حضرت عباس(ع) کی مختصر سوانح حیات

حضرت عباس(ع) کی مختصر سوانح حیات

کئی سال حضرت زہراء (س) کی شہادت کو گزر چکے تھے۔ حضرت علی(ع) نے فاطمہ(س) دختر پیغمبر(ص) کی شہادت کے بعد دس سال تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی اور ہمیشہ ان کے فراق میں مغموم تھے۔

خاندان پیغمبر کے لیے حیرت انگیز مقام تھا اس لیے کہ اس خاندان کے بزرگ بغیر زوجہ کے زندگی بسر کر رہے تھے۔ بالاخر ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے جناب عقیل کو بلایا کہ جو نسب شناسی میں ماہر تھے اور قبیلوں کی اخلاقی خصیوصیات اور ان کے مختلف خصائل سے آشنا تھے۔ اور ان سے کہا: ہمارے لیے ایسے خاندان کی خاتون تلاش کرو جو شجاعت اور دلیری میں بے مثال ہو تا کہ اس خاتون سے ایک بہادر اور شجاع فرزند پیدا ہو۔

کچھ عرصہ کے بعد جناب عقیل نے قبیلہ بنی کلاب کی ایک خاتون کی امیر المومنین (ع) کو پہچان کروائی کہ جس کا نام بھی فاطمہ تھا جس کے آباؤ واجداد عرب کے شجاع اور بہادر لوگ تھے۔ ماں کی طرف سے بھی عظمت و نجابت کی حامل تھی۔ اسے فاطمہ کلابیہ کہا جاتا تھا۔ اور بعد میں ام البنین کے نام سے شہرت پا گئی۔

جناب عقیل رشتہ کے لیے اس کے باپ کے پاس گئے اس نے بڑے ہی فخر سے اس رشتہ کو قبول کیا اور مثبت جواب دیا۔ حضرت علی (ع) نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی۔ فاطمہ کلابیہ نہایت ہی نجیب اور پاکدامن خاتون تھیں۔ شادی کے بعد جب امیر المومنین (ع) کے گھر میں آئیں امام حسن اور حسین (ع) بیمار تھے۔ اس نے ان کی خدمت اور دیکھ بال کرنا شروع کر دیا۔

کہتے ہیں کہ جب انہیں فاطمہ کے نام سے بلایا جاتا تھا تو کہتی تھیں: مجھے فاطمہ کے نام سے نہ پکارو کبھی تمہارے لیے تمہاری ماں فاطمہ کا غم تازہ نہ ہوجائے۔ میں تمہاری خادمہ ہوں۔

امام علی (ع) کی اس شادی کے بعد اسے اللہ نے چار بیٹوں سے نوازا: عباس، عبد اللہ، جعفر اور عثمان۔ جو چاروں کے چاروں بعد میں کربلا میں شہید ہو گئے۔ عباس کہ جن کی خوبیوں اور فضیلتوں کے بارے میں یہاں پر گفتگو کرنا مقصود ہے اس شادی کا پہلا ثمرہ اور جناب ام البنین کے پہلے بیٹے ہیں۔

فاطمہ کلابیہ خاندان پیغمبر میں قدم رکھنے کے بعد با فضیلت اور باکرامت خاتون  بن گئی ۔اور خاندان پیغمبر کے لیے نہایت درجہ احترام کی قائل تھی۔ اس نے گھرانہ وحی میں قدم رکھتے ہی  یہ پہچان لیا کہ اجر رسالت مودت اہلبیت ہے۔ اس نے حسنین اور زینب و کلثوم کے لیے حقیقی ماں کا فریضہ ادا کیا۔ اور اپنے آپ کو ہمیشہ ان کی خادمہ قرار دیا۔ امیر المؤمنین کی نسبت اس کی وفا بھی حد درجہ کی تھی۔ امام علی (ع) کی شہادت کے بعد امام کے احترام میں اور اپنی حرمت کو باقی رکھنے کی خاطر اس نے دوسری شادی بھی نہیں کی۔ اگرچہ  دیر تک (تقریبا بیس سال ) ان کے بعد زندہ رہیں۔

ام البنین کے ایمان اور فرزندان رسول کی نسبت محبت کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ انہیں اپنی اولاد پر ترجیح دی جب واقعہ کربلا در پیش آیا تو اپنے بیٹوں کو امام حسین (ع) پر قربان ہونے خاص تاکید کی اور ہمیشہ جو لوگ کربلا اور کوفہ سے خبریں لے کر آ رہے تھے ان سے سب سے پہلے امام حسین (ع) کے بارے میں سوال کرتی تھیں۔

