اور امام حسین چاہتے تھے کہ ان کا مقدس خون غصبی زمین پر نہ گرے۔ امام حسین کی سیرت سے درس لیتے ہوئے ہمیں بھی عزاداری میں شرعی مسائل کا خیال رکھنا چاہیے۔ خصوصاً خواتین کو پردے کا خیال رکھنا چاہیے اور تمام عزاداروں کو عزاداری کی مجالس میں جھوٹ ، تہمت ، بد اخلاقی اور دیگر غیر اخلاقی کاموں سے دوری اور اجتناب کرنا چاہیے۔

3-  ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرنا :

کسی انسان کو پیش آنے والی مصیبت کے وقت تعزیت پیش کرنا اسلام میں مستحب ہے۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے کہ:

ہر شخص مصیبت میں مبتلاء انسان کو تعزیت پیش کرے تو اس کا اجر و ثواب اس مصیبت میں مبتلاء انسان کے برابر ہو گا۔

سفینةالبحار، ج2، ص188

یہ سنت شیعیان اہلبیت میں رائج ہے، جیسے ماہ محرم اور عزاداری کے دنوں میں عظم اللہ اجورکم کہہ کر ایک دوسرے کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

امام محمد باقر(ع) نے فرمایا ہے کہ : جب شیعہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ابا عبد اللہ الحسین کی مصیبت میں یوں تسلیت عرض کریں:

اعظم اللہ اجورنا بمصابنا الحسین و جعلنا و ایاکم من الطالبین بثارہ مع ولیہ الامام المہدی من آل محمد علیہم السلام،

یعنی خداوند متعال امام حسین کی سوگواری اور عزاداری کی برکت سے ہمارے اجر میں اضافہ فرمائے اور ہم اور آپ کو امام مہدی (عج) کے ہمراہ امام حسین کے خون کا بدلہ لینے والوں میں سے قرار دے۔

مستدرک الوسایل،ج2،ص216

4- کالے کپڑے پہننا :

فقہی اعتبار سے کالے کپڑے پہننا مکروہ ہے، لیکن امام حسین اور آئمہ معصومین کی عزاداری میں اس لباس کو کراہت سے مستثنی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ لباس حزن و اندوہ اور غم و الم کی نشانی اور عظیم شعائر میں سے ہے۔

(اسی سایٹ میں اہل بیت کے غم میں کالے کپڑے پہننے کے بارے میں  ایک علمی و تحقیقی مقالہ موجود ہے۔)

5- زیارت امام حسین(ع) کا پڑھنا :

علقمہ ابن حضرمی نے حضرت امام محمد باقر سے درخواست کی کہ : یا بن رسول اللہ مجھے ایسی دعا تعلیم فرمائیں کہ عاشورا کے دن دور اور نزدیک سے یا اپنے گھر سے پڑھ لیا کروں۔

امام باقر نے فرمایا : اے علقمہ ! جب بھی دعا پڑھنا چاہو تو اٹھ کھڑے ہو کر دو رکعت نماز بجا لاؤ اور اس کے بعد زیارت عاشورا پڑھ لیا کرو۔ پس اگر زیارت پڑھ لو گے تو گویا تم نے ان کلمات و الفاظ سے دعا کی ہے جو ملائکہ ، امام حسین کے زائر کے لیے دعا کرتے ہوئے استعمال کرتے ہیں اور خداوند متعال تمہارے لیے سو ہزار ہزار ( دس کروڑ) درجات لکھے گا یا بلند کرے گا ، اور تم اس شخص کے مانند ہو گے جو امام حسین کے ہمراہ شہادت پا چکا ہو ، تا کہ امام حسین کے اصحاب و انصار کے درجات میں شریک ہو جائیں اور تم صرف اور صرف ان شہیدوں کے زمرے میں قرار پاؤ گے اور انہی شہیدوں کے عنوان سے پہچانے جاؤ گے جو امام حسین کے ہمراہ شہید ہوئے ہیں ، تمہارے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی زیارت کا ثواب لکھا جائے گا اور ان تمام لوگوں کا ثواب آپ کے لیے لکھا جائے گا جنہوں نے امام حسین کی شہادت کے دن سے اب تک آپ کی زیارت کی ہے۔

(مصباح المتهجد ، ص714)

