حضرت امام حسین علیہ السلام کی حیات مبارکه

حضرت امام حسین علیہ السلام کی حیات مبارکه

حضرت امام حسین علیہ السلام

آپ اسلام کی بنیاد اور اس دنیائے اسلام کو نجات دلانے وا لے تھے جو امویوں کے ھاتھوں گرفتار ھوچکی تھی جو اس کو بدترین عذاب دے رھے تھے، اس کے بچوں کو قتل اور عورتوں کوزندہ رکھتے تھے، انھوں نے اللہ کے مال کواپنی بزرگی کا سبب بنایا، اس کے بندوں کو اپنا نوکر بنایا،نیک اور صالح افراد کو دور کر دیا، مسلمانوں کے درمیان خوف و دھشت پھیلائی ،عام شھروں میںقیدخانوں، جرائم،فقرو تنگدستی اور محرومیت کو رواج دیا،رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی آرزوحضرت امام حسین(ع)نے ان کامحکم عزم و ارادہ سے جواب دیا،آپ نے ایساعظیم انقلاب برپا کیا جس کے ذریعہ آپ(ع) نے کتاب خدا کی تشریح فرمائی اور اس کوصاحبان عقل کےلئے ما یہ  عبرت قرار دیا،ان کے محلوں کوجڑسے اکھاڑ پھینکا ، اُن کی عظمت و شوکت کی نشانیوں کو ختم کردیا، مسلمانوں کے درمیان سیا سی اور دینی شعور بیدار کیا، ان کو غلامی اور ذلت کے خوف سے آزاد کرایا،ان کو ان تمام منفی چیزوں سے آزاد کرایا جو ان کےلئے نقصان دہ تھیں،مسلمان پردے میں بیٹھنے کے بعد آن بان کے ساتھ چلنے لگے ،انھوں نے اس انقلاب کے پرتو میں اپنے حقوق کا نعرہ بلند کیا جن کاامویوں کے حکم سے خا تمہ ھو چکا تھاجنھوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور وہ کام انجام دیا جس کو وہ انجام نھیں دینا چا ہتے تھے ۔۔۔ھم اس امام عظیم کے کچھ اوصاف بیان کررھے ھیں جن کی قربانی ، عزم محکم ،صبراور انکار کے چرچے خاص و عام کی زبان پر ھیں ۔

نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حسین(ع) سے محبت

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتھا محبت کیا کرتے تھے آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ھیں :

۱۔جابر بن عبداللہ سے مروی ھے کہ رسول کا فرمان ھے :”من اراد ان ینظرالیٰ سید شباب اھل الجنة فلینظرالیٰ الحسین بن علی“۔[1]

”جوشخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چا ہتا ھے وہ حسین بن علی کے چھرے کو دیکھے“۔

۲۔ابو ھریرہ سے روایت ھے :میں نے دیکھا ھے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) امام حسین(ع) کو اپنی آغوش میں لئے ھوئے یہ فرما رھے تھے :”اللھم انی احِبُّہ فاحبّہ “۔[2]

”پروردگار میں اس سے محبت کرتا ھوں تو بھی اس سے محبت کر “۔

۳۔یعلی بن مرہ سے روایت ھے :ھم نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ ایک دعوت میں جا رھے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین(ع) سکوں سے کھیل رھے ھیں تو آپ نے کھڑے ھوکر اپنے دونوں ھاتھ امام(ع) کی طرف پھیلادئے ،آپ مسکرارھے تھے اور کہتے جا رھے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھرآؤیھاں تک کہ آپ نے امام حسین(ع) کو اپنی آغوش میں لے لیاایک ھاتھ ان کی ٹھڈی کے نیچے رکھا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لئے اور فرمایا:”حسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط“[3]۔

”حسین(ع) مجھ سے ھے اور میں حسین(ع)سے ھوںخدایاجو حسین(ع)محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین(ع) بیٹوں میں سے ایک بیٹا ھے “

یہ حدیث نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان عمیق رابطہ کی عکا سی کرتی ھے، لیکن اس حدیث میں نبی کا یہ فرمان کہ ”حسین منی “حسین مجھ سے ھے “اس سے نبی اور حسین(ع) کے مابین نسبی رابطہ مراد نھیں ھے چونکہ اس میں کو ئی فا ئدہ نھیں ھے بلکہ یہ بہت ھی گھری اور دقیق بات ھے کہ حسین(ع) نبی کی روح کے حا مل ھیںوہ معاشرئہ انسا نی کی اصلاح اور اس میں مسا وات کے قا ئل ھیں۔

لیکن آپ کا یہ فرمان:”وانا من حسین “”اور میں حسین سے ھوں “ اس کا مطلب یہ ھے کہ امام حسین علیہ السلام مستقبل میں اسلام کی راہ میں قربا نی دے کر رہتی تاریخ تک اسلام کو زندئہ جا وید کریں گے ، لہٰذا حقیقت میں نبی حسین(ع)سے ھیں کیونکہ امام حسین(ع) نے ھی آپ کے دین کو دوبارہ جلا بخشی ، ان طاغوتی حکومتوں کے چنگل سے رھا ئی دلائی جو دین کو مٹا نا اور زند گی کو جا ھلیت کے دور کی طرف پلٹانا چا ہتے تھے ، امام حسین(ع)نے قر بانی دے کر امویوں کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکا اور مسلمانوں کو ان کے ظلم و ستم سے آزاد کرایا۔

۴۔سلمان فا رسی سے روایت ھے :جب میں نبی کی خدمت میں حا ضر ھوا تو امام حسین(ع) آپ کی ران پر بیٹھے ھوئے تھے اور نبی آپ کے رخسار پر منھ ملتے ھوئے فر ما رھے تھے :

”انت سید ُبْنُ سَیَّد،انت امام بن امام،وَاَخُوْااِمَامٍ،وَاَبُوالاَئِمَةِ،وَاَنْتَ حُجَّةُ اللّٰہِ وَابْنُ حُجَّتِہِ،وَاَبُوْحُجَجٍ تِسْعَةٍ مِنْ صُلْبِکَ،تَاسِعُھُمْ قَائِمُھُمْ“۔[4]

”آپ سید بن سید،امام بن امام ،امام کے بھا ئی،ائمہ کے باپ ،آپ اللہ کی حجت اور اس کی حجت کے فرزند،اور اپنے صلب سے نو حجتوں کے باپ ھیں جن کا نواں قا ئم ھوگا “۔

۵۔ابن عباس سے مروی ھے :رسول اسلام اپنے کا ندھے پر حسین(ع) کو بٹھا ئے لئے جا رھے تھے تو ایک شخص نے کھا : ”نِعم المرکب رکبت یاغلام ،فاجا بہ الرسول :”ونعم الراکب ھُوَ“۔[5]

”کتنا اچھا مرکب (سواری )ھے جو اس بچہ کو اٹھا ئے ھوئے ھے، رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے جواب میں فرمایا:”یہ سوار بہت اچھا ھے “۔

۶۔رسول اللہ کا فرمان ھے :”ھذا(یعنی :الحسین(ع) )امام بن امام ابوائمةٍ تسعةٍ“۔[6]

”یہ یعنی امام حسین(ع) امام بن امام اور نو اماموں کے باپ ھیں“۔

۷۔یزید بن ابو زیاد سے روایت ھے :نبی اکر م(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) عا ئشہ کے گھر سے نکل کر حضرت فاطمہ زھرا(ع) کے بیت الشرف کی طرف سے گذرے تو آپ کے کانوں میں امام حسین(ع) کے گریہ کرنے کی آواز آ ئی، آپ بے چین ھوگئے اور جناب فاطمہ(ع) سے فر مایا:”اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَہُ یُوْذِیْنِیْ؟“۔[7]

”کیا تمھیں نھیں معلوم حسین کے رونے سے مجھ کو تکلیف ھو تی ھے “۔

یہ وہ بعض احا دیث تھیں جو رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے بیٹے امام حسین(ع) سے محبت کے سلسلہ میں بیان فرما ئی ھیں یہ شرافت و کرامت کے تمغے ھیں جو آپ(ع) نے اس فرزند کی گردن میں آویزاں کئے جو بنی امیہ کے خبیث افراد کے حملوں سے آپ(ع) کے اقدار کی حفاظت کر نے والا تھا ۔

نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا امام حسین(ع) کی شھا دت کی خبر دینا

نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے نواسے امام حسین(ع) کی شھا دت کواتنابیان کیاکہ مسلمانوں کو امام حسین(ع) کی شھادت کا یقین ھوگیا۔ابن عباس سے روایت ھے کہ ھمیں اس سلسلہ میں کو ئی شک و شبہ ھی نھیں تھا اور اھل بیت نے متعدد مرتبہ بیان فر مایا کہ حسین بن علی(ع) کربلا کے میدان میں قتل کر دئے جا ئیں گے۔[8]

آسمان سے نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو یہ خبر دی گئی کہ عنقریب تمھارے بیٹے پر مصیبتوں کے ایسے پھاڑ ٹوٹیں گے کہ اگر وہ پھاڑوں پرپڑتے تو وہ پگھل جا تے ،آپ نے متعدد مرتبہ امام حسین(ع) کے لئے گریہ کیا اس سلسلہ میں ھم آپ کے سا منے کچھ احا دیث پیس کر تے ھیں :

۱۔ام الفضل بنت حارث سے روایت ھے :میںامام حسین(ع) کو اپنی آغوش میں لئے ھوئے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خد مت میں پھنچی جب آپ میری طرف متوجہ ھوئے تو میں نے دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جا ری تھے ۔

میں نے عرض کیا :اے اللہ کے نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ھوں، آپ کو کیا مشکل پیش آگئی ھے ؟!

”اَتَانِیْ جبرئیلُ فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّ اُمَّتِیْ سَتَقْتُلُ ابنِیْ ھَذَا“میرے پا س جبرئیل آئے اور انھوں نے مجھ کو یہ خبر دی ھے کہ میری امت عنقریب اس کو قتل کردے گی “آپ نے امام حسین(ع)کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ھوئے فر مایا۔ام الفضل جزع و فزع کرتی ھو ئی کھنے لگی :اس کو یعنی حسین کو قتل کردے گی ؟

”نَعَم،وَاَتَانِیْ جِبْرَئِیْلُ بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِہِ حَمْرَاءَ “۔[9]”ھاں ،جبرئیل نے مجھے اس کی تربت کی سرخ مٹی لا کر دی ھے “ام الفضل گریہ و بکا کرنے لگی اور رسول بھی ان کے حزن و غم میں شریک ھوگئے ۔

۲۔ام المو منین ام سلمہ سے روایت ھے :ایک رات رسول اللہ سونے کےلئے بستر پر لیٹ گئے تو آپ مضطرب ھوکر بیدار ھوگئے ،اس کے بعد پھر لیٹ گئے اور پھلے سے زیادہ مضطرب ھونے کی صورت میں پھر بیدار ھوگئے ،پھر لیٹ گئے اور پھر بیدار ھوگئے حالانکہ آپ کے ھاتھ میں سرخ مٹی تھی جس کو آپ چوم رھے تھے[10] میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ یہ کیسی مٹی ھے ؟

”اَخْبَرَنِیْ جِبْرَئِیْلُ اَنَّ ھٰذَا(یعنی:الحسین(ع))یُقْتَلُ بِاَرْضِ الْعِرَاقِ۔فَقُلْتُ لِجِبْرَئِیْلَ : اَرِنِیْ تُرْبَةَ الْاَرْضِ الَّتِیْ یُقْتَلُ بِھَاْفَھٰذِہِ تُرْبَتُہُ “[11]

”مجھے جبرئیل نے یہ خبر دی ھے کہ اس (حسین(ع) )کو عراق کی سر زمین پر قتل کر دیا جا ئے گا ۔ میں نے جبرئیل سے عرض کیا :مجھے اس سر زمین کی مٹی دکھاؤ جس پر حسین قتل کیا جا ئے گا یہ اسی جگہ کی مٹی ھے “۔

۳۔ام سلمہ سے روایت ھے :ایک دن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) میرے گھر میں تشریف فر ما تھے تو آپ نے فر مایا:”لا یدخُلنَّ عَلَیَّ اَحَدُ“”میرے پا س کوئی نہ آئے “میں نے انتظار کیا پس حسین آئے اور آپ کے پا س پھنچ گئے ،میں نے نبی کی آواز سنی ،حسین ان کی آغوش میں(یا پھلو میں بیٹھے ھوئے )تھے  آپ حسین(ع) کے سر پر ھاتھ رکھے ھوئے گریہ کر رھے تھے ، میں نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں عرض کیا: خداکی قسم مجھ کو پتہ بھی نہ چل سکا اور حسین(ع) آ پ کے پا س آگئے ۔۔۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مجھ سے فر مایا:”اِنَّ جِبْرَئِیْلَ کَانَ مَعَنَافِیْ الْبَیْتِ فَقَالَ :اَتُحِبُّہُ ؟فَقُلْتُ : نَعَمْ۔فَقَالَ:اَمَااِنَّ اُمَّتَکَ سَتَقْتُلُہُ بِاَرْضٍ یُقَالُ لَھَاکَرْبَلَاءُ“۔

”جبرئیل گھر میں ھمارے پاس تھے تو انھوں نے کھا :کیا آپ حسین(ع) کو بہت زیادہ چاہتے ھیں ؟ میں نے کھا :ھاں ۔ تو جبرئیل نے کھا :آگاہ ھو جاؤ ! عنقریب آپ کی امت اس کو کر بلا نا می جگہ پر قتل کر دے گی “،جبرئیل نے اس جگہ کی مٹی رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو لا کر دی جس کو نبی نے مجھے دکھایا۔[12]

۴۔عائشہ سے روایت ھے:امام حسین(ع) آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں حاضر ھوئے تو آپ  نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو نیچے جھکنے کی طرف اشارہ کیا اور امام حسین(ع) آپ کے کندھے پر سوار ھوگئے توجبرئیل نے کھا : ”اے محمد! کیا آپ حسین(ع) سے محبت کرتے ھیں؟“ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:کیوں نھیں ،کیا میں اپنے بیٹے سے محبت نہ کروں؟“جبرئیل نے عرض کیا :آپ کی امت عنقریب آپ کے بعد اس کو قتل کردے گی “جبرئیل نے کچھ دیر کے بعد آپ کو سفید مٹی لا کر دی ۔

عرض کیا :اس سر زمین پر آپ کے فرزند کو قتل کیا جا ئے گا ،اور اس سر زمین کا نام کربلا ھے “ جب جبرئیل آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پاس سے چلے گئے تو وہ مٹی رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دست مبارک میں تھی اور آپ نے گریہ وبکا کرتے ھوئے فرمایا:اے عائشہ !جبرئیل نے مجھ کو خبر دی ھے کہ آپ کے بیٹے حسین کو کربلا کے میدان میں قتل کردیا جا ئے گا اور عنقریب میرے بعد میری امت میں فتنہ برپا ھوگا “۔

اس کے بعد نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے اصحاب کے پا س تشریف لے گئے جھاں پر حضرت علی(ع)،ابو بکر ، عمر ، حذیفہ ،عمار اورابوذرموجود تھے حالانکہ آپ گریہ فر ما رھے تھے، تو اصحاب نے سوال کیا :یارسول اللہ  آپ گریہ کیوں کر رھے ھیں ؟