عباس بن علی(ع) ایسی ماں کا بیٹا تھا۔ اور علی (ع) جیسے باپ کا فرزند تھا۔ اور دست قدرت نے بھی اس کی سر نوشت میں وفا، ایمان، اور شہامت و شجاعت کو لکھ دیا تھا۔

عباس کی ولادت نے خانہ علی (ع) کو نور امید سے روشن کر دیا۔ اس لیے کہ امیر المؤمنین (ع) دیکھ رہے تھے کہ کربلا پیش آنے والی ہے یہ بیٹا حسین کا علمبردار ہو گا۔ اور علی (ع)کا عباس فاطمہ زہرا (س) کےحسین (ع) پر قربان ہو گا۔

امیر المؤمنین (ع) کبھی کبھی جناب عباس کو اپنی گود میں بٹھاتے تھے اور ان کی آستین کو پیچھے الٹ کر بوسہ دیتے تھے۔ اور آنسو بہاتے تھے۔

جناب عباس نے علی (ع) کے گھر میں حسنین(ع) کے ساتھ تربیت حاصل کی اور عترت رسول سے درس انسانیت ،شہامت، صداقت اور اخلاق کو حاصل کیا۔

امام علی (ع) کی اس خصوصی تربیت نے اس نوجوان کی روحی اور روانی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا جناب عباس کا وہ عظیم فہم و ادراک اسی تربیت کا نتیجہ تھا۔

ایک دن امیر المومنین (ع) عباس کو اپنے پاس بٹھائے ہوئے تھے حضرت زینب(س) بھی موجود تھیں امام نے اس بچے سے کہا: کہو ایک، عباس نے کہا : ایک، فرمایا : کہو دو، عباس نے دو کہنے سے منع کر دیا۔ اور کہا مجھے شرم آتی ہے جس زبان سے خدا کو ایک کہا اسی زبان سے دو کہوں۔ امام، عباس کی اس زیرکی اور ذہانت سے خوش ہوئے اور پیشانی کو چوم لیا۔

آپ کی ذاتی استعداد اور خاندانی تربیت اس بات کا باعث بنی کہ جسمی رشد و نمو کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معنوی رشد و نمو بھی کمال کی طرف بڑھی۔ جناب عباس نہ صرف قد و قامت میں ممتاز اور منفرد تھے بلکہ خرد مندی، دانائی اور انسانی کمالات میں بھی منفرد تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کس دن کے لیے پیدا ہوئے ہیں تا کہ اس دن حجت خدا کی نصرت میں جانثاری کریں۔ وہ عاشورا ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔

شائد علی(ع)اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب آپ کی تمام اولاد آپ کے اطراف میں نگراں و پریشاں اور گریہ کناں حالت میں جمع تھی، عباس کا ہاتھ حسین کے ہاتھ میں دیا ہو گا اور یہ وصیت کی ہو گی عباس تم اور تمہارا حسین کربلا میں ہوں گے کبھی اس سے جدا نہیں ہونا اور اسے اکیلا نہ چھوڑنا۔

جوانی کی بہار:

جب سے عباس نے دنیا میں آنکھیں کھولیں امیر المؤمنین(ع) اور امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو اپنے اطراف دیکھا اور ان کی مہر و محبت کے سائے میں پروان چڑھے اور امامت کے چشمہ علم و معرفت سے سیراب ہوتے رہے۔

چودہ سال زندگی کے جناب امیر کے ساتھ گزارے ۔ جب علی (ع) جنگوں میں مصروف تھے تو کہتے ہیں کہ عباس بھی ان کے ساتھ جنگوں میں شریک تھے حالانکہ بارہ سال کے نوجوان تھے۔ نوجوانی کے زمانے سے ہی حضرت امیر (ع) نے انہیں شجاعت اور بہادری کے گر سکھا رکھے تھے۔ جنگوں میں حضرت علی (ع) انہیں جنگ کی اجازت نہیں دیتے تھے انہیں کربلا کے لیے ذخیرہ کر رکھا تھا۔

تاریخ نے اس نوجوان کے بعض کرشمے جنگ صفین میں ثبت کیے ہیں کہ جب آپ بارہ سال کے تھے۔