اگر ممکن ہو تو زیارت عاشورا معروفہ سو لعن و سو سلام کے ساتھ ہونی چاہیے اور اگر انسان کے پاس فرصت نہ ہو تو زیارت عاشورا غیر معروفہ کو ہر روز پڑھا لیا کرے جو اس کا اجر و ثواب زیارت عاشورا معروفہ کے برابر ہے۔ ( زیارت عاشورا معروفہ و غیر معروفہ دونوں کتاب مفاتیح الجنان میں نقل ہوئیں ہیں )

6-  عاشورا کے دن دنیاوی کاموں سے پرہیز کرنا:

امام صادق (ع) نے فرمایا ہے : جو شخص عاشورا کے دن دنیاوی کاموں سے پرہیز کرے یعنی پیسوں اور تجارت یا کسب و کار کے لیے اور اپنی روزانہ کی معیشت کے لیے بھی کوشش نہ کرے، کیونکہ یہ کام بنی امیہ نے کیا ہے جو عاشورا کے دن کو با برکت سمجھتے تھے، تو خداوند متعال اس کی دنیاوی و اخروی حوائج پوری کرے گا ، عاشورا کے دن جو شخص مصیبت و الم و عزاء کرے گا تو قیامت کے روز اس کا چہرہ خوشحال ہو گا ، جس دن تمام لوگوں کے اوپر وحشت اور خوف طاری ہو گا۔

امالی شیخ صدوق ، ص129

7- گریہ و عزاداری کا افضل ترین رکن:

حدیث قدسی میں مذکور ہے کہ خداوند متعال نے حضرت موسی سے ارشاد فرمایا :

اے موسیٰ ! جو بھی عاشورا کے دن میرے حبیب مصطفی کے فرزند کے لیے گریہ کرے یا رونے کی شکل بنائے اور سبط مصطفی کی مصیبت پر تعزیت پیش کرے ، وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں ہو گا۔

(مستدرک سفینة البحار، ج7، ص235)

قال رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم لابنته السیدة فاطمه سلام الله علیها: يا فاطمة إن نساء امتي يبكون على نساء أهل بيتي، ورجالهم يبكون على رجال أهل بيتي، ويجددون العزاء جيلا بعد جيل، في كل سنة فإذا كان القيامة تشفعين أنت للنساء وأنا أشفع للرجال وكل من بكى منهم على مصاب الحسين أخذنا بيده وأدخلناه الجنة؛ يا فاطمة ! كل عين باكية يوم القيامة، إلا عين بكت على مصاب الحسين (ع).

رسول اکرم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ زہراء (س) سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بیٹی فاطمہ (س) ! بے شک میری امت کی خواتین میرے خاندان کی خواتین کے مصائب پر روتی ہیں اور ان کے مرد میرے خاندان کے مردوں کے مصائب پر روتے ہیں اور نسل در نسل ہر سال ہماری عزاداری کی تجدید کرتے ہیں اور جب قیامت ہو گی تو آپ (س) اہلبیت کی خواتین کے مصائب پر گریہ و بکاء کرنے والی خواتین کی شفاعت کریں گی اور میں اہلبیت کے مردوں پر گزرنے والے مصائب پر گریہ و بکاء کرنے والے مردوں کی شفاعت کروں گا اور ان میں سے جس نے بھی امام حسین کے مصائب پر گریہ و بکاء کیا ہو گا ، ہم اس کا ہاتھ پکڑ لیں گے اور اس کو جنت میں داخل کریں گے ۔ یا فاطمہ (س) ! قیامت کے دن تمام آنکھیں رو رہی ہونگی سوائے ان آنکھوں کے جو امام حسین کے مصائب پر اشکبار ہوئی ہیں۔

بحار الانوار ـ علامه محمد باقر مجلسی ج 44 ص 293

8- عزاداری پیغام زینب (س) :

ہم جانتے ہیں کہ حضرت زینب (س) پہلی عزادار ہیں جنہوں نے کربلاء میں ہی امام حسین کے جسم مبارک کے قریب آ کر فرمایا : اے میرے جد امجد رسول اللہ آسمان کے ملائکہ آپ پر درود و سلام بھیجتے ہیں, جبکہ آپ کا بیٹا حسین خون میں لت پت ، ریت اور مٹی پر پڑا ہوا ہے جبکہ ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے ہیں ، یا اللہ ہماری یہ قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔

عوالم العلوم والمعارف ، ج 11 ، ص 125

حضرت زینب (س) نے اس طرح عزاداری کی تہذیب کی بنیاد ڈالی اور حضرت زینب (س) نے بنی امیہ کی ایک عظیم سازش کو یہیں ناکام بنا دیا جو عاشورا کا پیغام کہیں بھی نہیں پہنچنے دینا چاہتے تھے۔ سیدہ نے یہ سلسلہ شام تک اسیری کی حالت میں بھی جاری رکھا اور عزاداری کو پیغام حق کا بہترین اور مؤثر ترین ذریعہ ثابت کر کے دکھایا۔ چنانچہ ہمیں بھی عاشورا کے دن اور عزاداری کے دوسرے ایام میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر عزادار کے کندھے پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے، کیونکہ عزاداری احیائے دین کا نام ہے، جس طرح انقلاب عاشورا اور تحریک حسینی اور واقعہ کربلاء دین اسلام کے احیاء کے نام ہیں۔

9- اخلاص کا خیال رکھنا :

ہمیں عزاداری کو عادت اور رسم کے طور پر نہیں منانا چاہیے بلکہ اس عمل کو خالص نیت اور خدا کی رضا و خوشنودی اور اپنا ایک فریضہ سمجھ کے انجام دینا چاہیے اور ساتھ ہی خلوص میں بھی ہمیں صادق و سچا ہونا چاہیے۔ حتی ایک چھوٹا سا عمل بھی اگر خلوص نیت کے ساتھ انجام پائے تو یہ ان کثیر اعمال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جن میں خلوص اور صداقت کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو ، خواہ وہ اعمال کئی ہزار گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چنانچہ یہ بات حضرت آدم اور شیطان کی عبادات سے بخوبی سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ شیطان کی کئی ہزار سالہ غیر مخلصانہ عبادت اسے دوزخ کی آگ سے نجات نہیں دے سکی۔ جبکہ حضرت آدم کی عبادت شیطان کی نسبت بہت کم تھی مگر چونکہ ان عبادات میں اخلاص کا عنصر شامل تھا ، خداوند متعال نے حضرت آدم کا ترک اولیٰ بخش دیا اور آپ کو نبوت عطاء فرمائی۔ اس کے علاوہ اعمال کی انجام دہی میں بھی خیال رہے کہ کہیں ریا اور لوگوں کی تعریف و تمجید کی خواہش و تمنا ہماری نیت میں رسوخ نہ کرے۔

10- نماز اور امام حسین (ع):

سید الشہداء اور آپ کے با وفا اصحاب سب کے سب اس نماز کی راہ میں شہید ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم امام حسین کی زیارت مطلقہ میں امام کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:

اشہد انک قد اقمت الصلوۃ و آتیت الزکاۃ و امرت بالمعروف و نہیت عن المنکر،

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی ، زکات ادا کی ، بھلائیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع کیا۔

سوگنامه عاشورا ، ص 80- 67

ہم سب جانتے ہیں کہ نو محرم الحرام کو محاصرہ شدید ہوا اور لشکر یزید نے جب حملے کا منصوبہ بنا لیا، تو امام حسین نے اپنے بھائی عباس سے فرمایا :

یزیدی لشکر کے پاس جائیں اور اگر ممکن ہو تو ان سے آج کی رات کی مہلت لیں اور جنگ کو کل تک ملتوی کرائیں تا کہ ہم آج کی رات نماز ، استغفار اور اپنے پروردگار کے ساتھ مناجات اور راز و نیاز میں گزاریں ۔ خدا جانتا ہے کہ میں نماز ، تلاوت قرآن اور دعا و استغفار کو بہت پسند کرتا ہوں۔

امام سجاد فرماتے ہیں : میرے والد گرامی ہر رات ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ روز عاشورا امام حسین نے نماز ظہر و عصر کا خاص طور پر اہتمام کیا اور یزیدی دشمن کے تیروں کی بوچھاڑ میں بھی نماز عشق کی داستان رقم کی۔ یقینا امام اپنے پیروکاروں سے بھی توبہ و استغفار اور دعا و عبادت کی توقع رکھتے ہیں، چنانچہ اگر نماز کا وقت ہو جائے تو عزاداری کے دوران بھی نماز بجا لانا ضروری ہے اور تعزیت و تسلیت پیش کرتے وقت اور مجالس کے انعقاد کے دوران اس طرح شیڈول بنانا چاہیے کہ یہ تمام عناصر شامل رہیں، کیونکہ بہترین عزاداری کی توقع صرف بہترین عزادار سے ہی کی جا سکتی ہے۔