آپ نے فرمایا:مجھے جبرئیل نے یہ خبر دی ھے کہ میرافرزند حسین(ع)کربلا کے میدان میں قتل کردیا جائے گا اور مجھے یہ مٹی لا کر دی ھے اور مجھ کو خبر دی ھے کہ ان کا مرقد بھی اسی زمین پر ھوگا “۔[13]

۵۔رسول خدا کی ایک زوجہ زینب بنت جحش سے مروی ھے :نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) محو خواب تھے اور حسین(ع) گھر میں آئے اور میں ان سے غافل رھی یھاں تک کہ نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کو اپنے شکم پر بیٹھالیا اس کے بعد نبی اکر م(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے نماز ادا کی تو ان کو ساتھ رکھایھاں تک کہ جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے تھے تو اس کو اپنی پیٹھ پر سوار کرتے تھے اور جب قیام کی حالت میں ھوتے تھے تو ان کو اٹھالیتے تھے ،جب آپ بیٹھتے تھے تو ان کو اپنے ھاتھوں پر اٹھاکر دعا کرتے تھے ۔۔۔جب نماز تمام ھو گئی تو میں نے آنحضرت سے عرض کیا :آج میں نے وہ چیزیں دیکھی ھیں جو اس سے پھلے کبھی نھیں دیکھی تھیں ؟تو آپ نے فرمایا:”جبرئیل نے میرے پاس آکر مجھے خبر دی کہ میرے بیٹے کو قتل کردیا جا ئیگا، میں نے عرض کیا: تو مجھے دکھائیے کھاں قتل کیا جائے گا؟تو آپ نے مجھے سرخ مٹی دکھا ئی “۔[14]

۶۔ابن عباس سے مروی ھے :حسین(ع) نبی کی آغوش میں تھے تو جبرئیل نے کھا :”کیا آپ ان سے محبت کرتے ھیں ؟“آنحضرت نے فرمایا:”میں کیسے اس سے محبت نہ کروں یہ میرے جگر کا ٹکڑا ھے “۔

جبرئیل نے کھا :”بیشک آپ کی امت عنقریب اس کو قتل کر دے گی، کیا میں اس کی قبر کی جگہ کی مٹی دکھاؤں؟“جب آپ (جبرئیل )نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں سرخ مٹی تھی “۔[15]

۷۔ابو اُ مامہ سے مروی ھے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنی ازواج سے فرمایا:اس بچہ کو رونے نہ دینا یعنی ”حسین(ع)کو“مروی ھے :ایک روز جبرئیل رسول اللہ کے پاس ام سلمہ کے گھر میں داخل ھوئے اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ام سلمہ سے فرمایا: ”کسی کو میرے پاس گھر میں نہ آنے دینا“،جب حسین(ع) گھر میں پھنچے اور نبی کو گھر میں دیکھا تو آپ ان کے پاس جانا ھی چا ہتے تھے کہ ام سلمہ نے آپ کو اپنی آغوش میں لے لیا ان کے سر پر ھاتھ پھیرا اور ان کو تسکین دینے لگی جب آپ زیادہ ضد کرنے لگے تو آپ کو چھوڑ دیاامام حسین(ع) جا کر نبی کی آغوش میں بیٹھ گئے تو جبرئیل نے کھا: ”آپ کی امت عنقریب آ پ کے اس فرزندکو قتل کردے گی ؟“۔

”میری امت اس کو قتل کردے گی حالانکہ وہ مجھ پر ایمان رکھتی ھے ؟“۔

۔”ھاں ،آپ کی امت اس کو قتل کردے گی۔۔۔“۔

جبرئیل نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کواس جگہ کی مٹی دیتے ھوئے فرمایا: اس طرح کی جگہ پرقتل کیا جائے گا، رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حسین(ع) کو پیار کرتے ھوئے نکلے ،آپ بے انتھا مغموم و رنجیدہ تھے۔ام سلمہ نے خیال کیا کہ نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ان کے پاس بچہ کے پھنچ جانے کی وجہ سے رنجیدہ ھوئے ھیں، لہٰذا ام سلمہ نے ان سے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ھوں ،آپ ھی کا تو فرمان ھے : ”میرے اس بچہ کو رونے نہ دینا “ اور آپ ھی نے تو مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں آپ کے پاس کسی کو نہ آنے دوں،حسین آگئے تو میں نے ان کو آپ کے پاس آنے دیا،نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو ئی جواب دئے بغیر اپنے اصحاب کے پاس پھنچے اور آپ نے بڑے رنج و غم کے عالم میں ان سے فرمایا:”میری امت اس کو قتل کردے گی “اورامام حسین(ع) کی طرف اشارہ فرمایا۔

ابوبکر اور عمر دونوں نے آنحضرت کے پاس جا کر عرض کیا :اے نبی خدا !وہ مو من ھیں یعنی مسلمان ھیں ؟

آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا : ”ھاں ،یہ اس جگہ کی مٹی ھے۔۔۔“

۸۔انس بن حارث سے مروی ھے :نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:”میرا یہ فرزند (حسین(ع) کی طرف اشارہ کیا )کربلا نام کی سر زمین پر قتل کیا جا ئے گا تم میں سے جو بھی اس وقت موجود ھو وہ اس کی مدد کرے “ جب امام حسین(ع) کربلا کےلئے نکلے تو آپ کے ساتھ انس بھی تھے جو آپ کے سامنے کربلا کے میدان میں شھید ھوئے ۔[16]

۹۔ام سلمہ سے مروی ھے :امام حسن(ع)اورامام حسین(ع)دونوں میرے گھر میں رسول اللہ کے سامنے کھیل رھے تھے تو جبرئیل نے نازل ھو کر فر مایا:”اے محمد !آپ کی امت آپ کے بعد آپ کے اس فرزند کو قتل کردے گی “اور حسین کی طرف اشارہ کیا آپ گریہ کرنے لگے ،حسین(ع) کو اپنے سینہ سے لگالیا آپ کے دست مبارک میں کچھ مٹی تھی جس کو آپ سونگھ رھے تھے ،اور فر مارھے تھے: ”کرب و بلا پر وائے ھو “آپ نے اس مٹی کو ام سلمہ کو دیتے ھوئے فرمایا:”جب یہ مٹی خون میں تبدیل ھوجائے تو سمجھ لینا کہ میرا فرزند قتل کردیا گیا ھے “ام سلمہ نے اس مٹی کو ایک شیشہ میں رکھ دیا ،آپ ھر روز اس کا مشاھدہ کرتی اور کہتی تھیں کہ دن یہ مٹی خون میں تبدیل ھو جا ئے گی وہ دن بہت ھی عظیم ھوگا۔[17]

۱۰۔نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے خواب میں دیکھا ایک کتا ان کے خون میں لوٹ رھا ھے ،تو آپ نے اس خواب کی یہ تعبیر فرما ئی: ایک برص کا مریض آپ کے بیٹے حسین(ع) کو قتل کرے گااور آپ کا یہ خواب حقیقی طور پر ثابت ھوا،آپ کے بیٹے حسین کو برص کے مرض میں مبتلا خبیث شمر بن ذی الجوشن نے قتل کیا۔[18]

یہ بعض رویات تھیں جن میں نبی اکر م(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے یہ اعلان فرما دیا تھا کہ آپ کے بیٹے امام حسین(ع) کو شھید کیا جا ئیگااور آپ اس دردناک واقعہ کی وجہ سے محزون و گریاں رھے۔

امام حسین(ع) اپنے والد بزرگوار کے ساتھ

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی عطوفت کے زیر سایہ پرورش پائی آپ کے والد بزرگوار آپ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ آپ نے جنگ صفین میں اپنے دونوں فرزندوں کو میدان جنگ میں حاضر ھونے کی اجازت نھیں دی کہ کھیںان کے شھید ھوجانے سے نسل رسول منقطع نہ ھو جائے، مولائے کائنات آپ اور آپ(ع) کے بھا ئی امام حسن(ع) کی تعریف کرتے تھے، آپنے ان دونوں کو اپنے فضائل و کمالات سے آراستہ کیااور اپنے آداب اور حکمتوں کے ذریعہ فیض پھنچایایھاں تک یہ دونوں آپ کے مانند ھو گئے ۔

امام حسین(ع) شجاعت ،عزت نفس ،غیرت اور نورانیت میں اپنے پدر بزرگوار کی شبیہ تھے ،آپ نے بنی امیہ کے سامنے سر جھکانے پر شھادت کو ترجیح دی ،جس کی بنا پر آپ نے ظاھری زندگی کو خیرآباد کھا اور راہِ خدا میں قربان ھونے کےلئے آمادہ ھو گئے ۔ھم اس سلسلہ میں ذیل میں قارئین کرام کےلئے کچھ مطالب پیش کرتے ھیں :

حضرت علی(ع) کا امام حسین(ع) کی شھادت کی خبر دینا

حضرت علی(ع) نے اپنے بیٹے ابوالاحرار کی شھادت کی خبر کو شایع کیا اس سلسلہ میں ھم امام حسین(ع) سے متعلق حضرت علی(ع) کی چند احا دیث بیان کرتے ھیں :

۱۔عبداللہ بن یحییٰ نے اپنے پدر بزرگوار سے نقل کیا ھے کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام کے ھمراہ صفین تک کاسفر طے کیا، یحییٰ کے والد مولائے کا ئنات کا لوٹا اپنے ساتھ رکھتے تھے، جب ھم نینوا کو پا ر کرچکے تو مو لائے کائنات نے بلند آواز میں فرمایا:اے ابو عبد اللہ ٹھھرو!اے ابو عبد اللہ ٹھھرو فرات کے کنارے پر“یحییٰ آپ کی طرف یہ کہتے ھوئے بڑھے :ابو عبداللہ کیا بات ھے ؟تو امام(ع) نے فرمایا:”میں ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں پھنچا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ آپ کو کسی نے رنجیدہ کردیا ھے ؟آپ کی آنکھوں میں آنسو کیسے ھیں ؟آنحضرت نے فرمایا:میرے پاس جبرئیل آئے اور انھوں نے مجھے خبر دار کیا ھے کہ حسین(ع) کو فرات کے کنارے قتل کردیا جا ئیگا،اور فرمایا:کیا تمھارے پاس اس جگہ کی مٹی ھے جس کامیں استشمام کروں؟جبرئیل نے جواب دیا :ھاں،تو مجھے ایک مٹھی خاک اس جگہ کی اٹھا کر دی لہٰذا میری آنکھیں آنسووں کو نھیں روک سکی “۔[19]

۲۔ھرثمہ بن سلیم سے مروی ھے کہ ھم جنگ صفین کےلئے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ چلے جب ھم کربلا میں پھنچے تو ھم نے نماز ادا کی، نماز کے بعد آپ(ع) نے اس جگہ کی مٹی کو اٹھایا اور اس کو سونگھنے کے بعد فرمایا:”اے زمین !تجھ سے ایک ایسی قوم محشور ھو گی جو بغیر حساب کے جنت میں جا ئیگی “

ھرثمہ کو امام(ع) کے اس فرمان پر تعجب ھوا ،اور امام کی بات بار بار اس کے ذھن میں آنے لگی ، جب وہ اپنے شھر میں پھنچے تو انھوں نے یہ حدیث اپنی زوجہ جرداء بنت سمیر کوجو امام کے شیعوں میں سے تھی کو سنا ئی ۔ اس نے کھا : اے شخص! ھم کو ھمارے حال پر چھوڑ دو ،بیشک امیرالمومنین حق کے علاوہ اور کچھ نھیں کہتے ،ابھی کچھ دن نھیں گذرے تھے کہ ابن زیاد نے اپنے لشکر کو فرزند رسول امام حسین(ع) کے ساتھ جنگ کر نے کےلئے بھیجا،ان میں ھر ثمہ بھی تھا جب وہ کر بلا پھنچا تو ان کو امیر المو منین (ع) کا فرمان یاد آگیااور ان کے فرزند ارجمندامام حسین(ع) سے جنگ کر نے کے لئے تیار نھیں ھوا ۔

اس کے بعد امام حسین(ع) کی خدمت اقدس میں پھنچا اور جو کچھ آپ کے پدربزرگوارسے سنا تھا اُن کے سامنے بیان کیاامام(ع) نے اس سے فرمایا: ”انت معنااوعلینا ؟“تو ھمارے ساتھ ھے یا ھمارے خلاف ھے “،ھر ثمہ نے کھا :نہ آپ کے ساتھ ھوں اور نہ آپ کے خلاف ھوں، بلکہ میں نے اپنے اھل و عیال کو چھوڑ دیا ھے اور اب ان کے سلسلہ میں ،میں ابن زیاد سے ڈررھا ھوں ،امام(ع) نے اس کو نصیحت کرتے ھوئے فرمایا: ”ولّ ھارباحتی لاتریٰ لنامقتلا،فوالذی نفس محمد بیدہ لایریٰ مقتلنا الیوم رجل ولایغیثنا الّاادخلہُ النار “ھر ثمہ وھاں سے جلد ھی چلا گیا اور اس نے امام کو قتل ھوتے ھوئے نھیں دیکھا۔[20]

۳۔ثابت بن سویدنے غفلہ سے روایت کی ھے : ایک دن حضرت علی(ع) نے خطبہ دیا تو آپ کے منبر کے پاس سے ایک شخص نے کھڑے ھو کر عرض کیا :یا امیر المو منین !میرا وا دی قریٰ کے پاس سے گذر ھوا تو میں نے خالد بن عرفطہ کو مرے ھوئے دیکھا! لہٰذا آپ(ع) اس کے لئے استغفار کردیجئے ۔

امام(ع) نے فرمایا :”خدا کی قسم وہ اس وقت تک نھیں مرے گا جب تک ایک گمراہ لشکر کی قیادت نہ کرلے اور اس کا پرچمدار حبیب بن حمار ھوگا ۔۔۔“۔

ایک شخص نے کھڑے ھوکر بلند آواز میں کھا :اے امیر المو منین میں حبیب بن حمار ھوں ،اور آپ(ع)کا شیعہ اور چا ھنے والا ھوں ۔۔۔

امام(ع) نے اس سے فرمایا :” تو حبیب بن حمار ھے؟“ ۔اس نے کھا :ھاں۔

امام(ع) نے کئی مرتبہ اس کی تکرار فر ما ئی اور حبیب نے ھر مرتبہ جواب دیا :ھاں ۔امام(ع) نے فرمایا :” خدا کی قسم تو پرچمدار ھوگا یا تجھ سے پرچم اٹھوایا جا ئے گا ،اور تجھے اس دروازے سے داخل کیا جا ئے گا ‘ ‘اور آپ نے مسجد کو فہ کے باب فیل کی طرف اشارہ کیا ۔

ثابت کا کھنا ھے : میں ابن زیاد کے زمانہ تک زندہ رھا اور اس نے عمر بن سعد کوامام حسین(ع) سے جنگ کرنے کے لئے بھیجااور خالد بن عُرفطہ کو ا پنے ھراول دستہ میںقرار دیااور حبیب بن حمار کو پرچمدار قراردیا،اور وہ باب فیل سے داخل ھوا ۔۔۔[21]