مگر آپ کے بھتیجےجناب قاسم تیرہ سال کے نہیں تھے کہ جنہوں نے اپنے چچا کی رکاب میں شجاعت کے وہ جوہر دکھلائے کہ دشمن دھنگ رہ گئے؟ مگر آپ کے والد علی (ع) نوجوان نہیں تھے جب جنگ بدر و احد،اور خیبر و خندق میں مرحب و عمر بن عبد ودّ جیسے نامی گرامی پہلوانوں کے ساتھ مقابلہ کر کے انہیں واصل جہنم کر کے پرچم اسلام کو سربلندی عطا کرتے رہے ہیں؟ کیا جناب عباس کے نانہال والے قبیلہ بنی کلاب میں سے نہیں تھے جو شجاعت، بہادری اور شمشیر زنی میں معروف تھے؟۔ عباس شجاعت کے دو سمندروں کے آپس میں ٹکراؤں کا نام ہے عباس وہ ذات ہے جسے باپ کی طرف سے بنی ہاشم کی شجاعت ملی اور ماں کی طرف سے بنی کلاب کی شجاعت ملی۔

صفین کی جنگ کے دوران، ایک نوجوان امیر المؤمنین (ع) کے لشکر سے میدان میں نکلا کہ جس نے چہرے پر نقاب ڈال رکھی تھی جس کی ہیبت اور جلوہ سے دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور دور سے جا کر تماشا دیکھنے لگے۔ معاویہ کو غصہ آیا اس نے اپنی فوج کے شجاع ترین آدمی( ابن شعثاء) کو میدان میں جانے کا حکم دیا کہ جو ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کیا کرتا تھا۔ اس نے کہا : اے امیر لوگ مجھے دس ہزار آدمی کے برابر سمجھتے ہیں آپ کیسے حکم دے رہے ہیں کہ میں اس نوجوان کے ساتھ مقابلہ کرنے جاؤں؟ معاویہ نے کہا: پس کیا کروں؟ شعثاء نے کہا میرے سات بیٹے ہیں ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں تا کہ اس کا کام تمام کر دے۔ معاویہ نے کہا: بھیج دو۔ اس نے ایک کو بھیجا۔ اس نوجوان نے پہلے وار میں اسے واصل جہنم کر دیا۔ دوسرے کو بھیجا وہ بھی قتل ہو گیا تیسرے کو بھیجا چھوتے کو یہاں تک کہ ساتوں بیٹے اس نوجوان کے ہاتھوں واصل جہنم ہو گئے۔

معاویہ کی فوج میں زلزلہ آ گیا۔ آخر کار خود ابن شعثاء میدان میں آیا یہ رجز پڑھتا ہوا : اے جوان تو نے میرے تمام بیٹوں کو قتل کیا ہے خدا کی قسم تمہارے ماں باپ کو تمہاری عزا میں بٹھاؤں گا۔ اس نے تیزی سے حملہ کیا تلواریں بجلی کی طرح چمکنے لگیں آخر کار اس نوجوان نے ایک کاری ضربت سے ابن شعثاء کو بھی زمین بوس کر دیا۔ سب کے سب مبہوت رہ گئے امیر المؤمنین (ع) نے اسے واپس بلا لیا نقاب کو ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا۔ ہاں یہ نوجوان کون تھا یہ قمر بنی ہاشم ، یہ بارہ سال کا عباس یہ شیر خدا کا شیر تھا۔

نیز تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ صفین میں معاویہ کی فوج نے پانی پر قبضہ کر رکھا تھا جب امیر المؤمنین (ع) کی فوج کو پیاس لاحق ہوئی تو آپ نے امام حسین (ع) کی قیادت میں کچھ افراد کو پانی کے لیے بھیجا اور حضرت عباس امام حسین کے دائیں طرف تھے۔ جنہوں نے پانی کو باقی لشکر والوں کے لیے فراہم کیا۔

یہ ایام گزر گئے سن چالیس ہجری آ گئی مسجد کوفہ کا محراب رنگین ہو گیا۔ جب حضرت علی(ع) شہید ہوئے حضرت عباس چودہ سال کے تھے۔ بابا کی شہادت کا عظیم صدمہ برداشت کیا رات کے سناٹے میں جنازے کا دفن کرنا برداشت کیا۔ اب ہر مقام عباس کے لیے امتحان کی منزل ہے عباس ہر منزل پر اپنا لہو پی کر کے برداشت کر رہے ہیں۔ باپ کے بعد حسنین (ع) عباس کی پناگاہ ہیں۔ ان کے اشاروں پر عمل کر رہے ہیں اور ہرگز اپنے باپ کی وصیت جو 21 رمضان کو عاشورا کے سلسلے میں کی کہ حسین کو اکیلا نہ چھوڑنا فراموش نہیں کر رہے ہیں۔ وہ جانتے تھے سخترین ایام در پیش ہیں کمر ہمت کو مضبوطی سے باندھے رکھیں۔