ضحاک بن عبداللہ سے روایت ہے کہ شب عاشورا امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کے انصار و افراد خاندان نے نماز و استغفار اور دعا میں گذار دی۔

11- عزاداری کی مجالس بپا کرنا:

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: آپ کی طرف سے بپا کی ہوئی مجالس کو میں دوست رکھتا ہوں اور ان سے محبت کرتا ہوں۔ اپنی مجالس میں ہمارے امر کو زندہ رکھو۔ خدا رحمت نازل فرمائے اس پر جو ہمارے امر کا احیاء کرے۔

وسایل الشیعه، ج10، ص235

ہمیں چاہیے کہ عزاداری کی مجالس میں ان آداب کا خیال رکھتے ہوئے مجالس و عزاداری کو مزید بہتر اور اچھے انداز میں قائم کریں تا کہ امام حسین اور دیگر معصومین کے بتائے ہوئے راستے پہ چلتے ہوئے حقیقی مؤمن اور عزادار ہونے کا ثبوت دیں۔

12- لذتیں ترک کرنا:

ضروری ہے کہ زندگی کی لذتیں جو کھانے، پینے، نیز سونے اور بولنے سے حاصل ہوتی ہیں، محرم کے ایام میں ترک کی جائیں۔ (مگر یہ کہ ان کی بہت ہی زیادہ ضرورت ہو)، نیز دینی برادران سے ملاقات تک ترک کی جائے اور اس روز کو گریہ و بکاء اور غم و اندوہ کا روز قرار دیا جائے اور عزاداران اس شخص کی طرح ہوں کہ جسکا والد یا بھائی دنیا سے چلا گیا ہو۔

امام صادق (ع) نے فرمایا: اس روز (عاشورا کو) لذت بخش امور سے اجتناب کیا جائے اور سوگواری کے آداب و مراسم بجا لائے جائیں اور سورج کے زوال تک کھانے پینے سے پرہیز کیا جائے اور پھر اسی غذا میں سے کھایا جائے جو سوگوار افراد کھایا کرتے ہیں۔

(میزان الحکمه ، ج8 ، ص3783)

ایک عالم دین نے فرمایا ہے کہ: سات محرم الحرام سے امام حسین (ع) پر پانی بند کیا گیا تھا، لہذا روز عاشورا تک آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ پانی پینے سے پرہیز کریں بے شک دوسری حلال مشروبات سے استفادہ کریں لیکن آقا و سید و سرور اور آپ (ع) کے خاندان و اصحاب احترام میں پانی پینے سے اجتناب کریں۔

13۔ روز عاشورا تسلیت و تعزیت کا دن:

روز عاشورا زیارت تسلیت پڑھ لینی چاہیے اور روز عاشورا توسل کر کے اصلاح احوال، عزاداری و عبادات کی قبولیت اور اپنی کوتاہیوں اور کم عملیوں یا گناہوں بحق امام حسین کا واسطہ دے کر اپنی اور تمام مؤمنین کے لیے مغفرت طلب کرنی چاہیے۔

ترجمه المراقبات ، ص53 – 47

محرم کی عزاداری سے مراد وہ مراسم ہیں جنہیں شیعہ اور چہ بسا غیر شیعہ حضرات محرم الحرام میں شہدائے کربلا کی یاد میں منعقد کرتے ہیں۔ عزاداری کی ان محافل میں عموما مرثیوں، نوحوں اور کربلا کے واقعے میں پیش آنے والے واقعات اور مصائب کو ذکر کرنے کے ذریعے امام حسین (ع) پر گریہ و زاری کی جاتی ہے۔ محرم الحرام کی نویں اور دسویں تاریخ کو ان مراسم میں شدت آتی ہے اور دنیا کے شیعہ اکثریتی ممالک یا مناطق میں ان دو ایام میں سرکاری طور پر تمام ادارے اور دکانیں بند ہوتی ہیں اور لوگ گلیوں اور سڑکوں پر نکل کر جلوس اور ماتمی دستے برآمد کرتے ہیں، جس میں علم حضرت عباس، حضرت امام حسین (ع) کا تابوت، حضرت علی اصغر کے جھولے اور حضرت عباس کے مشکیزے وغیرہ کی شبیہ بنا کر ماتم کرتے ہیں۔ ماتمی دستوں کو سیراب کرنے کیلئے پانی کی سبیل اور نذر و نیاز کے مختلف سفرہ جات بھی ان مراسم کا حصہ ہے جن میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