۴۔امیر المو منین(ع) نے براء بن عازب سے فرمایا:”اے براء !کیا حسین قتل کر دئے جا ئیں اور تم زندہرہتے ھوئے بھی ان کی مدد نہ کر سکو؟“۔

براء نے کھا : اے امیر المو منین ! ایسا نھیں ھو سکتا ،جب امام حسین(ع) شھید کئے گئے تو براء نادم ھوا اور اس کو امام امیر المو منین(ع) کا فرمان یاد آیااور اس نے کھا:سب سے بڑی حسرت یہ ھے کہ میں وھاں پر حا ضر نہ ھو سکا! ان کی جگہ میں قتل کر دیا جاتا ۔[22]

حضرت علی(ع) سے اس طرح کی متعدد احا دیث مروی ھیںجن میں فرزند رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) امام حسین کی کربلا میںشھادت کا اعلان کیا گیا ھے اور ھم نے اس سے متعلق احادیث اپنی کتاب (حیاة الامام الحسین(ع) ) میں بیان کی ھیں ۔

آپ کے ذاتی کمالات

وہ منفردصفات کمالات جن سے ابو الاحرارامام حسین(ع) کی شخصیت کو متصف کیا گیا درج ذیل ھیں :

۱۔قوت ارادہ

ابو الشھدا کی ذات میں قوت ارادہ ،عزم محکم و مصمم تھا،یہ مظھر آپ کو اپنے جد محترم رسول اسلام  سے میراث میں ملا تھا جنھوں نے تاریخ بدل دی ،زندگی کے مفھوم کو بدل دیا،تنھا ان طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ھوگئے جو آپ(ع) کو کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ کی تبلیغ کرنے سے روکتے تھے ، آپ نے ان کی پروا کئے بغیر اپنے چچا ابو طالب مو من قریش سے کھا :”خدا کی قسم اگر یہ مجھے دین اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لئے داھنے ھاتھ پر سورج اور با ئیں ھاتھ پر چاند بھی رکھ دیں گے تو بھی میں اسلام کی تبلیغ کرنے سے باز نھیں آو نگا جب تک کہ مجھے موت نہ آئے یا اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہ ھو جائے ۔۔۔“۔

پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس خدا ئی ارادہ سے شرک کا قلع و قمع کردیااور وقوع پذیر ھونے والی چیزوں پر غالب آگئے ،اسی طرح آپ کے عظیم نواسے امام حسین(ع) نے اموی حکومت کے سامنے کسی تردد کے بغیر یزید کی بیعت نہ کر نے کا اعلان فر مادیا،کلمہ حق کو بلند کرنے کےلئے اپنے بہت کم ناصرو مددگار کے ساتھ میدان جھاد میں قدم رکھااور کلمہ  باطل کو نیست و نابود کر دیا جبکہ امویوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کیا تھا وہ بھی امام کو اپنے مقصد سے نھیں رو ک سکا،اور آپ نے اس زندئہ جا وید کلمہ کے ذریعہ اعلان فر مایا : ”میں موت کوسعادت کے علاوہ اور کچھ نھیں دیکھتا ،اور ظالموں کے ساتھ زند گی بسر کرنا ذلت کے علاوہ اور کچھ نھیں ھے۔۔۔ “ ۔(اور آپ(ع) ھی کا فرمان ھے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ھے )۔

آپ پرچم اسلام کو بلند کر نے کےلئے اپنے اھل بیت خاندان عصمت و طھارت اور اصحاب کے ساتھ میدان میں تشریف لائے اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کی کوشش فرمائی ،امت اسلامیہ کی سب سے عظیم نصرت اور فتح دلائی یھاں تک کہ خود امام شھید ھوگئے ،آپ(ع) ارادہ میں سب سے زیادہ قوی تھے آپ(ع) پختہ ارادہ کے مالک تھے اور کسی طرح کے ایسے مصائب اور سختیوں کے سامنے نھیں جھکے جن سے عقلیں مدھوش اورصاحبانِ عقل حیرت زدہ ھوجاتے ھیں ۔

۲۔ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا

امام حسین(ع) کی ایک صفت ظلم و ستم سے منع کر نا تھی اسی وجہ سے آپ کو (ابو الضیم ) کا لقب دیا گیا، آپ کا یہ لقب لوگوں میں سب سے زیادہ مشھورو منتشر ھوا،آپ اس صفت کی سب سے اعلیٰ مثال تھے یعنی آپ ھی نے انسانی کرامت کا نعرہ لگایا،اور انسانیت کو عزت و شرف کا طریقہ دیا،آپ(ع) بنی امیہ کے بندروں کے سامنے نھیں جھکے اور نیزوں کے سایہ میں موت کی نیند سوگئے ،عبد العزیز بن نباتہ سعدی کا کھنا ھے :

والحسینُ الذی را ی الموت في العز

حیاةً وَالعیشَ في الذلِّ قتلا

”یعنی حسین وہ ھیں جنھوں نے عزت کی موت کو زندگی اورذلت کی زندگی سے بہتر سمجھا ھے “۔

مشھور و معروف مورّخ یعقوبی نے آپ کوشدید العزّت کی صفت سے متصف کیا ھے[23]۔

ابن ابی الحدید کا کھنا ھے :سید اھل اباء حضرت ابا عبد اللہ الحسین جنھوں نے لوگوں کو حمیت و غیرت کی تعلیم اور دنیوی ذلت کی زند گی کے مقابلہ میں تلواروں سے کٹ کر مرجانے کا درس دیا انھیں اور آپ کے اصحاب کو امان نامہ دیا گیا لیکن آپ نے ذلت اختیار نھیں فر ما ئی ،امام کو اس بات کا اندیشہ لا حق ھوا کہ ابن زیاد آپ کو قتل نہ کر کے ایک طرح کی ذلت سے دوچار کردے جس کی بنا پر جان فدا کرنے کو ترجیح دی ۔

ابو یزید یحییٰ بن زید علوی کا کھنا ھے :میرے والد ابو تمام نے محمد بن حمید طائی کے سلسلہ میں کھا ھے کہ انھوں نے تمام اشعار امام حسین(ع) کی شان میں کھے ھیں :

وقد کان فوت الموت سھلاً فردّہ

الیہ ِ الحفاظ المُرُّ وَالخُلُقُ الْوَعْرُ

وَنَفْسُ تعافُ الضَّیْمَ حتیّٰ کانّہُ

ھُو الکُفرُ یومَ الرَّوْعِ اَو دُونَہ الکُفرُ

فَاَثبت فی مستنقعِ الموتِ رِجْلَہُ

وَقَالَ لَھَا مِنْ تَحْتِ اَخمصکِ الحشْرُ

تردّیٰ ثِیَابَ الموْتِ حُمْراً فَمَا اَتیٰ

لَھَااللَّیْلُ اِلَّاوھی من سُنْدُسٍ خُضْرُ [24]

”آپ کے لئے مارے جانے سے بچنا آسان تھا لیکن آپ نے اس سے انکار کردیا۔

آپ نے نھایت مشکل کے ساتھ دین اسلام کی حفاظت کی ،اور خوش اخلاقی کے ساتھ بچایا ۔

آپ(ع) کا نفس ذلت قبول کرنے پرآمادہ نہ ھوا آپ کے نزدیک ذلت قبول کرناکفر یا کفر کی منزل میں تھا “۔

آپ نے خندہ پیشانی سے شھادت کا استقبال کیا۔

آپ نے سرخ موت کا لباس پھنا جبکہ یہ لباس بعد میں سبز رنگ میں تبدیل ھوگیا “ ۔

”ابوالاحرار“سرور آزادگان نے لوگوں کو ظلم کی مخالفت اور قربانی پیش کر نے کی تعلیم دی مصعب بن زبیر کا کھنا ھے کہ امام(ع) نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت اختیار فر ما ئی ۔[25]اس کے بعد یہ مثال بیان کی :

واِنَّ الاُلیٰ بالطَّفِّ من آل ھاشم

تاسوافسنّوالِلکِرامِ التَّآسیا

”کربلا میں بنی ھاشم نے فدا کاری کی اور نیک صفت افراد کےلئے فدا کاری کی رسم رائج کی “۔

روز عاشورہ آپ کی تقریریں اتنی حیرت انگیز تھیں جن کی مثال عزت و بلندی نفس اور دشمن کا منھ  توڑجواب دینے کے متعلق عربی ادب میں نھیں ملتی:”آگاہ ھوجاؤ بیشک ولد الزنا ابن ولد الزنا نے مجھے شھادت اور ذلت کے مابین لا کر کھڑا کردیا ،ھم ذلت سے دور ھیں ،اللہ ،اس کا رسول اور مو منین ذلت سے انکار کرتے ھیں ،ان کی پاک و پاکیزہ آغوش ،ان کی غیرت و حمیت کمینوں کی اطاعت کو بزرگوں کی شھادت پر ترجیح دینے سے انکار کر تی ھے “۔

آپ(ع) روز عاشورہ اموی لشکر کے بھیڑیا صفت درندوں کے درمیان ایک کوہ ھمالیہ کی مانند کھڑے ھوئے تھے اور آپ نے ان کے درمیان عزت و شرافت ،کرامت و بزرگی ،ظلم و ستم کی مخالفت سے متعلق عظیم الشان خطبے ارشاد فرمائے :”واللّٰہ لا اعطیکم بیدی اِعطاءَ الذَّلِیْلِ،ولااَفِرُّ فِرارالعبیدِ،اِنی عذت بربی وربِّکُمْ اَنْ ترجُمُوْنَ۔۔۔“۔

امام کی زبان سے یہ روشن و منور کلمات اس وقت جاری ھوئے جب آپ کرامت و بلندی کی آخری حدوں پر فا ئز تھے جس کا تصور بھی ممکن نھیں ھے اور ان کلمات کو تاریخ اسلام نے ھر دور کے لئے ایک زندہ و پا ئندہ شجاعت اور بھا دری کے کارناموں کے طور پر اپنے دامن میں محفوظ رکھاھے ۔

شعرائے اھل بیت(ع) نے اس واقعہ کی منظر کشی کے سلسلہ میں مسابقہ کیا لہٰذا ان کے کھے ھوئے اشعار، عربی ادب کے مدوّن مصادرمیں بہت قیمتی ذخیرہ ھیں، سید حیدر حلی نے اس دا ئمی واقعہ کی منظر کشی کرتے ھوئے اپنے جد کا یوںمرثیہ پڑھا:

طَمَعَتْ اَنْ تَسُوْمَہُ الْقَوْمُ ضَیْماً

وابیٰ اللّٰہُ وَالحُسَامُ الصَّنِیْعُ

کیفَ یلویْ علیٰ الدَّنِیَّةِ جِیِّداً

لِسَوَ ی اللّٰہِ مَا لَوَا ہُ الخُضُوْعُ

وَلَدَیْہِ جَاْ شُ اَرَدُّ مِنَ الدِّرْعِ

لِظَما ی الْقَنَا وَ ھُنَّ شُرُوْعُ

وَبِہِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ

ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَھِيَ فِیْہِ تَضِیْعُ

فَاَبیٰ اَنْ یَعِیْشَ اِلَّا عَزِیْزاً

فَتَجَلّیَ الْکِفَاحُ وَھُوَ صَرِیْعُ[26]

”ستم پیشہ لوگ چا ہتے تھے کہ حسین(ع)اپنی غیرت کا سودا کر لیں جبکہ خدا اور شمشیر حسینی کا یہ منشا نھیں تھا

بھلا حسین کس طرح ذلت قبول کر لیتے جبکہ آپ غیر خدا کے سامنے کبھی نھیں جھکے تھے۔

آپ(ع) کے پاس سپر سے زیادہ مضبوط ھمتِ قلبی تھی وہ ابتدا سے ھی اس طرح جنگ کرتے تھے جس طرح پیاسا پانی کی طرف دوڑ کر جا رھا ھو ۔

زمین کے تنگ ھونے کے باوجود آپ(ع) کا سینہ کشادہ تھا۔

آپ(ع) عزت کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے آپ نے راہ حق میں جان پیش کر دی “

نفس کے کسی چیز کے انکار کر نے کی اس سے اچھی نقشہ کشی نھیں کی جاسکتی جو نقشہ کشی سید حیدر نے اموی حکومت کے امام حسین(ع) کی اھانت ،ان کو اپنے ظلم و جورکے سامنے جھکانے کے سلسلہ میں کی ھے لیکن یہ خدا کی مرضی نھیں تھی بلکہ خدا یھی چا ہتا تھا کہ آپ کوایسی عظیم عزت سے نوازے جو آپ کو نبوت سے وراثت میں ملی تھی اور آپ اسی بلند مقام اور مرتبہ پر باقی رھیںاسی لئے آپ نے اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے سر نھیںجھکایاتوپھرآپ بنی امیہ کے کمینوں کے سامنے کیسے سر جھکاتے ؟اور ان کی حکومت وسلطنت آپ کے عزم محکم کوکیسے ڈگمگا سکتی تھی ۔آپ کا بہترین شعر ھے :

وَبِہِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ

ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَھِيَ فِیْہِ تَضِیْعُ

شاعر کی اس تعبیر سے بڑھ کر کیا کو ئی اور تعبیر امام کی غیرت کو بیان کر سکتی ھے ؟اس شاعر نے تمام توانائیوں کو امام کے سینہ سے مختص کیا ھے زمین وسیع ھونے کے باوجود امام کے عزم و ارادہ کا مقابلہ نھیں کر سکتی تھی، اس شعر میں الفاظ بھی زیبا ھیں اور طبیعت انسا نی پر بھی بار نھیں ھیں ۔

مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کیجئے جن میں امام حسین(ع) کے انکار کی توصیف کی گئی ھے سید حیدر کہتے ھیں :

لقد ماتَ لکنْ مِیتَةُ ھاشمِیَّةً

لَھُمْ عُرِفَتْ تحتَ القنَا المُتَفَصِّدِ

کَرِیْمُ اَبِیْ شَمَّ الدَّنِیَّةِ اَنْفُہُ

فَاَشْمَمَہُ شَوْکَ الْوَسِیْجِ الْمُسَدَّدِ

وَقَالَ قِفِیْ یَا نَفْسُ وَقْفَةَ وَارِد

حِیاضَ الرَّدیٰ لَا وَقْفَةَ الْمُتَرَدِّدِ

رای اَنَّ ظَھَرَ الذُلِّ اَخْشَنُ مَرْکَباً

مِنَ الْمَوْتِ حیثُ المَوتُ مِنْہُ بِمَرْصَدِ

فَاَثَرَ اَنْ یسعیٰ علیٰ جَمْرَةِ الوَغیٰ

بِرِجلٍ ولَا یُعْطِي المُقَادَةَ عَنْ یَد[27]

” امام حسین(ع)مارے تو گئے لیکن ھا شمی انداز میں ،ان کا تعارف ھی نیزہ و شمشیر کوچلانے سے پسینہ میں شرابور ھوجانے سے ھوا ۔آپ کریم تھے اسی لئے آپ نے ذلت قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اسی لئے آپ(ع) کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ نے اپنے نفس سے مخاطب ھو کر فرمایااے نفس وا دی ھلاکت میں جانے سے رُک جا البتہ شک کرنے والے کے مانند مت رُک۔