وہ دس سال بھی سختیوں کے گزار دیے جب امام حسن علیہ السلام مقام امامت پر فائز تھے اور معاویہ کی طرف سے مسلسل فریب کاریاں امام کو اذیت کر رہی تھیں۔ بنی امیہ کا ظلم و ستم عروج پکڑ رہا تھا حجر بن عدی کو شہد کر دیا عمرو بن حمق خزاعی کو شہید کر دیا علویان کو قیدی بنایا جانے لگا۔ منبروں سے وعظ و نصیحت کے بدلے مولا علی کو سب وشتم کیا جانے لگا۔ عباس ان تمام واقعات کو آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور اپنا خون پی پی  کرانہیں تحمل کر رہےتھے۔ آخر وہ دن بھی دیکھنا پڑا جب امام حسن(ع) کو زہر دے دیا گیا اور ان کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر باہر آ گیا۔ جنازے کو تیر لگ گئے عباس تلوار کو نیام سے نہ نکال سکے۔

عباس کرتے بھی کیا جب بھی ہاتھ قبضہ شمشیر پر رکھا ہے حسین(ع) نے یہ کہہ کے روک دیا ہے کہ عباس ابھی جنگ کا وقت نہیں ہے۔ عباس صبر کرو۔ آخر کار جناب عباس ان تلخ ایام کو بھی امام حسین (ع) کی رہنمائی کے سائے میں گزار دیتے ہیں اور مسلسل تاریخ کے نشیب و فراز کا اپنی گہری نگاہوں سے مطالعہ کرتے ہیں۔

جناب عباس کی ازدواجی زندگی:

جناب عباس نے اٹھاراں سال کی عمر میں امام حسن (ع) کی امامت کے ابتدائی دور میں عبد اللہ بن عباس کی بیٹی لبابہ کے ساتھ شادی کی۔ عبد اللہ بن عباس راوی ا حادیث، مفسر قرآن اور امام علی (ع) کے بہترین شاگرد تھے۔ اس خاتون کی شخصیت بھی ایک علمی گھرانے میں پروان چڑھی تھی اور بہترین علم و ادب کے زیور سے آراستہ تھیں۔ جناب عباس کے ہاں دو بیٹے ہوئے عبید اللہ اور فضل جو بعد میں بزرگ علماء اور فضلاء میں سے شمار ہونے لگے۔ حضرت عباس کے پوتوں میں سے کچھ افراد  راویان احادیث اور اپنے زمانے کے برجستہ علماء میں سے شمار ہوتے تھے۔ یہ نور علوی جو جناب عباس کی صلب میں تھا نسل بعد نسل تجلی کرتا گیا۔ اور کبھی خاموش نہیں ہوا۔

آپ مدینہ میں ہی قبیلہ بنی ہاشم میں رہتے تھے۔ اور ہمیشہ امام حسین(ع) کے شانہ بہ شانہ رہے۔ جوانی کو امام کی خدمت میں گذار دیا۔ بنی ہاشم کے درمیان آپ کا خاص رعب اور دبدبہ تھا۔ جناب عباس بنی ہاشم کے تیس جوانوں کا حلقہ بنا کر ہمیشہ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ جو ہمیشہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ ساتھ رہتے اور ہر وقت ان کا دفاع کرنے کو تیار رہتے تھے۔ اور اس رات بھی جب ولید نے معاویہ کی مرگ کے بعد یزید کی بیعت کے لیے امام کو دار الخلافہ میں بلایا تیس جوان جناب عباس کی حکمرانی میں امام کےساتھ دار الخلافہ تک جاتے ہیں اور امام کے حکم کے مطابق اس کے باہر امام کے حکم جہاد کا انتظار کرتے ہیں۔ تا کہ اگر ضرورت پڑے تو فورا امام کا دفاع کرنے کو حاضر ہو جائیں۔ اور وہ لوگ جو مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا گئے وہ  بھی جناب عباس کی حکمرانی میں حرکت کر رہےتھے۔

یہ جناب عباس کی جوانی کے چند ایک گوشہ تھے جن کی طرف اشارہ کیا گیا۔ اس کے بعد واقعہ کربلا ہے کہ جہاں عباس پروانہ کی طرح امام حسین (ع) کے ارد گرد چکر کاٹ رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی میرے مولا کو گزند نہ پہنچا دے۔سلام ہو عباس کے کٹے ہوئے بازوں پر۔سلام ہو عباس کی جانثاری اور وفاداری پر۔

ایک دن امام سجاد (ع) کی نگاہ عبید اللہ بن عباس پر پڑتی ہے انکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور اپنے  چچا عباس کو یاد کر کے فرماتے ہیں:

رسول خدا(ص) کے لیے روز احد سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ اس دن آپ  کےچچا حضرت حمزہ کو کہ جو آپ کے شیر دلاور تھے شہید کر دیا گیا۔ بابا حسین کے لیے بھی کربلا سے زیادہ سخت دن نہیں تھا اس لیے اس دن عباس کو کہ حسین کا شیر دلاور تھا شہید کر دیا گیا۔

اس کے بعد فرمایا: خدا رحمت کرے چچا عباس کو کہ جنہوں نے اپنے بھائی کی راہ میں ایثار اور فداکاری کی۔ اور اپنی جان کو بھی دے دیا۔ اس طریقہ سے جانثاری کی کہ اپنے دونوں بازوں قلم کروا دیے۔ خداوند عالم نے انہیں بھی جعفر بن ابی طالب کی طرح دو پر دئیے ہیں کہ جن کے ذریعے جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں عباس کا خدا وند عالم کے ہاں ایسا عظیم مقام ہے جس پر تمام شہید روز قیامت رشک کریں گے۔

اور امام صادق (ع) نے جناب عباس کے بارے میں فرمایا:

«كان عمُّنا العبّاسُ نافذ البصيره صُلب الايمانِ، جاهد مع ابي‏عبدالله(ع) وابْلي’ بلاءاً حسناً ومضي شهيداً؛

ہمارے چچا عباس  بانفوذ بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے امام حسین کے ساتھ رہ کر راہ خدا میں جہاد کیا اور بہترین امتحان دیا اور مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔

حضرت علی(ع) کو اپنی مستجاب تمنا کی آمد پر خوشی:

جب امیر المؤمنین حضرت علی کو حضرت عباس کی ولادت کی بشارت دی گئی تو آپ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، جلدی گھر آئے بچے کو آغوش میں لیا اور نومولود کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہی، حضرت علی کا یہ طرز عمل شاید عام لوگوں کو معمولی لگے لیکن حضرت علی اپنی مستجاب دعا کو شروع تولد میں ہی یکتا پرستی کا سبق پڑھا رہے تھے، چونکہ حضرت علی اپنی دور رس معصوم نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ ان کا بیٹا عباس گوش شنوا اور چشم بینا رکھتے ہیں اور تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عباس نے اپنی پوری بابرکت زندگی میں ایک لحظہ کے لیے بھی حق کے راستے میں شک کا شکار نہیں ہوئے اور ہمیشہ اپنے امام وقت کی اطاعت اور پیروی میں زندگی گزاری۔ امام علی نے اپنے نو مولود کا نام عباس (یعنی بپھرا ہوا شیر) رکھا۔

عباس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی عصمت و طہارت کے سایہ تلے گذری۔ انہوں نے اس موقع سے اپنے لیے پورا فائدہ اٹھایا۔ باپ نے جس غرض کے لیے آپ کو مانگا تھا اس پر پورے اترے اور کربلا میں آپ نے وہ کردار ادا کیا جو رہتی دنیا تک دوسروں کے لیے نمونہ عمل کے طور پر باقی رہے گا۔

امام علی نے کان میں اذان و اقامت اور نامگذاری کے مراسم انجام دینے کے بعد حضرت عباس کو فرزند رسول ، لخت جگر بتول حضرت امام حسین کی آغوش میں دیا۔ آقا حسین نے اپنے قوت بازو کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیا، مولا حسین کی خوشبو محسوس کر کے حضرت عباس نے ولادت کے بعد پہلی بار آنکھیں کھولیں اور اپنے بھائی کے مبارک چہرے کی زیارت کی اس منظر کی شاعر نے یوں نقشہ کشی کی ہے:

ہے گود میں شبیر کے تصویر وفا کی

اک آنکھ ہے مسرور تو اک آنکھ ہے باکی

شاید حضرت عباس مولا حسین کی آغوش میں پہلی بار آنکھیں کھول کر اپنے مولا و آقا حسینؑ کے چہرے کی زیارت کے ساتھ، اپنے باپ کی تمنا اور آرزو پر پورا اترنے کا عہد و پیمان کر رہے تھے۔

حضرت عباس مختلف مراحل زندگی میں:

حضرت عباس نے اپنی زندگی میں بڑے نشیب و فراز دیکھے ۔ جب آپ نے اس دنیا میں قدم رکھا خاندان عصمت و طہارت کڑے وقت سے گذر رہا تھا۔ حضرت عباس کی پر فراز و نشیب زندگی کو پانچ مرحلوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:

1۔ حضرت عباس ماں کی آغوش میں:

حضرت علی نے اپنے بھائی عقیل کے مشورے سے جو علم انساب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ایک متقی و پرہیزگار گھر میں بہادر قبیلے کی نہایت ہی باوقار خاتون فاطمہ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے خالق سے آرزو کی کہ پروردگارا ! مجھے ایک ایسا فرزند عطا کر دے جو اسلام اور توحید کی سر بلندی کے لیے کربلا کے خونی معرکے میں رسول کے فرزند حسین کی نصرت و مدد کرے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت علی کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور فاطمہ کلابیہ(س) کے بطن سے اللہ تعالی نے چار بیٹے ان کو عطا فرمائے، جس کی بناء پر آپ کو ام البنین(س) کا لقب ملا، ام البنین(س) کے چاروں بیٹے شجاعت و دلیری میں زبان زد عام و خاص تھے ،اور سبھی نے معرکہ کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیا ، لیکن عباس ان سب میں نمایاں تھے، ماں نے ایک خاص طریقے پر ان کی تربیت اور پرورش کی چونکہ وہ جانتی تھیں کہ حضرت عباس ہی امیر المؤمنین کی مستجاب تمنا ہیں، اور انہیں ایک خاص مقصد اور ہدف کی تکمیل کے لیے تیار کرنا ہے ، لہذا بچپنے سے ہی عباس کی تربیت میں ایثار و فداکاری اور اپنے امام کے سامنے اطاعت اور سر تسلیم خم کرنے جیسی صفات کوٹ کوٹ کر بھر دی تھیں۔

ماں کے سامنے انوکھا واقعہ:

ایک بار جناب ام البنین (س) مادر حضرت عباس تشریف فرما تھیں، اور حضرت عباس کا بچپن تھا، حضرت علی نے اپنے فرزند کو گود میں بٹھایا اور آستین کو الٹ کر کے بازؤوں کی جانب حیران ہو کر دیکھنے لگے ، محو فکر ہیں اور پھر ان بازؤوں پر بوسے دینے لگے، ام البنین (س) نے آپ کا یہ انداز محبت دیکھ کر عرض کیا، مولا! یہ کیسا طریقہ محبت ہے ؟ یہ آستین کیوں الٹی جا رہی ہے ، یہ بازؤوں کو بوسے کیوں دیئے جا رہے ہیں؟! کیا ان میں کسی طرح کا عیب و نقص پایا جاتا ہے؟! امیر المؤمنین نے فرمایا: ام البنین اگر صبر و تحمل سے کام لو تو بتاؤنگا؟ "تمہارا یہ لال کربلا میں شہید کر دیا جائیگا اور اس کے شانے قلم ہوں گے، پروردگار انہیں دو پر عنایت کرے گا جس سے یہ حضرت جعفر طیار کی طرح جنت میں پرواز کرے گا۔

یہ وہ نازک لمحہ ہے جہاں ماں کی ممتا کے سامنے ایک طرف بیٹے کی شہادت ہے اور دوسری طرف امام حق کی نصرت ، وہ کتنی عظیم ماں ہو گی کہ جس نے نصرت امام کے لیے اپنی ممتا قربان کر دی اور آنسو نہ بہائے۔

2۔ عباس تربیت گاہ علوی میں:

اسلامی تاریخ کے تلخ ترین لمحات میں حضرت عباس نے آنکھیں کھولیں حضرت عباس کی ولادت اگر 23 سن ہجری کو درست مانی جائے تو آپ عمر کی حکومت کے آخری سالوں میں پیدا ہوئے اسی طرح آپ نے عثمان کے دور خلافت کو اچھی طرح سے اپنی تیز بین نگاہوں کے سامنے سے گزارا ،عثمان کی اقرباء پروری، اور خیر خواہ لوگوں کی نصیحتوں کو خلیفہ کی طرف سے بد بینی سے تعبیر کرنے جیسی صورت حال کو حضرت عباس نے قریب سے حس کیا اور جب انقلابیوں کے اصرار کے باوجود مروان کو اس کے عہدے سے نہ ہٹایا گیا تو انہوں نے خلیفہ کو محاصرے میں لے لیا اور عثمان کے قتل کے درپے ہوئے اور پانی روٹی کی ترسیل روک دی، تاریخ کے ان سخت حالات میں حضرت عباس دور سے صرف تماشائی بن کر نہ رہے بلکہ ہمیشہ اپنے باپ علی کے ساتھ سائے کی طرح رہے اور معاشرے میں کردار ادا کیا۔ جب عثمان کے محل اقامت کا محاصرہ کیا گیا ، حضرت عباس نے اپنے باپ کے حکم  کی تعمیل میں خلیفہ تک پانی اور غذا پہنچائی۔ عباس نے حادثہ قتل عثمان کو بھی دیکھا اور ان تمام حالات سے اپنے لیے آگاہی اور عبرت کا سامان مہیا کیا۔