آپ نے مشاھدہ کیا کہ مو ت کے مقابلہ میں ذلت قبول کرنازیادہ سخت ھے جبکہ موت آپ کے انتظار میں تھی ۔

اس وقت آپ نے خاردار راھوں میں پیدل چلنا گوارا کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ھاتھ میں دینا پسند نھیں کیا “۔

ھم نے ان اشعار سے زیادہ دقیق اور اچھے اشعار کا مطالعہ نھیں کیا،یہ اشعار امام کی غیرت اور عظمت نفس کو خو بصورت انداز میں بیان کر تے ھیں امام(ع) نے ذلت کی زندگی کے مقابلہ میں تلواروں کے سایہ میں جان دینے کو ترجیح دی اور اس سلسلہ میں آپ(ع) نے اپنے خاندان کے اُن شھداء کا راستہ اختیار فرمایاجو آپ سے پھلے جنگ کے میدانوں میں جا چکے تھے ۔

سید حیدر نے امام حسین(ع) کے انکار کی صفت کا یوں نقشہ کھینچا ھے کہ آپ نے پستی ،ظلم و ستم اور دوسروں کی حق تلفی کا انکار کیا ،تیروں اور تلواروں میں ستون کے مانند کھڑے ھوگئے ، کیونکہ ایسا کرنے میں غیرت و شرف و بزرگی محفوظ تھی اور اسی عمدہ صفت کا سھارا لیتے ھوئے سید حیدر نے امام(ع) کے انکار کی نقشہ کشی کی ھے ، وہ غیرت جو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ھو ئی تھی جیسا کہ دوسرے شاعروں میں بھی بھری ھو ئی تھی اور یہ بات یقینی ھے کہ آپ نے اس سلسلہ میں تکلف سے کام نھیں لیا بلکہ حقیقت بیان کی ھے ۔

سید حیدر نے درج ذیل دوسرے اشعار میں امام حسین(ع) کے اس انکار اور آپ کی بلندی ذات کو بیان کیا ھے اور شاید یہ امام(ع) کے سلسلہ میں کھا گیا بہترین مرثیہ ھو :

وَسامتہُ یرکبُ احدَی اثنتینْ

وقد صرَّتِ الحربُ اسنانھا

فَاِمَّا یُریٰ مُذْعِناًاَوْ تموتَ

نَفسُ ابی العزُّ اِذْعَانَھَا

فقالَ لھا اعْتَصِمِیْ بِالاِبَائْ

فَنَفْسُ الاَبِیَّ ومَا زَانَھَا

اِذَا لَمْ تَجِدْ غَیْرَ لِبْسِ الھَوَان

فَبِالْمَوْتِ تَنْزِعُ جُثْمَانَھَا

رَاَ القَتْلَ صَبْراً شَعَارَالکِرَامْ

وَفَخراً یَزِیْنُ لَھَا شَانَھَا

فَشَمَّرَ لِلْحَرْبِ فِیْ مَعْرَکٍ

بِہِ عَرَکَ الْمَوْتُ فُرْسَانَھَا

[28]”اس وقت آپ نے خار دار راھوں میںپیدل چلنا پسند کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ھاتھوں دینا پسند نھیں کیا۔

جنگ کے میدان میں امام حسین(ع) نے محسوس کیا کہ یاذلت محسوس کر نا پڑے گی یا عزت کے ساتھ جام شھا دت نوش کرنا پڑے گا۔

اس وقت آپ نے عزت و غیرت کا دامن تھا منے کا فیصلہ کیا ۔

کیونکہ غیرت مند انسان کو جب ذلت کا سامنا کر ناپڑجائے تو وہ اپنے لئے موت اختیار کرلیتا ھے آپ(ع) نے شھادت کو بزرگوں کی عادت اور اپنے لئے فخر محسوس کیا۔

اسی لئے آپ نے جنگ کےلئے کمر کس لی موت اور گھوڑے سواروںکے سامنے سخت جان ھوگئے“۔

امام(ع) کی شان میں سید حیدر کے مرثیے امت عربی کی میراث میں بڑے ھی مشھور و معروف ھیں،ان میں نئی افکار کو ڈھالا گیا ھے ،ان کے اجزاء کو بڑی ھی دقت نظری کے ساتھ مرتب و منظم کیا گیا ھے جس سے ان کو چار چاند لگ گئے اور (ان کے ھم عصرلوگوں کا کھنا ھے )قصیدہ کے ھر شعر میں مخصوص طور پر امام(ع) کا تذکرہ کیا گیا ھے ،عام لوگ ان اشعار کی اصلاح نھیں کر سکتے اور ان اشعار کا ھر کلمہ کمال اور انتھاء تک پھنچا ھوا ھے ۔

۲۔ شجاعت

بڑے بڑے صاحبان ِ فکر و نظرنے پور ی تاریخ میں ایسا شجاع اور ایسا بھادر انسان نھیں دیکھا ،امام حسین(ع) کی ذات با برکت تھی کربلا کے دن آپ نے وہ موقف اختیار فر مایاجس سے سب متحیر ھو گئے ، عقلیں مدھوش ھو کر رہ گئیں ،نسلیں آپ(ع) کی شجاعت اور محکم عزم کے متعلق متعجب ھوکر گفتگو کرنے لگیں ،لوگ آپ کی شجاعت کو آپ کے والد بزرگوار کی شجاعت پر فوقیت دینے لگے جس کے پوری دنیاکی ھر زبان میں چرچے تھے ۔

آپ کے ڈر پوک دشمن آپ کی شجاعت سے مبھوت ھو کر رہ گئے ،آپ ان ھوش اڑا دینے والی ذلت و خواری کے سامنے نھیں جھکے جن کی طرف سے مسلسل آپ پر حملے کئے جارھے تھے ،اور جتنی مصیبتیں بڑھتی جا رھی تھیں اتنا ھی آپ(ع) مسکرا رھے تھے ، جب آپ کے اصحاب اور اھل بیت(ع)کا خاتمہ ھوگیا اور (روایات کے مطابق )تیس ہزار کے لشکر نے آپ پر حملہ کیا تو آ پ نے تن تنھا ان پرایسا حملہ کیا،جس سے ان کے دلوں پر آپ کا خوف اور رعب طاری ھو گیا ،وہ آپ(ع) کے سامنے سے اس طرح بھاگے جارھے تھے جس طرح شیرِ غضبناک(روایات کی تعبیر کے مطابق) کے سامنے بکری بھاگتی ھوئی دکھا ئی دیتی ھے ،آپ(ع) ھر طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے جبل راسخ کی طرح کھڑے ھو گئے آپ(ع) کے وقار میں کو ئی کمی نھیں آئی ،آپ کا امر محکم و پا ئیدار اور مو ت کمزور ھو کر رہ گئی ۔

سید حیدرکہتے ھیں :

فَتَلقّی الجُمُوْعُ فَرداً ولٰکِنْ

کُلُّ عُضْوٍ فِی الرَّوعِ مِنْہُ جُمُوْعُ

رُمْحُہُ مِنْ بِنَائِہِ وَکَاَنَّ مِنْ

عَزْمِہِ حَدَّ سَیْفِہِ مَطْبُوْعُ

زَوَّ جَ السَّیْفَ بِالنُّفُوْسِ وَلٰکِنْ

مَھْرُھَالْمَوْتُ والخِضآبُ النَّجِیْعُ

”امام حسین(ع) نے گرچہ دشمنوں کی جماعت کا تنھا مقابلہ کیالیکن ھیبت کے لحاظ سے آپ(ع) کے بدن کا ھرحصہ کئی جماعتوں کے مانند تھا ۔

آپ(ع) کی انگلیوں کاپور پورنیزے کا کام کرتا تھااپنی بلند ھمت کی بنا پر آپ(ع) کو تلواروں کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑگئی تھی ۔

آپ(ع) نے اپنی تلوار کے ذریعہ دشمنوں کی صفوں میں تباھی مچا دی “۔

دوسرے اشعار میں سید حیدر کہتے ھیں :

رَکِیْنٌ وَلِلْاَرْضِ تَحْتَ الْکُماة

رَجِیْفْ یُزَلْزِلُ ثَھْلَانَھَا

اَقَرُّ عَلیٰ الارضِ مِنْ ظَھرِھَا

اِذَامَلْمَلَ الرُّعْبُ اَقْرَانَھَا

تَزِیْدُ الطَّلَاقَةُ فِیْ وَجْھِہِ

اِذَاغَیَّرَالْخَوْفُ اَلْوَانَھَا

”حالانکہ زمین مسلسل تھر ا رھی تھی لیکن آپ(ع) مضبوطی کے ساتھ پُر سکون تھے ۔

شدید خوف کے مقامات پر بھی آپ(ع) کا چھرہ کھِلا ھوا تھا “۔

جب ظلم و ستم و حق تلفی سے روکنے والے زخمی ھو کر زمین پر گرے اور خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر غش طاری ھو گیا تو پورا لشکر آپ(ع) کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آسکا ۔اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ھیں :

عفیراًمتی عا ینتہ الکُماة

یَخْتَطِفُ الرُّعْبُ اَلوانَھَا

فَما اَجَلَتِ الْحَرْبُ عَنْ مِثْلِہ

صَرِیْعاً یُجَبِّنُ شُجْعَانَھَا

”آپ(ع) زمین کربلا پر خاک آلود پڑے ھوئے تھے پھر بھی بڑے بڑے بھا در آپ(ع) کے نزدیک ھونے سے ڈر رھے تھے “۔

آپ نے اپنے اھل بیت(ع) اور اصحاب کے لئے اس عظیم روح کے ذریعہ ایسی غذا کا انتظام کیا کہ وہ شوق اور اخلاص کے ساتھ مرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کر نے لگے اور انھوں نے اپنے دل میں کسی کے ڈر اور خوف کا احساس نھیں کیاخود ان کے دشمنوں نے ان کی پا ئیداری اور خوف نہ کھانے کی شھادت دی اور کربلا کے میدان میںعمر بن سعد کے ساتھ جس ایک شخص نے یہ منظر دیکھا اس سے کھا گیا وائے ھو تم پر تم نے ذریت رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو قتل کر دیا؟

تو اس نے یوں جواب دیا:وہ سخت چٹان تھے ،جو ھم نے دیکھا اگر تم اس کا مشاھدہ کر تے تو جو کچھ ھم نے انجام دیا وھی تم انجام دیتے ،انھوں نے بھوکے شیر کی طرح ھاتھوں میں تلواریں لئے ھوئے لوگوں پر حملہ کیا تو وہ دا ئیں اور با ئیں طرف بھا گنے لگے ،موت کے گھاٹ اترنے لگے ،نہ انھوں نے امان قبول کی نہ مال کی طرف راغب ھوئے اُن کے اور موت کے درمیان نہ کو ئی فاصلہ باقی رہ گیا تھا اور نہ حکومت پر قبضہ کرنے میںکو ئی دیر تھی اگر ھم ایک لمحہ کےلئے بھی رُک جا تے ،اگر ھم ان سے رو گردانی کربھی لیتے تو بھی یہ لشکر والے اس میں مبتلا ھو جا تے۔[29]

بعض شعراء نے اس شاذ و نادر محکم و پا ئیداری کی یوں نقشہ کشی کی ھے :

فَلَوْوَقَفَتْ صُمُّ الْجِبَالِ مَکَانَھُمْ

لَمَادَتْ عَلیٰ سَھْلٍ وَدَکَّتْ عَلیٰ وَعْرِ

فَمِنْ قَائمٍ یَسْتَعْرِضُ النَّبْلُ وَجْھَہُ

وَمِنْ مُقْدِمٍ یَرْمِی الاَسِنَّةِ بِالصَّدْرٍِ

لشکر یزید کی جگہ اگر پھاڑ بھی ھوتے تو وہ بھی آپ کی بھادری کی وجہ سے ریزہ ریزہ ھو جاتے۔

آپ(ع) جب کھڑے ھوجاتے تھے تو سامنے سے تیر آنے لگتے تھے اور جب کبھی آگے بڑھنے لگتے تھے توآپ کے سینہ میں نیزے آکے لگنے لگتے تھے“۔

اور سید حیدر کا یہ شعر کتنا اچھا ھے :

دَکُّوا رُبَاھاً ثُمَّ قَالُوا لَھَا

وَقَدْ جَثَوا۔نَحْنُ مَکَانَ الرُّبَا!

”انھوں نے ٹیلوں کو ریزہ ریزہ کردیا ھے پھر جب اس پر بیٹھ گئے تو کھنے لگے ھم ٹیلے ھیں “۔

امام حسین(ع)نے فطرت بشری کی نادر استقامت و پا ئیداری کے ساتھ چیلنج پیش کرتے ھوئے موت کی کو ئی پروا نہ کی اور جب آپ(ع) پر دشمنوں کے تیروں کی بارش ھو رھی تھی تو اپنے اصحاب سے فرمایا:”قُوموُارحِمَکُم اللّٰہُ الیٰ المَوْتِ الَّذِیْ لَابُدَّ مِنْہُ فَاِنَّ ھٰذِہِ السّھَامَ رُسُلُ الْقَوْمِ اِلَیْکُمْ۔۔۔“۔

”تم پر خدا کی رحمت ھو اس مو ت کی جانب آگے بڑھوجس سے راہ فرار نھیں کیونکہ یہ تیر دشمنوں کی جانب سے تمھارے لئے موت کا پیغام ھیں “۔

حضرت امام حسین(ع) کااپنے اصحاب کو موت کی دعوت دینا گویا لذیذ چیز کی دعوت دینا تھا ،جس کی لذت آپ(ع) کے نزدیک حق تھی ،چونکہ آپ(ع) باطل کو نیست و نابود کرکے ان کے سامنے پروردگار کی دلیل پیش کرنا چاہتے تھے جو ان کی تخلیق کرنے والاھے ۔[30]

۴۔صراحت

حضرت امام حسین(ع)کی ایک صفت کلام میں صاف گوئی سے کام لینا تھی ،سلوک میں صراحت سے کام لینا ، اپنی پوری زند گی کے کسی لمحہ میں بھی نہ کسی کے سامنے جھکے اور نہ ھی کسی کو دھوکہ دیا،نہ سست راستہ اختیار کیا،آپ(ع) نے ھمیشہ ایسا واضح راستہ اختیار فر مایاجو آپ(ع) کے زندہ ضمیر کے ساتھ منسلک تھااور خود کو ان تمام چیزوں سے دور رکھا جن کا آپ(ع) کے دین اور خلق میں کوئی مقام نھیں تھا ،یہ آپ(ع) کے واضح راستہ کا ھی اثر تھا کہ یثرب کے حاکم یزید نے آپ کو رات کی تا ریکی میں بلایا،آپ(ع) کو معاویہ کے ھلاک ھونے کی خبر دی اور آپ سے رات کے گُھپ اندھیرے میںیزید کے لئے بیعت طلب کی تو آپ(ع) نے یہ فرماتے ھوئے انکار کردیا :”اے امیر ،ھم اھل بیت نبوت ھیں ، ھم معدن رسالت ھیں ،اللہ نے ھم ھی سے دنیا کا آغاز کیا اور ھم پر ھی اس کا خاتمہ ھوگا،یزید فاسق و فاجر ھے ،شارب الخمر ھے ،نفس محترم کا قاتل ھے وہ متجا ھر بالفسق ھے اور میرا جیسا اس جیسے کی بیعت نھیں کر سکتا “۔