آپ نے لوگوں کو حکومت عدل علوی کی برقراری کی طرف متوجہ اور اپنے باپ کے حق میں لوگوں کی بیعت کے مناظر کا بھی مشاہدہ کیا، اور ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی جانچا اور پرکھا کہ جنہوں نے مال دنیا اور ثروت اندوزی کی خاطر حکومت حق کی حمایت نہیں کی اور یا وہ لوگ جنہوں نے پہلے تو امام علی کی بیعت کی پھر جب دیکھا حکومت علوی میں اقربا پروری، ثروت اندوزی اور بیت المال لوٹنے کی کوئی گنجائش نہیں بیعت توڑی اور جنگ جمل کے ذریعے امام حق کا استقبال کیا۔ عباس بنو امیہ کی دغا بازیوں کو بھی سمجھ رہے تھے جو قتل عثمان کو بہانہ بنا کر نو پا علوی حکومت پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور خونخواہی عثمان کے نعرے کے ذریعے مظلوم نمائی کر رہے تھے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کر رہے تھے۔ حضرت عباس اپنے باپ علی مرتضی اور اپنے دونوں بھائیوں امام حسن اور امام حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان حالات میں بہترین کردار ادا کرتے رہے اور ایک لحظے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے، ایسا کرتے بھی کیسے آخر حضرت عباس نے حضرت علی جیسے باپ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی، علی کے نزدیک حکومت اور مال دنیا کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ وہ خلیفہ مسلمین ہونے کے باوجود ان کی خوراک خشک نان جو ہوا کرتی تھی، اور کبھی لذیذ کھانا تناول نہیں فرمایا۔ حضرت علی پر مسلط کردہ جنگوں میں بھی حضرت عباس ہمیشہ اپنے باپ کے ساتھ کوہ استوار کی طرح رہے۔

بعض تاریخی روایات کے مطابق جنگ صفین میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے، امام علی نے مختلف جنگوں میں عباس کو میدان میں جانے نہیں دیا شاید امام ؑ انہیں ایک خاص معرکہ کے لیے جو 61 ہجری میں وقوع پذیر ہونا تھا ، محفوظ کر رہے تھے۔ حضرت عباس نے اپنے بابا کی مظلومانہ شہادت کو بھی تحمل کیا اور بستر شہادت میں دوسرے فرزندوں کی طرح حضرت عباس نے بھی اپنے باپ کی وصیتوں کو سنا اور ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں حفظ کیا اور ان پر عمل پیرا رہے۔

3۔حضرت عباس ،امام حسن(ع) کی خدمت میں :

سن 40 ہجری 21 رمضان المبارک آل علی کے لیے نہایت ہی غمگین گھڑی تھی، چونکہ ابن ملجم کی زہر آلود تلوار کا وار کاری ثابت ہوا اور یوں خورشید عدالت نے غروب کیا۔ اور لوگوں نے امام حسن کے ہاتھ پر بیعت کی، عین اسی وقت معاویہ اور اس کے کارندے سیم و رز کے ذریعے رؤسا قبائل کو خریدنے میں سرگرم عمل ہوئے اور امام حسن کی بیعت کو کمزور اور لوگوں کی عقیدت کو امام حسن کے لیے سست کرنے لگے اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ کوفہ اور اس کے اطراف سے امام علی کی شہادت سے پہلے ایک لاکھ بیس ہزار لوگ معاویہ سے جنگ کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی لیکن آج ان میں سے صرف بارہ ہزار افراد کو (وہ بھی بڑی زحمت اور تگ و دو سے) جمع کیا۔