ان کلمات کے ذریعہ آپ کی صاف گوئی ،بلندی  مقام اور حق کی راہ میں ٹکرانے کی طاقت کشف ھو ئی ۔

آپ کی ذات میںاسی صاف گو ئی کی عادت کے موجودھونے کایہ اثر تھا کہ جب آپ عراق کی طرف جارھے تھے تو راستہ میں آپ(ع) کو مسلم بن عقیل کے انتقال اور ان کو اھل کوفہ کے رسوا و ذلیل کرنے کی دردناک خبر ملی تو آپ نے ان افرادسے جنھوںنے حق کی حمایت کا راستہ اختیار نہ کرکے عفو کا راستہ اختیار کیا   فرمایا:”ھمارے شیعوں کو رسوا و ذلیل کیا تم میں سے جو جانا چاھے وہ چلا جائے ، تم پر کو ئی زبردستی نھیں ھے۔۔۔“۔

لالچی افراد آپ(ع) سے جدا ھو گئے ،صرف آپ(ع) کے ساتھ آپ(ع) کے منتخب اصحاب اور اھل بیت علیھم السلام[31] باقی رہ گئے ،آپ(ع) نے ان مشکل حالات میںدنیا پرست افراد سے اجتناب کیا جن میں آپ(ع) کو ناصر و مدد گار کی ضرورت تھی ، آپ(ع) نے سخت لمحات میں مکر و فریب سے اجتناب کیا آپ(ع) کا عقیدہ تھا کہ خدا پر ایمان رکھنے والے افراد کے لئے ایسا کرنا زیب نھیں دیتا۔

اسی صاف گوئی و صراحت کا اثر تھا کہ آپ(ع) نے محرم الحرام کی شب عاشورہ میں اپنے اھل بیت(ع) اور اصحاب کو جمع کر کے ان سے فرمایا کہ میں کل قتل کر دیا جاؤنگا اور جو میرے ساتھ ھیں وہ بھی کل قتل کردئے جائیںگے،آپ(ع) نے صاف طور پر ان کے سامنے اپناامر بیان فر ماتے ھوئے کھا کہ تم رات کی تاریکی میںمجھ سے جدا ھوجا ؤ ،تو اس عظیم خاندان نے آپ(ع) سے الگ ھونے سے منع کر دیا اور آپ(ع) کے سامنے شھادت پرمصر ھوئے ۔

حکومتیں ختم ھو گئیں بادشاہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن یہ بلند اخلاق باقی رھنے کے حقدارھیں جو کائنات میں ھمیشہ باقی رھیں گے ،کیونکہ یہ بلند و بالا اور اھم نمونے ھیں جن کے بغیر انسان کریم و شفیق نھیں ھو سکتا ۔

۵۔ حق کے سلسلہ میں استقامت

امام حسین(ع) کی اھم اور نمایاں صفت حق کے سلسلہ میں استقامت و پا ئیداری تھی ،آپ(ع) نے حق کی خاطر اس مشکل راستہ کو طے کیا،باطل کے قلعوں کو مسمار اور ظلم و جور کو نیست و نابود کر دیا ۔

آپ(ع) نے اپنے تمام مفاھیم میں حق کی بنیاد رکھی ،تیربرستے ھوئے میدان کو سر کیا،تاکہ اسلامی وطن میں حق کا بول بالا ھو،سخت دلی کے موج مارنے والے سمندر سے امت کو نجات دی جائے جس کے اطراف میں باطل قواعدو ضوابط معین کئے گئے تھے ،ظلم کا صفایا ھو،سرکشی کے آشیانہ کی فضا میں باطل کے اڈّے، ظلم کے ٹھکانے اور سرکشی کے آشیانے وجود میں آگئے تھے، امام(ع) نے ان سب سے روگردانی کی ھے ۔

امام(ع) نے امت کو باطل خرافات اور گمرا ھی میں غرق ھوتے دیکھا ،آپ(ع) کی زند گی میں کو ئی بھی مفھوم حق کے مفھوم سے زیادہ نمایاں شمار نھیں کیا جاتا تھا ،آپ(ع) حق کا پرچم بلند کر نے کے لئے قربانی اور فدیہ کے میدان میں تشریف لائے ،آپ(ع)نے اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے وقت اس نورانی مقصد کا یوں اعلان فرمایا:

”کیا تم نھیں دیکھ رھے ھو کہ نہ حق پر عمل کیا جا رھا ھے اورنہ ھی باطل سے منع کیا جا رھا ھے، جس سے مومن اللہ سے ملاقات کر نے کے لئے راغب ھو۔۔۔“۔

امام حسین(ع) کی شخصیت میں حق کا عنصر مو جود تھا ،اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے آپ(ع) کی ذات میں اس کریم صفت کا مشاھدہ فرمایا تھا ، (مو رخین کے بقول )آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)ھمیشہ امام(ع) کے گلوئے مبارک کے بوسے لیا کرتے تھے جس سے کلمة اللہ ادا ھوااور وہ حسین جس نے ھمیشہ کلمہ   حق کھا اور زمین پر عدل و حق کے چشمے بھائے ۔

۶۔ صبر

سید الشھدا کی ایک منفر د خاصیت دنیاکے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا ھے ،آپ(ع) نے صبر کی مٹھاس اپنے بچپن سے چکھی ،اپنے جد اور مادر گرامی کی مصیبتیں برداشت کیں ،اپنے پدر بزرگوار پرآنے والی سخت مصیبتوںکا مشاھدہ کیا،اپنے برادر بزرگوار کے دور میں صبر کا گھونٹ پیا ،ان کے لشکر کے ذریعہ آپ کو رسوا و ذلیل اورآپ(ع) سے غداری کرتے دیکھا یھاں تک کہ آپ(ع) صلح کرنے پر مجبور ھوگئے لیکن آپ اپنے برادر بزرگوار کے تمام آلام و مصائب میں شریک رھے ،یھاں تک کہ معاویہ نے امام حسن(ع)کو زھر ھلاھل دیدیا، آپ(ع) اپنے بھا ئی کا جنازہ اپنے جد کے پھلو میں دفن کرنے کے لئے لے کر چلے تو بنی امیہ نے آپ کا راستہ روکا اور امام حسن(ع) کے جنازہ کو ان کے جد کے پھلو میں دفن نھیں ھونے دیایہ آپ(ع) کے لئے سب سے بڑی مصیبت تھی ۔

آپ کے لئے سب سے عظیم مصیبت جس پر آپ(ع) نے صبر کیا وہ اسلام کے اصول و قوانین پرعمل نہ کرنا تھانیز آپ کے لئے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپ دیکھ رھے تھے کہ آپ(ع) کے جدبزرگوار کی طرف جھوٹی حدیثیں منسوب کی جا رھی ھیں جن کی بنا پر شریعت ا لٰھی مسخ ھو رھی تھی آپ(ع) نے اس المیہ کا بھی مشاھدہ کیا کہ آپ(ع) کے پدر بزرگوار پر منبروں سے سب و شتم کیاجارھا ھے نیز باغی” زیاد“شیعوں اور آپ(ع) کے چاھنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار رھاتھاچنانچہ آپ(ع) نے ان تمام مصائب و آلام پر صبر کیا ۔

جس سب سے سخت مصیبت پر آپ(ع) نے صبر کیا وہ دس محرم الحرام تھی مصیبتیں ختم ھونے کا نام نھیں لے رھی تھیں بلکہ مصیبتیں آپ کا طواف کر رھی تھیں آپ(ع) اپنی اولاد اور اھل بیت(ع)کے روشن و منورستاروں کے سامنے کھڑے تھے ،جب ان کی طرف تلواریں اور نیزے بڑھ رھے تھے تو آپ(ع) ان سے مخاطب ھو کر ان کو صبر اور استقامت کی تلقین کر رھے تھے :”اے میرے اھل بیت(ع) !صبر کرو ،اے میرے چچا کے بیٹوں! صبر کرو اس دن سے زیادہ سخت دن نھیں آئے گا “۔

آپ(ع) نے اپنی حقیقی بھن عقیلہ بنی ھاشم کو دیکھا کہ میرے خطبہ کے بعد ان کا دل رنج و غم سے بیٹھا جارھا ھے تو آپ(ع) جلدی سے ان کے پاس آئے اور جو اللہ نے آپ(ع) کی قسمت میں لکھ دیا تھا اس پر ھمیشہ صبرو رضا سے پیش آنے کا حکم دیا ۔

سب سے زیادہ خوفناک اور غم انگیز چیز جس پر امام(ع) نے صبر کیا وہ بچوں اور اھل وعیال کا پیاس سے بلبلانا تھا ،جوپیاس کی شدت سے فریاد کر رھے تھے، آپ ان کو صبرو استقامت کی تلقین کررھے تھے اور ان کو یہ خبر دے رھے تھے کہ ان تمام مصائب و آلام کو سھنے کے بعد ان کا مستقبل روشن و منور ھو جا ئے گا ۔

آپ(ع) نے اس وقت بھی صبر کا مظاھرہ کیا جب تمام اعداء ایک دم ٹوٹ پڑے تھے اور چاروں طرف سے آپ(ع) کو نیزے و تلوار مار رھے تھے اور آپ(ع) کا جسم اطھرپیاس کی شدت سے بے تاب ھو رھا تھا ۔

عاشور کے دن آپ(ع) کے صبرو استقامت کو انسانیت نے نہ پہچانا ۔

اربلی کا کھنا ھے :”امام حسین(ع) کی شجاعت کو نمونہ کے طور پر بیان کیا جا تا ھے اورجنگ و جدل میں آپ(ع) کے صبرکو گذشتہ اور آنے والی نسلیں سمجھنے سے عا جز ھیں “۔[32]

بیشک وہ کو نسا انسان ھے جو ایک مصیبت پڑنے پر صبر ،عزم اور قوت نفس کے دامن کو اپنے ھاتھ سے نھیں چھوڑتا اور اپنے کمزور نفس کے سامنے تسلیم ھو جاتا ھے لیکن امام حسین(ع) نے مصیبتوں میں کسی سے کو ئی مدد نھیں ما نگی، آپ(ع) نے انتھا ئی صبر سے کام لیا اگرامام(ع) پر پڑنے والی مصیبتوں میں سے اگر کو ئی مصیبت کسی دوسرے شخص پر پڑتی تو وہ انسان کتنا بھی صبر کرتا پھر بھی اس کی طاقتیں جواب دے جاتیںلیکن امام(ع)کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔

مو رخین کا کھنا ھے :آپ(ع) اس عمل میں منفرد تھے، آپ(ع) پرپڑنے والی کو ئی بھی مصیبت آپ(ع) کے عزم میں کو ئی رکاوٹ نہ لا سکی ،آپ(ع) کا فرزند ارجمند آپ(ع) کی زندگی میں مارا گیا لیکن آپ(ع) نے اس پر ذرا بھی رنجیدگی کا اظھار نھیں کیا آپ(ع) سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپ(ع) نے فرمایا:”بیشک ھم اھل بیت(ع) اللہ سے سوال کرتے ھیں تو وہ ھم کو عطا کرتا ھے اور جب وہ ھم سے ھماری محبوب چیز کو لینا چا ہتا ھے تو ھم اس پر راضی رہتے ھیں “۔[33]

آپ(ع)ھمیشہ اللہ کی قضا و قدر پر راضی رھے اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم رھے ،یھی اسلام کا جوھر اور ایمان کی انتھا ھے ۔

۷۔حلم

امام حسین(ع) کی بلند صفت اور آپ(ع) کے نمایاں خصوصیات میں سے ایک صفت حلم و بردباری ھے چنانچہ(راویوں کا  اس بات پر اجماع ھے کہ )برائی کرنے والے کا اس کی برائی سے اور گناہگار کا اس کے گناہ سے موازنہ نھیں کیاجا سکتا ،آپ(ع) سب کے ساتھ نیکی سے پیش آتے ان کو امر بالمعروف کیا کرتے تھے، حلم کے سلسلہ میں آپ(ع) کی شان آپ(ع) کے جد رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اللہ کے مثل تھی جن کے اخلاق و فضا ئل تمام انسانوں کے لئے تھے،چنانچہ آپ(ع) اس صفت کے ذریعہ مشھور و معروف ھوئے اور آپ(ع) کے بعض اصحاب نے اس صفت کو عروج پر پھنچایا،جو آپ(ع) کے ساتھ برا ئی سے پیش آتا آپ(ع) اس پر صلہ  رحم کرتے اور احسان فر ماتے ۔

مو رخین کا کھنا ھے: آپ(ع) کے بعض مو الی ایسی جنایت کرتے تھے جو تادیب کا سبب ھو تی تھی تو امام(ع) ان کو تا دیب کرنے کا حکم دیتے تھے ،ایک غلام نے آپ(ع) سے عرض کیا :اے میرے مولا و سردار خدا فر ماتا ھے :<والکاظمین الغیظ >امام حسین(ع) نے اپنی فیاضی پر مسکراتے ھوئے فر ما یا :خَلُّواعنہ ،فقد کظمت غیظی ۔۔۔“۔”اس کو آزاد کردو میں نے اپنے غصہ کو پی لیا ھے “۔

غلام نے جلدی سے کھا :<والعافین عن الناس >۔”اور لوگوں کو معاف کرنے والے ھیں“

”قد عفوت عنک “،(میں نے تجھے معاف کردیا )۔

غلام نے مزید احسان کی خو اھش کرتے ھوئے کھا:<واللّٰہُ یُحِبُّ المحسنین>[34]

”اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے “

”انت حرٌّلوجہ اللّٰہ ِ۔۔۔“۔”تو خدا کی راہ میں آزاد ھے “

پھر آپ(ع) نے اس کو ایسا انعام و اکرام دیاتا کہ وہ لوگوں سے سوال نہ کر سکے ۔

یہ آپ(ع) کا ایسا خُلق عظیم ھے جو کبھی آپ سے جدا نھیں ھو ا اور آپ ھمیشہ حلم سے پیش آتے رھے۔

۸۔تواضع

امام حسین(ع) بہت زیادہ متواضع تھے اور انانیت اور تکبر آپ(ع) کے پاس تک نھیں پھٹکتا تھا ،یہ صفت آپ(ع) کو اپنے جد بزرگوار رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے میراث میں ملی تھی جنھوں نے زمین پرفضائل اور بلند اخلاق کے اصول قائم کئے ۔راویوں نے آپ کے بلند اخلاق اور تواضع کے متعلق متعددواقعات بیان کئے ھیں ،ھم ان میں سے ذیل میں چند واقعات بیان کر رھے ھیں :

۱۔آپ(ع) کا مسکینوں کے پاس سے گذر ھوا جو کھانا کھا رھے تھے، انھوں نے آپ(ع) کو کھانا کھانے کے لئے کھا تو آپ(ع) اپنے مرکب سے اتر گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا،پھر ان سے فرمایا:”میں نے تمھاری دعوت قبول کی تو تم میری دعوت قبول کر و“ انھوں نے آپ(ع) کے کلام پر لبیک کھا اور آپ(ع) کے ساتھ آپ(ع) کے گھر تک آئے آپ(ع) نے اپنی زوجہ رباب سے فرمایا:”جو کچھ گھر میں موجود ھے وہ لا کر دیدو“۔ انھوں نے جو کچھ گھر میں رقم تھی وہ لا کر آپ(ع) کے حوالہ کر دی اور آپ(ع) نے وہ رقم ان سب کو دیدی۔[35]

۲۔ ایک مرتبہ آپ(ع) ان فقیروں کے پاس سے گذرے جو صدقہ کا کھانا کھا رھے تھے ،آپ(ع) نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آ پ(ع) کو کھانے کی دعوت دی توآپ(ع) ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا:”اگر یہ صدقہ نہ ھوتا تو میں آپ لوگوں کے ساتھ کھاتا “پھر آپ(ع) ان کو اپنے گھر تک لے کر آئے ان کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا اور ان کو درھم دینے کا حکم دیا ۔[36]

اس سلسلہ میں آپ(ع) نے اپنے جد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی اقتدا فر ما ئی ،ان کی ھدایات پر عمل پیرا ھوئے، (مو رخین کا کھنا ھے کہ )آپ(ع) غریبوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے اور ان کے ساتھ اٹھتے اور بیٹھتے تھے ھمیشہ ان پر احسان فر ماتے ان سے نیکی سے پیش آتے تھے یھاں تک کہ فقیر اپنے فقر سے بغاوت نہ کرتا اور مالدار اپنی دولت میں بخل نھیں کرتا تھا ۔

وعظ و ارشاد

امام حسین(ع) ھمیشہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے جیسا کہ آپ(ع) سے پھلے آپ(ع) کے پدربزرگوار لوگوں کو وعظ و نصیحت فر ماتے تھے ،جس سے ان کا ھدف لوگوں کے دلوں میں اچھا ئی کی رشد و نمو کر نا ،ان کو حق اور خیر کی طرف متوجہ کرنا اور ان سے شر ،غرور اورغصہ وغیرہ کو دور کر نا تھا۔ ھم ذیل میں آپ(ع) کی چند نصیحت بیان کر رھے ھیں :

امام(ع) کا فر مان ھے :”اے ابن آدم !غوروفکر کر اور کہہ :دنیا کے بادشاہ اور ان کے ارباب کھاں ھیںجو دنیامیں آباد تھے انھوں نے زمین میں بیلچے مارے اس میں درخت لگائے ،شھروں کو آباد کیا اور سب کچھ کر چلے گئے جبکہ وہ جانا نھیں چا ہتے تھے ،ان کی جگہ پر دوسرے افراد آگئے اور ھم بھی عنقریب اُن کے پاس جانے والے ھیں ۔

اے فرزند آدم! اپنی موت کو یاد کر اور اپنی قبر میں سونے کو یاد رکھ اور خدا کے سامنے کھڑے ھونے کو یاد کر ،جب تیرے اعضاء و جوارح تیرے خلاف گواھی دے رھے ھوں گے اور اس دن قدم لڑکھڑا رھے ھوں گے ،دل حلق تک آگئے ھوں گے، کچھ لوگوں کے چھرے سفید ھوں گے اور کچھ رو سیا ہ ھوں گے، ھر طرح کے راز ظا ھر ھو جا ئیں گے اور عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ ھوگا ۔

اے فرزند آدم ! اپنے آباء و اجداد کو یاد کر اور اپنی اولاد کے بارے میں سوچ کہ وہ کس طرح کے تھے اور کھاں گئے اور گویا عنقریب تم بھی اُ ن ھی کے پاس پھنچ جا ؤ گے اور عبرت لینے والوں کے لئے عبرت بن جا ؤ گے “۔

پھر آپ نے یہ اشعارپڑھے :

این الملوک التی عن حفظھا غفلت

حتیٰ سقاھا بکاس الموت ساقیھا؟

تلک المدائن فی الآفاق خالیة

عادت خراباًوذاقَ الْمَوْتِ بَانِیْھَا

اَموالنا لذوي الورّاثِ نَجْمَعُھَا

ودُورُنا لخراب الدھر نَبْنِیْھَا“[37]

”وہ بادشاہ کھاں گئے جو ان محلوں کی حفاظت سے غافل ھو گئے یھاں تک کہ موت نے اُن کو اپنی آغوش میں لے لیا ؟

وہ دور دراز کے شھر ویران ھو گئے اور ان کو بسانے والے موت کا مزہ چکھ چکے ۔

ھم دولت کووارثوں کے لئے اکٹھا کرتے ھیںاور اپنے گھر تباہ ھونے کے لئے بناتے ھیں “۔

یہ بہت سے وہ وعظ و نصیحت تھے جن سے آپ(ع) کا ھدف اور مقصد لوگوں کی اصلاح ان کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کرنا اور خواھشات نفس اور شر سے دور رکھنا تھا ۔

اقوال زرّین

پروردگار عالم نے امام حسین(ع) کو حکمت اور فصل الخطاب عطا فرمایا تھا، آپ(ع) اپنی زبان مبارک سے مواعظ ،آداب اور تمام اسوئہ حسنہ بیان فرماتے تھے ،آپ(ع) کی حکمت کے بعض کلمات قصار یہ ھیں :

۱۔امام حسین(ع) کا فرمان ھے :”تم عذر خو اھی کر نے سے پرھیز کرو ،بیشک مو من نہ برا کام انجام دیتا ھے اور نہ ھی عذر خوا ھی کرتا ھے ،اور منافق ھر روز برائی کرتا ھے اور عذر خوا ھی کرتا ھے۔۔۔“۔[38]

۲۔امام حسین(ع) فرماتے ھیں :”عاقل اس شخص سے گفتگو نھیں کرتا جس سے اسے اپنی تکذیب کا ڈرھو،اس چیز کے متعلق سوال نھیں کرتا جس کے اسے انکار کا ڈرھو ،اس شخص پر اعتماد نھیں کرتا جس کے دھوکہ دینے کا اسے خوف ھو اور اس چیز کی امید نھیں کرتا جس کی امید پر اسے اطمینان نہ ھو ۔۔۔“۔[39]

۳۔امام حسین(ع) کافرمان ھے :”پانچ چیزیں ایسی ھیں اگر وہ کسی میں نہ ھوں تو اس میں بہت سے نیک صفات نھیں ھوں گے عقل ،دین ،ادب ،حیا اور حُسن خلق “۔[40]

۴۔امام حسین(ع) فرماتے ھیں :”بخیل وہ ھے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے “۔[41]

۵۔امام حسین(ع) فرماتے ھیں :”ذلت کی زند گی سے عزت کی موت بہتر ھے “۔[42]

۶۔امام(ع) نے اس شخص سے فرمایا جو آپ(ع) سے کسی دوسرے شخص کی غیبت کر رھاتھا :”اے شخص غیبت کرنے سے باز آجا، بیشک یہ کتّوں کی غذا ھے ۔۔۔“۔[43]

حضرت امام حسین(ع) اورعمر

امام حسین(ع) ابھی جوان ھی تھے آپ(ع) جب بھی عمر کے پاس سے گذرتے تھے تو بہت ھی غمگین ورنجیدہ رہتے تھے، چونکہ وہ آپ(ع) کے پدر بزرگوار کی جگہ پر بیٹھاھوا تھاایک بار عمر منبر پر بیٹھا ھوا خطبہ دے رھا تھا تو امامحسین(ع) نے منبر کے پاس جا کر اس سے کھا :”میرے باپ کے منبر سے اتر اور اپنے باپ کے منبر پر جا کر بیٹھ۔۔۔“۔

امام حسین(ع) کے اس صواب دید پر عمر ہکاّ بکّا رہ گیااور آپ(ع) کی تصدیق کرتے ھوئے کھنے لگا :

آپ(ع) نے سچ کھا میرے باپ کے پاس منبر ھی نھیں تھا۔۔۔

عمر نے آپ(ع) کو اپنے پھلو میں بٹھاتے ھوئے آپ(ع) سے سوال کیا کہ آپ کو یہ بات کھنے کے لئے کس نے بھیجا :آپ(ع) کو اس بات کی کس نے تعلیم دی ؟

”خدا کی قسم مجھے یہ بات کسی نے نھیں سکھا ئی “۔

امام حسین(ع) بچپن میں ھی بہت زیادہ با شعور تھے، آپ(ع) نے اپنے جد کے منبر کے شایان شان اپنے پدربزرگوار کے علاوہ کسی کو نھیں پایا جو حکمت کے رائد اور نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے علم کے شھر کا دروازہ ھیں ۔

حضرت امام حسین(ع) معاویہ کے ساتھ

امت معاویہ کا شکار ھو کر رہ گئی ،اس کے ڈراؤنے حکم کے سامنے تسلیم ھو گئی ،جس میںفکری اور معاشرتی حقد وکینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا تھا اور جو کچھ اسلام نے امت کی اونچے پیمانہ پر تربیت اور ایسے بہترین اخلاق سے آراستہ کیا تھا اس کو امت کے دلوں سے نکال کر دور پھینک دیا اور اس نے مندرجہ ذیل سیاسی قوانین معین کئے :

۱۔اس نے اسلام کے متعلق سعی و کو شش کرنے والے ارکان حجر بن عدی ،میثم تمار ،رشید ہجری ، عمرو بن الحمق خزاعی اور ان کے مانند اسلا م کی بڑی بڑی شخصیتوں کو ھلاک کر نے کی ٹھان لی اور ان کو قربان گاہ میں لا کر قتل کر دیا،کیونکہ انھوں نے اس کے حکم کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور وہ اس کی ظلم و استبداد سے بھری ھو ئی سیاست سے ھلاک ھوئے ۔

۲۔اس نے اھل بیت(ع) کی اھمیت کو کم کرنا چا ھا جو اسلام اور معاشرہ کے لئے مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور جو امت کو ترقی کی راہ پر گا مزن کر نا چا ہتے تھے، اس امت کو ان سے حساس طور پر متعصب کردیا ،امت کے لئے مسلمانوں پر سب و شتم کرنا واجب قرار دیا ،ان کے بغض کو اسلامی حیات کا حصہ قرار دیا،اس نے اھل بیت(ع)کی شان و منزلت کو گھٹانے کےلئے تعلیم و تربیت اور وعظ و ارشاد کا نظام معین کیا اور ان (اھل بیت(ع) ) پر منبروں سے نماز جمعہ او ر عیدین وغیرہ میںسب و شتم کرنا واجب قرار دیا ۔

۳۔اسلام کے واقعی نو ر میں تغیر و تبدل کیا،تمام مفاھیم و تصورات کو بدل ڈالا ،اس نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے منسوب کر کے احا دیث گڑھنے والے معین کئے ،حدیث گڑھنے والے عقل اور سنت کے خلاف احادیث گڑھ کر بہت خوش ھوتے تھے ، بڑے افسوس کا مقا م ھے کہ ان گڑھی ھو ئی احادیث کو صحاح وغیرہ میں لکھ دیا گیا ،جن کتابوں کو بعض مو  لفین لکھنے کےلئے مجبور و ناچار ھو گئے اور ان میں ان گڑھی ھو ئی احادیث کو مدوّن کیاجو ان گڑھی ھو ئی باتوں پر دلالت کر تی ھیں ،ھمارے خیال میں یہ خوفناک نقشہ ایسی سب سے بڑی مصیبت ھے جس میں مسلمان گرفتار ھوئے اور مسلمان ان گڑھی ھوئی احادیث پر یہ عقیدہ رکھنے لگے کہ یہ ان کے دین کا جزء ھے اور وہ ان احا دیث سے بری الذمہ ھیں ۔

امام حسین(ع) کا معاویہ کے ساتھ مذاکرہ

امام حسین(ع) نے معاویہ سے سخت لہجہ میں مذاکرہ کیاجس سے اس کی سیاہ سیاست کا پردہ فاش ھو اجو اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے با لکل مخالف تھی اور جس میں اسلام کے بزرگان کے قتل کی خبریں مخفی تھیں،یہ معاویہ کی سیاست کا ایک اھم وثیقہ تھاجو معاویہ کے جرائم اور اس کی ھلاکت پر مشتمل تھا ،ھم نے اس کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب (حیاةالامام الحسین(ع) )میں بیان کیا ھے ۔

مکہ معظمہ میں سیاسی اجلاس

امام حسین(ع) نے مکہ میں ایک سیاسی اور عمو می اجلاس منعقد کیا جس میں حج کے زمانہ میں آئے ھوئے تمام مھا جرین و انصار وغیرہ اور کثیرتعدادنے شرکت کی ،امام حسین(ع) نے ان کے درمیان کھڑے ھوکر خطبہ دیا ، سرکش و باغی معاویہ کے زمانہ میں عترت رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر ڈھا ئے جانے والے مصائب و ظلم و ستم کے سلسلہ میں گفتگو فر ما ئی آپ(ع) کے خطبہ کے چند فقرے یہ ھیں :

”اس سرکش (معاویہ ) نے ھمارے اور ھمارے شیعوں کے ساتھ وہ کام انجام دئے جس کو تم نے دیکھا ،جس سے تم آگاہ ھو اور شاھد ھو ،اب میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کر نا چا ہتا ھوں ، اگر میں نے سچ بات کھی تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ کھا تو میری تکذیب کرنا ،میری بات سنو ، میرا قول لکھو ،پھر جب تم اپنے شھروں اور قبیلوں میں جاؤ تو لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور اس پر اعتماد کرے تو تم اس کو ھمارے حق کے سلسلہ میں جو کچھ جانتے ھواس سے آگاہ کرو اور اس کی طرف دعوت دومیں اس بات سے خوف کھاتا ھوں کہ اس امر کی تم کو تعلیم دی جائے اور یہ امر مغلوب ھو کر رہ جا ئے اور خدا وند عالم اپنے نور کو کا مل کر نے والا ھے چا ھے یہ بات کفار کو کتنی ھی نا گوار کیوں نہ ھو “۔

اجلاس کے آخر میں امام(ع) نے اھل بیت(ع)کے فضائل ذکر کئے جبکہ معاویہ نے اُن پر پردہ ڈالنا چاھا،اسلام میں منعقد ھونے والا یہ پھلا سیمینار تھا ۔

آپ کا یزید کی ولیعھدی کی مذمت کرنا

معاویہ نے یزید کو مسلمانوں کا خلیفہ معین کرنے کی بہت کو شش کی ،بادشاہت کو اپنی ذریت و نسل میں قرار دینے کے تمام امکانات فراھم کئے ،امام حسین(ع) نے اس کی سختی سے مخالفت کی اور اس کا انکار کیا چونکہ یزید میں مسلمانوں کا خلیفہ بننے کی ایک بھی صفت نھیں تھی اور امام حسین(ع)نے اس کے صفات یوں بیان فرمائے : وہ شرابی شکارچی،شیطان کا مطیع و فرماں بردار ،رحمن کی طاعت نہ کرنے والا ،فساد برپا کرنے والا،حدود الٰھی کو معطل کرنے والا ، مال غنیمت میں ذاتی طور پر تصرف کرنے والا حلال خدا کو حرام،اور حرام خدا کو حلال کرنے والا ھے [44]معاویہ نے امام حسین(ع) کو ھر طریقہ سے اس کے بیٹے یزید کی بیعت کرنے کےلئے قانع کر نا چاھا ،اس کے علاوہ اس کے پاس کو ئی اور چارہ نھیں تھا ۔