ماہ بی غروب ، عباس علی محمودی ، ص73

یوں لوگ انتظار سے پہلے ہی اپنے امام کو تنہا چھوڑ کر ان کے پاس سے ہٹ گئے ، یہاں تک کہ ان کے چچا کے بیٹے عبید اللہ بن عباس (جو سپاہ امام کے کمانڈر تھے ) کو بھی بھاری رقم رشوت دیکر خرید لیا۔ عبید اللہ بن عباس کی خیانت سے سپاہ امام کی رہی سہی ہمت بھی جاتی رہی ،دیکھتے ہی دیکھتے امام کے ایک اور کمانڈر بنام کندی 4 ہزار سپاہیوں کے ساتھ (جو شہر انبار میں مستقر تھے) معاویہ سے جا ملے ،اس سے بڑھ کر ان بے ایمان لوگوں نے مدائن کے نزدیک (ساباط) نامی گاؤں میں امام حسن کے خیمے پر حملہ کر کے آپ کے سجادہ کو پاؤں تلے سے باہر کھینچ نکالا اور آپ کو زمین پر گرا دیا اور خنجر سے آپ کی ران پر زخم لگا دیا، لوگوں کی بے وفائی ، معاویہ کے سیم و زر کے سامنے بک کر امام سے خیانت اور حتی آپ کے قتل کے درپے ہونا۔۔۔ ایسے عوامل تھے کہ امام حسن ؑ نے 25 ربیع الاول 41 ہجری کو معاویہ کے ساتھ صلح کی، اسی طرح حکومت عدل کہ جس کی امام علی نے بنیاد ڈالی تھی جو غریب اور بینوا لوگوں کی خوشبختی کی نوید تھی آج اختتام کو پہنچی ،پھر کیا تھا معاشرہ معاویہ اور اس کے بیٹے یزید کے ظلم و ستم کا شکار ہوا۔ ان تمام حالات اور مشکلات میں حضرت عباس اپنے بھائی امام حسن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لوگوں کو اصل حقیقت کی شناخت کی طرف دعوت دے رہے تھے،پکار پکار کر لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جہالت اور خوف کی قبر میں سوئے لوگ جاگ نہ سکے۔ لیکن جب معاویہ کے کارندے جیسے سمرۃ بن جندب،بسر بن ارطاۃ اور زیاد بن ابیہ کے تیغ تلے قتل عام ہوئے تو حکومت عدل علوی یاد آئی لیکن ............،

4۔ حضرت عباس امام حسین کی خدمت میں:

28 صفر سال 50 ہجری کو امام حسن کی شہادت واقع ہوئی ، امام حسین ، ابو الفضل العباس اور دوسرے سارے بنی ہاشم نے عزت و جلال کے ساتھ امام حسن کے بدن پاک کو مسجد النبی کی طرف تشییع کیا تا کہ نانا رسول اللہ کے جوار میں دفن کریں ، لیکن عائشہ نے امام کے مخالفوں کی مدد سے سبط رسول کے جنازے کو روکا اور آنحضرت کے جوار میں دفنانے سے منع کیا اور امام کے جنازے پر تیر باران کر کے ان کے جنازے کی بے حرمتی کی ،اس منظر کو دیکھ کر حضرت عباس کے جذبات تلوار چلانے کے متقاضی ہوئے ، حضرت عباس کو دیکھتے ہوئے جوانان بنی ہاشم نے بھی تلواریں نیام سے نکالنا چاہیں لیکن حضرت عباس کی  شجاعت ہمیشہ اطاعت امام کے سایہ تلے تھی ، امام حسین کے حکم پر حضرت عباس نے بنی ہاشم کے دوسرے جوانوں سمیت اپنی تلواروں کو نیام میں رکھا، چونکہ امام حسن کی وصیت تھی کہ ان کی وفات کے بعد اور دفن کے دوران خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہ گرے ، آپ کا جنازہ بقیع کی طرف لے جایا گیا اور وہیں پر آپ کا مرقد مطہر بنا ۔

حضرت عباس اپنے بھائی امام حسین کے عاشق و گرویدہ تھے اور سخت ترین حالات میں بھی آپ نے محبت و وفاداری کے وہ نقوش چھوڑے ہیں کہ اب لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے ۔

امام حسین اپنے بھائی امام حسن کی شہادت کے بعد دس سال تک معاویہ کی حکومت کے دوران مدینہ میں رہے اور تبلیغ دین اور تدریس معارف الہی میں مشغول رہے اور حضرت عباس ہمیشہ سائے کی طرح امام حسین کے ساتھ رہے ، انہوں نے کبھی بھی امام حسن اور امام حسین کو اپنے بھائی ہونے کی حیثیت سے نہیں دیکھا ، بلکہ ان کو فرزندان رسولخدا و بتول (س) و امام و مقتدائے خود سمجھ کر ان کی اطاعت و نصرت میں ہمہ وقت مصروف عمل رہے ۔ اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اپنے امام کی اطاعت اور ان کے اہداف کی تکمیل میں نچھاور کیا ۔ تبھی تو آئمہ اطہار کی لسان مبارک میں آپ عبد صالح سے ملقب ہوئے۔

قہرمان علقمہ ، آیت اللہ دکتر احمد بہشتی ، ص 189