معاویہ کی ھلاکت

جب باغی معاویہ ھلاک ھو ا تو حاکم مدینہ ولید نے یزید کی بیعت لینے کےلئے امام حسین(ع) کو بلا بھیجا ، امام(ع) نے اس کا انکار کیا اور اس سے فر مایا:”ھم اھل بیت نبوت ،معدن رسالت اور مختلف الملائکہ ھیں،ھم ھی سے اللہ نے آغاز کیا اور ھم ھی پر اختتام ھوگا اور یزید فاسق ، شرابی ،نفس محترم کا قتل کرنے والا،متجاھر بالفسق (کھلم کھلا گناہ کرنے والا)ھے اور مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نھیں کرسکتا “۔[45]

جس طرح خاندان نبوت کے تمام افراد نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح امام حسین(ع) نے بھی اپنے بزرگوں کی اتباع کرتے ھوئے یزید کی بیعت کرنے سے انکار فرمادیا ۔

حضرت امام حسین(ع) کا انقلاب

امام حسین(ع) نے مسلمانوں کی کرامت و شرف کو پلٹانے ،ان کو امویوں کے ظلم و ستم سے نجات دینے کےلئے یزید کے خلاف ایک بہت بڑا انقلاب برپا کیا ،آپ(ع)نے اپنے اغراض و مقاصد کا اعلان کرتے ھوئے فرمایا:” انی لم اخرج۔۔۔“ ”میں سرکشی ،طغیان ،ظلم اور فساد کےلئے نھیں نکلا میں اپنے نانا کی امت میں اصلاح کےلئے نکلا ھوں ،میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکرنا چا ہتا ھوں میں اپنے نانا اور بابا کی روش پر چلنا چا ہتا ھوں “۔

امام حسین(ع) نے اپنا انقلاب اس لئے جاری رکھا تاکہ آپ ملکوں میں اصلاحی اقدامات کی بنیاد رکھیں ،لوگوں کے مابین معاشرہ میں حق کا بول بالا ھو ،اور وہ خوفناک منفی پھلو ختم ھو جا ئیں جن کو اموی حکام نے اسلامی حیات میں نافذ کر رکھا تھا ۔

جب امام حسین(ع) نے حجاز کو چھوڑ کر عراق جانے کا قصد کیا تو لوگوں کو جمع کرنے کا حکم دیا، بیت اللہ الحرام میں خلق کثیر جمع ھو گئی ،آپ(ع) نے ان کے درمیان ایک جاودانہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایاجس کے چند جملے یہ ھیں :”الحمد للّٰہ،وماشَاءَ اللّٰہ۔۔۔“ ”تمام تعریفیں خدا کے لئے ھیں ،ھر چیز مشیت الٰھی کے مطابق ھے خدا کی مرضی کے بغیر کو ئی قوت نھیں ،خدا کا درود و سلام اپنے نبی پر ، لوگوں کے لئے موت اسی طرح مقدر ھے جس طرح جوان عورت کے گلے میں ھار ھمیشہ رہتا ھے ،مجھے اپنے آباء واجداد سے ملنے کا اسی طرح شوق ھے جس طرح یعقوب ،یوسف(ع) سے ملنے کےلئے بے چین تھے ، مجھے راہِ خدا میں جان دینے کا اختیار دیدیا گیا ھے اور میں ایسا ھی کروںگا ،میں دیکھ رھاھوں کہ میدان کربلا میں میرا بدن پاش پاس کردیا جا ئے گا ،اور میری لاش کی بے حرمتی کی جا ئے گی ،میں اس فیصلہ پر راضی ھوں ،خدا کی خوشنودی ھم اھل بیت(ع)کی خو شنودی ھے، ھم خدا کے امتحان پر صبر کریں گے خدا ھم کو صابرین کا اجر عطا فرمائے گا ،رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے آپ کے بدن کا ٹکڑا جدا نھیں ھو سکتا ،بروز قیامت آپ کے بدن کے ٹکڑے اکٹھے کر دئے جا ئیں گے جن کی بنا پر آپ خوش ھوں گے اور اُ ن کے ذریعہ آپ کا وعدہ پورا ھوگا ،لہٰذا جو ھمارے ساتھ اپنی جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ھو اور خدا سے ملاقات کےلئے آمادہ ھو وہ ھمارے ساتھ چلنے کے لئے تیار رھے کہ میں کل صبح روانہ ھوجاؤں گا “۔

ھم نے اس سے فصیح و بلیغ خطبہ نھیں دیکھا ،امام(ع) نے اپنے شھادت کے ارادہ کا اظھار فرمایا،اللہ کی راہ میںزند گی کو کوئی اھمیت نھیں دی،موت کا استقبال کیا ،مو ت کو انسان کی زینت کےلئے اس کے گلے کے ھار سے زینت کے مانند قراردیا جو ھار لڑکیوں کی گردن کی زینت ھوتا ھے ،زمین کے اس جگہ کا تعارف کرایا جھاں پرآپ(ع) کا پاک و پاکیزہ خون بھے گا ،یہ جگہ نواویس اور کربلا کے درمیان ھے اس مقا م پر تلواریں اور نیزے آپ(ع) کے جسم طاھر پر لگیں گے، ھم اس خطبہ کی تحلیل اور اس کے کچھ گوشوں کا تذکرہ کتاب ” حیاة الامام الحسین “میں کرچکے ھیں۔

جب صبح نمودار ھو ئی تو امام حسین(ع) نے عراق کا رخ کیا ،آپ(ع) اپنی سواری کے ذریعہ کربلا پھنچے، آپ(ع) نے شھادت کے درجہ پر فائز ھونے کے لئے وھیں پر قیام کیا ،تاکہ آپ اپنے جد کے اس دین کو زندہ کرسکیں جس کو بنی امیہ کے سر پھرے بھیڑیوں نے مٹا نے کی ٹھان رکھی تھی۔

شھادت

فرزند رسول پر یکے بعد دیگرے مصیبتیں ٹوٹتی رھیں ،غم میں مبتلا کرنے والا ایک واقعہ تمام نھیں ھوتا تھا کہ اس سے سخت غم واندوہ میں مبتلا کرنے والے واقعات ٹوٹ پڑتے تھے ۔

امام حسین(ع) نے ان سخت لمحات میں بھی اس طرح مصائب کا سامنا کیا جیسا آپ سے پھلے کسی دینی رھنما نے نھیں کیا تھاچنانچہ اُن سخت لمحات میں سے کچھ سخت ترین لمحات یہ ھیں :

۱۔آپ مخدرات رسالت اور نبی کی ناموس کو اتنا خو فزدہ دیکھ رھے تھے جس کو اللہ کے علاوہ اور کو ئی نھیں جانتا ،ھر لمحہ ان کو یہ خیال تھا کہ ان کی عترت کاایک ایک ستارہ اپنے پاک خون میں ڈوب جائے گا،جیسے ھی وہ آخری رخصت کو آئیں گے ان کا خوف و دھشت اور بڑھ جا ئیگا چونکہ بے رحم دشمن ان کو چاروں طرف سے گھیر ے ھوئے تھے ،انھیںیہ نھیں معلوم تھا کہ والی و وارث کی شھادت کے بعد ان پر کیا گذرے گی، ا مام(ع) ان پر آنے والی تمام مصیبتوں سے آگاہ تھے ،لہٰذاآپ(ع) کا دل رنج و حسرت سے محزون ھورھا تھا، آپ(ع) ھمیشہ ان کو صبر و استقامت و پا ئیداری اورآہ و بکا کے ذریعہ اپنی عزت و آبرو میں کمی نہ آنے دینے کا حکم فر ما رھے تھے اور ان کو یہ تعلیم دے رھے تھے کہ خداوند عالم تم کو دشمنوں کے شرسے بچائے گا اور تمھاری حفاظت کرے گا ۔

۲۔بچے مار ڈالنے والی پیاس کی وجہ سے جاں بلب تھے ،جن کا کو ئی فریادرس نھیں تھا ،آپ(ع) کا عظیم قلب اپنے اطفال اوراھل و عیال پر رحم و عطوفت کی خاطر پگھل رھا تھااور بچے اپنی طاقت سے زیادہ مصیبت کا سامنا کر رھے تھے۔

۳۔مجرمین اشقیاء کاآپ(ع) کے اصحاب اور اھل بیت(ع) کو قتل کرنے کے بعد آپ کے بھتیجوں اور بھانجوں کے قتل کرنے کےلئے آگے بڑھ رھے تھے۔

۴۔آپ(ع) نے شدت کی پیاس برداشت کی ،مروی ھے کہ آپ(ع) کو آسمان پر دھوئیں کے علاوہ اور کچھ نظر نھیں آرھا تھا ،شدت پیاس سے آپ(ع) کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ھو گیا تھا ۔

شیخ شوستری کا کھنا ھے :امام حسین(ع) کے چار اعضاء سے پیاس کا اظھار ھو رھا تھا: پیاس کی شدت کی وجہ سے آپ(ع) کے ھونٹ خشک ھو گئے تھے، آپ کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ھو گیا تھا جیسا کہ خود آپ(ع) کا فرمان ھے جب آپ کھڑے ھوئے موت کے منتظر تھے اور آپ جانتے تھے کہ اس کے بعد مجھے زندہ نھیں رھنا ھے تو آپ(ع) نے یوںپیاس کااظھار فرمایا :”مجھے پانی کا ایک قطرہ دیدو،پیاس کی وجہ سے میرا جگر چھلنی ھو گیا ھے “، آپ(ع) کی زبان میں کا نٹے پڑگئے تھے جیسا کہ حدیث میں آیا ھے اور آپ(ع) کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا ۔[46]

۵۔جب آپ(ع) کے اھل بیت(ع)اور اصحاب شھید ھوگئے تو آپ(ع) نے اپنے خیموں کی طرف دیکھا تو ان کو خا لی پایااور زور زور سے رونے لگے ۔

فرزند رسول پر پڑنے والے ان تمام مصائب و آلام کو دیکھنے اور سننے کے بعدانسان کا نفس حسرت و یاس سے پگھل جاتا ھے ۔

صفی الدین کا کھنا ھے :امام حسین نے جو مصائب و آلام بر داشت کئے ان کوسننے کی دنیا کے کسی مسلمان میں طاقت نھیں ھے اور ایسا ممکن نھیں ھے کہ ان کو سن کراس کا دل پگھل نہ جائے ۔[47]

امام کا استغاثہ

امتحان دینے والے امام حسین(ع) نے اپنے اھل بیت(ع) اور اصحاب پر رنج و غم اور حسرت بھری نگاہ ڈالی، تو آپ(ع) نے مشاھدہ کیا کہ جس طرح حلال گوشت جانور ذبح ھونے کے بعد اپنے ھاتھ پیر زمین مارتا ھے وہ سب آفتاب کی شدت تمازت سے کربلا کی گرم ریت پر بلک رھے ھیں،آپ نے اپنے اھل و عیال کو بلند آواز سے گریہ کرتے دیکھا تو آپ(ع) نے حرم رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حامی و مدد گار مل جانے کے لئے یوں فریاد کرنا شروع کی :”ھل من ذاب یذب عن حرم رسولُ اللّٰہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ؟ھل من موحدٍ  یخاف اللّٰہ فینا؟ھل من مغیثٍ یرجوااللّٰہ فی اغاثتنا؟“۔[48]

اس استغاثہ و فریاد کا آپ(ع) پر ظلم و ستم کرنے اور گناھوں میں غرق ھونے والوں پر کو ئی اثر نھیں ھوا۔۔۔جب امام زین العابدین(ع) نے اپنے والد بزرگوار کی آواز استغاثہ سنی تو آپ اپنے بستر سے اٹھ کرشدت مرض کی وجہ سے عصا پر ٹیک لگاکر کھڑے ھوگئے ،امام حسین(ع) نے ان کو دیکھا اور اپنی بھن سیدہ ام کلثوم سے بلند آواز میں کھا :”ان کو روکو، کھیں زمین نسل آل محمد سے خالی نہ ھو جائے “،اور جلدی سے آگے بڑھ کر امام کو ان کے بستر پر لٹادیا ۔[49]

شیر خوار کی شھادت

ابو عبد اللہ کے صبر جیسا کو ن سا صبر ھو سکتا ھے ؟آپ(ع) نے یہ تمام مصائب کیسے برداشت کئے؟ آپ(ع) کے صبرسے کا ئنات عاجز ھے ،آپ(ع) کے صبر سے پھاڑکانپ گئے، آپ(ع) کے نزدیک سب سے زیادہ دردناک مصیبت آپ(ع) کے فرزند عبد اللہ شیر خوار کی مصیبت تھی جو بدر منیر کے مانند تھا،آپ(ع) نے اس کو آغوش میں لیا بہت زیادہ پیار کیا آخری مرتبہ الوداع کیا ،اس پر بیھوشی طاری تھی ،آنکھیں نیچے دھنس گئی تھیں، ھونٹ پیاس کی وجہ سے خشک ھو گئے تھے ،آپ نے اس کوھاتھوںپرلیا اور آفتاب کی تمازت سے بچانے کےلئے اس پرعبا کا دامن اڑھاکر قوم کے سامنے لے گئے، شاید وہ رحم کھا کر اس کوایک گھونٹ پانی پلا دیں،آپ نے ان سے بچہ کے لئے پا نی طلب کیا،ان مسخ شدہ لوگوں کے دل پر کو ئی اثر نھیں ھوا،باغی لعین حرملہ بن کاھل نے چلہ کمان میں تیر جوڑا،اس نے ھنستے ھوئے اپنے لعین دوستوں کے سامنے فخر کرتے ھوئے کھا :اس کو پکڑو ابھی پانی پلاتا ھوں ۔

(اے خدا !)اس نے بچہ کی گردن پر تیر مارا جیسے ھی بچہ کی گردن پر تیر لگا تو اس کے دونوں ھاتھ قماط (نو زائیدہ بچہ کے لپیٹنے کا کپڑا)سے باھر نکل گئے ، بچہ اپنے باپ کے سینہ پر ذبح کئے ھوئے پرندے کی طرح تڑپنے لگا ،اس نے آسمان کی طرف سر اٹھایااور باپ کے ھاتھوں پر دم توڑدیا۔۔۔یہ وہ منظر تھا جسے دیکھ کر دل پھٹ جاتے ھیں اور زبانوں پر تالے لگ جاتے ھیں،امام نے پاک خون سے بھرے ھوئے اپنے دونوں ھاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاکر وہ خون آسمان کی جانب پھینک دیااور ایک قطرہ بھی واپس زمین پر نہ آیا، جیسا کہ امام محمد باقر(ع)کا فرمان ھے کہ امام(ع) نے اپنے پرور دگار سے یوں مناجات فرما ئی :

”ھوّن۔۔۔“”میری مصیبتیں اس بنا پر آسان ھیں کہ اُن کو خدا دیکھ رھا ھے ،خدایا تیرے نزدیک یہ مصیبتیں ناقہ صالح کی قربانی سے کم نھیں ھونا چا ہئیں خدایا اگر تونے ھم سے کا میابی کو روک رکھا ھے تو اس مصیبت کو بہترین اجر کا سبب قرار دے ، ظالمین سے ھمارا انتقام لے ،دنیا میں نازل ھونے والی مصیبتوں کو آخرت کےلئے ذخیرہ قرار دے ،خدایا تو دیکھ رھا ھے کہ اِن لوگوں نے تیرے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شبیہ کو قتل کر ڈالا ھے “۔

امام حسین(ع) اپنے مر کب سے نیچے تشریف لائے اور اپنے پاک خون میں لت پت شیرخوار بچہ کے لئے تلوار کی نیام سے قبر کھودکر اس میں دفن کردیا ایک قول یہ ھے کہ آ پ(ع) نے شیر خوار کو شھداء کے برابر میں لٹادیا[50] اے حسین(ع) !خدا نے آپ(ع) کو اِن مصیبتوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ دیا ،ایسی مصیبت کے ذریعہ کسی نبی کا امتحان نھیں لیا گیا اور ایسی مصیبتیں روئے زمین پر کسی مصلح پرنھیں پڑیں ۔

امام کی ثابت قدمی

امام(ع) تن تنھا میدان میں دشمنوں کے سامنے کھڑے رھے اور بڑے بڑے مصائب کی وجہ سے آپ کے ایمان و یقین میں اضافہ ھوتارھا آپ(ع) مسکر ارھے تھے اور آپ(ع) کو فردوس اعلیٰ کی منزلوں پر اعتماد تھا۔نہ آ پ(ع) کی اولاد ،اھل بیت(ع) اور اصحاب کے شھید ھو جانے سے آپ(ع) کی استقامت و پائیداری میں کو ئی کمی آئی اور نہ ھی پیاس کی شدت اور خون بہہ جانے کا آپ(ع) پر کو ئی اثر ھوا آپ(ع) ان انبیاء اوراولی العزم رسولوں کی طرح ثابت قدم رھے جن کو اللہ نے اپنے بقیہ بندوں پر برتری دی ھے ، آپ(ع) کے فرزند ارجمند امام زین العابدین(ع) اپنے پدر بزرگوار کے صبر اوراستقامت کے سلسلہ میں فرماتے ھیں:” جیسے جیسے مصائب میں شدت ھو تی جا رھی تھی آپ(ع) کے چھرے کا رنگ چمکتا جا رھا تھا ، آپ(ع) کے اعضاو جوارح مطمئن ھو تے جا رھے تھے ،بعض لوگ کہہ رھے تھے : دیکھو انھیں مو ت کی بالکل پروا نھیں ھے “۔[51]

عبد اللہ بن عمار سے روایت ھے :جب دشمنوں نے جمع ھو کر آپ پر حملہ کیا تو آپ(ع) نے میمنہ پر حملہ کیایھاں تک کہ وہ آپ(ع) سے شکست کھا گئے خدا کی قسم میںنے کسی ایسے شخص کو نھیں دیکھا جس کی اولاد اور اصحاب قتل کر دئے گئے ھوں اور امام جیسی بلند ھمتی کامظاھرہ کرسکے، خدا کی قسم میں نے آپ سے پھلے اور آپ(ع) کے بعد آپ(ع) کے جیسا کو ئی شخص نھیں دیکھا۔[52]

ابن خطاب فھری نے آپ(ع) کی جنگ کی یوں تصویر کشی کی ھے :

”مھلا بني عمِّنا ظُلمَاتنا

اِنَّ بِنَا سُوْرَةً مِنَ القَلَق

لِمثلکم تُحملُ السیوفُ وَلا

تُغمزُاَحْسَابُنَامِنَ الرَّفَقِ

اِنِّيْ لَاَنْسیٰ اِذَاانْتَمَیْتُ اِلیٰ

عِزٍّ عَزِیْزٍ وَمَعْشَرٍصَدِق

بَیْضٍ سِبَاطٍ کَاَنَّ اَعْیُنَھُمْ

تَکَحَّلُ یَوْ مَ الھِیَاجِ بِالْعَلَقِ“[53]

”اے ھمارے چچا کی اولاد ،ھم پر ظلم کرنے سے باز آجاؤ کیونکہ ھم اضطراب میں مبتلا ھیں ۔

تمھارے جیسے افراد کی وجہ سے تلواریں ساتھ رکھی جا تی ھیںورنہ عطوفت و مھربانی اوررحم وکرم ھمارے ضمیر میں بساھے  ۔

جب مجھے کسی صاحب عزت اور سچی جماعت کے ساتھ منسوب کیا جاتا ھے تو میں فراموش کر دیتا ھوں ۔

اس جماعت کی آنکھوں میں اس دن جمے ھوئے خون کا سرمہ نظر آتا ھے “۔

آپ(ع) نے اللہ کے دشمنوں پر حملہ کیا، ان کے ساتھ شدید جنگ کی اور بہت زیادہ لوگوں کو فی النار کیااور جب آپ(ع) نے میسرہ پر حملہ کیا تو یوں رجز پڑھا:

”اَنا الحسین ُ ابن ُ علي

آلیتُ اَنْ لَا اَنْثَنِي

اَحْمِیْ عِیَالَاتِ اَبِيْ

اَمْضِيْ عَلیٰ دِیْنِ النَّبِي“[54]

”میں حسین بن علی(ع)ھوںمیں نے ذلت کے سامنے نہ جھکنے کی قسم کھا ئی ھے ۔

میں اپنے پدر بزرگوار کی ناموس کی حفاظت کروں گامیں نبی کے دین پر قائم رھوں گا “ ۔

آپ(ع)( حسین ) نے دنیا کے منھ کو شرافت و بزرگی سے پُر کردیا ،آپ(ع) دنیا میں یکتا ھیں جن کے عزم و حو صلہ کی تعریف نھیں کی جا سکتی ،آپ(ع) نے گریہ وزاری نھیں کی اور نہ ھی کسی کام میں سستی کی ،آپ(ع) نے دشمنوں کا مقابلہ کرکے ظالموں اور منافقوں کے قلعوں کو ھلاکر رکھ دیا ۔

آپ(ع) اپنے جد رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے راستہ پر گامزن رھے ، اس دین کے تجدّد کا باعث ھوئے ، اگر آپ(ع) نہ ھوتے تو وہ مبھم رہ جاتا اور اس کو حقیقی زندگی نہ ملتی۔۔۔

ابن حجر سے مروی ھے کہ امام حسین(ع) جنگ کرتے جا رھے تھے اور آپ(ع) کی زبان مبارک پر یہ اشعار جاری تھے :

”انابن عليِّ الحُرِّمِنْ آلِ

کَفَانِيْ ھٰذَا مَفْخَراً حِیْنَ اَفْخَرُ

وَجَدِّيْ رَسُولُ اللّٰہِ اَکْرَمُ مِنْ

وَنَحْنُ سِرَاجُ اللّٰہِ فِي النَّاسِ

وَفَاطِمَةُ اُمِّيْ سُلَالَةُ

وَعَمي یُدْعیٰ ذُوْ الجَنَاحَیْنِ

وَفِیْنَا کِتَابُ اللّٰہِ اُنْزِلَ

وَفِیْنَا الھُدیٰ وَالْوَحْيُ وَالْخَیْرُ یُذْکَرُ‘ ‘ [55]

”میں فرزند علی(ع) ھوں ،آزاد ھوں ،بنی ھاشم میں سے ھوں ،میرے لئے فخر کرنے کے لئے یھی کافی ھے ۔

میرے نانا رسول خدا ،افضل مخلوقات ھیں ھم لوگوں میں نورا نی رھنے والے خدا کے چراغ ھیں ۔

میری ماں فاطمہ  = بنت رسول ھیں اورمیرے چچا جعفر طیارھیںجن کو ذو الجناحین کھاجاتاھے۔

ھماری ھی شان میں قرآن نازل ھوا،ھم ھی ھدایت کا ذریعہ ھیں وحی اور خیر(بھلا ئی) ھمارے ھی پاس ھے “ ۔

آپ(ع) کی اھل بیت(ع)سے آخری رخصت

امام حسین(ع) اپنے اھل بیت(ع)سے آخری رخصت کے لئے آئے حالانکہ آپ(ع) کے زخموں سے خون جاری تھا ،آپ(ع) نے حرم رسالت اور عقائل الوحی کو مصیبتوں کی چادر زیب تن کرنے اور ان کو تیاررھنے کی وصیت فرما ئی ،اور ان کو ھمیشہ اللہ کے فیصلہ پر صبر و تسلیم کا یوںحکم دیا:”مصیبتوں کے لئے تیار ھوجاؤ ،اور جان لو کہ اللہ تمھارا حامی،و مددگاراورمحافظ ھے اور وہ عنقریب تمھیں دشمنوں کے شر سے نجات دے گا ،تمھارے امر کا نتیجہ خیر قراردے گا ،تمھارے دشمنوں کو طرح طرح کے عذاب دے گا ، ان مصیبتوں کے بدلے تمھیں مختلف نعمتیں اور کرامتیں عطا کرے گا ،تم شکایت نہ کرنا اور اپنی زبان سے ایسی بات نہ کھنا جس سے تمھاری قدر و عزت میں کمی آئے “۔[56]

حکومتیں ختم ھو گئیں ،بادشاہ چلے گئے ،موجودہ چیزیں فنا ھو گئیں لیکن اس کا ئنات میں یہ لامحدود ایمان ھمیشہ باقی رھنے کے لائق و سزاوار ھے، کون انسان اس طرح کی مصیبتوں کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ھے اور اللہ کی رضا اور تسلیم امر کےلئے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ان کا استقبال کرتا ھے ؟ بیشک رسول اعظم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی نظرمیںحسین(ع) کے علاوہ ایسا کارنامہ انجام دینے والی کو ئی ذات و شخصیت نھیں ھے ۔

جب آپ(ع) کی بیٹیوں نے آپ(ع) کی یہ حالت دیکھی تو ان پر حزن و غم طاری ھو گیا، انھوں نے اسی حالت میں امام(ع) کو رخصت کیا ،ان کے دلوں پر خوف طاری ھو گیا ،رعب کی وجہ سے ان کا رنگ متغیر ھوگیا،جب آپ(ع) نے ان پر نظر ڈالی تو آپ(ع) کا دل غم میں ڈوب گیاان کے بند بند کا نپ گئے ۔

علامہ کاشف الغطا کہتے ھیں : وہ کون شخص ھے جوامام حسین(ع)کے مصائب کی تصویر کشی کرے جو مصیبتوں کی امواج تلاطم میں گھرا ھو ،ھر طرف سے اس پر مصیبتوں کی یلغار ھو رھی ھو ،اسی صورت میں آپ(ع) اھل و عیال اور باقی بچوں کو رخصت فر مارھے تھے ،آپ(ع) ان خیموں کے نزدیک ھوئے جن میں ناموس نبوت اور علی(ع) و زھرا(ع)کی بیٹیاں تھیں تو خوفزدہ مخدرات عصمت و طھارت نے قطا نامی پرندہ کی طرح اپنے حلقے میں لے لیا حالانکہ آپ(ع) کے جسم سے خون بہہ رھا تھا تو کیا کو ئی انسان اس خوفناک مو قع میں امام حسین(ع) اور ان کی مخدرات عصمت و طھارت کے حال کو بیان کرنے کی تاب لا سکتا ھے اورکیا اس کا دل پھٹ نھیں جائے گا،اس کے ھوش نھیں اڑجا ئیں گے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جا ری نہ ھوجا ئیں گے“۔[57]

امام حسین(ع) پر اپنے اھل و عیال کوان مصائب میں رخصت کر نا بہت مشکل تھا حالانکہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بیٹیاں اپنے منھ پیٹ رھی تھیں ،بلند آواز سے گریہ و زاری کر رھی تھیں،گویا وہ اپنے جد رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر گریہ کر رھی تھیں ،انھوں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ آپ(ع) کو رخصت کیا ،اس عجیب منظر کا امام حسین(ع) پرکیا اثر ھوا اس کو اللہ کے علاوہ اور کو ئی نھیں جانتا ھے ۔

عمر بن سعد خبیث النفس نے ہتھیاروں سے لیس اپنی فوج کو یہ کہتے ھوئے امام(ع) پر حملہ کرنے کے لئے بلایا:ان پر اپنے حرم سے رخصت ھونے کے عالم میں ھی حملہ کردو ،خدا کی قسم اگر یہ اپنے اھل حرم کو رخصت کر کے آگئے تو تمھارے میمنہ کومیسرے پر پلٹ دیں گے ۔

ان خبیثوں نے آپ(ع) پر اسی وقت تیروں کی بارش کر نا شروع کردی تیر وںسے خیموں کی رسیاںکٹ گئیں ،بعض تیر بعض عورتوں کے جسم میں پیوست ھو گئے وہ خوف کی حالت میں خیمہ میں چلی گئیں،امام حسین(ع) نے خیمہ سے غضبناک شیر کے مانند نکل کر ان مسخ شدہ لوگوں پرحملہ کیا،آپ(ع) کی تلوار ان خبیثوں کے سرکاٹنے لگی آپ(ع)کے جسم اطھر پر دا ئیں اور بائیں جانب سے تیر چلے جو آپ(ع) کے سینہ پر لگے اور ان تیروں میں سے کچھ تیر وںکی داستان یوں ھے :

۱۔ایک تیر آپ(ع) کے دھن مبارک پر لگا تواس سے خون بھنے لگا آپ(ع) نے زخم کے نیچے اپنا دست مبارک کیا جب وہ خون سے بھر گیا تو آپ(ع) نے آسمان کی طرف بلند کیا اور پروردگار عالم سے یوں گویا ھوئے : ”اللّھم اِنّ ھذا فیک قلیل ٌ“۔[58]

”خدایا یہ تیری بارگاہ کے مقابلہ میں نا چیز ھے “۔

۲۔ابو الحتوف جعفی کاایک تیر، نور نبوت اور امامت سے تابناک پیشا نی پر لگا آپ(ع) نے اس کو نکال کر پھینکاتو خون ابلنے لگا تو آپ(ع) نے خون بھانے والے مجرمین کے لئے اپنی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا کئے :”پروردگارا ! تو دیکھ رھاھے کہ میں تیرے نا فرمان بندوں سے کیا کیا تکلیفیں سہ رھاھوں ،پروردگارا تو ان کو یکجا کرکے ان کوبے دردی کے ساتھ قتل کر دے، روئے زمین پر ان میں سے کسی کو نہ چھوڑاور ان کی مغفرت نہ کر “۔

لشکر سے چلا کر کھا :”اے بری امت والو!تم نے رسول کے بعد ان کی عترت کے ساتھ بہت برا سلوک کیا،یاد رکھوتم میرے بعدکسی کو قتل نہ کر سکو گے جس کی بنا پر اس کو قتل کرنے سے ڈروبلکہ میرے قتل کے بعددوسروں کو قتل کرنا آسان ھو جا ئے گا خدا کی قسم میں امید رکھتا ھوں کہ خدا شھادت کے ذریعہ مجھے عزت دے اور تم سے میرا اس طرح بدلہ لے کہ تمھیںاحساس تک نہ ھو ۔۔۔“[59]۔

کیا رسول اللہ جنھوں نے ان کو مایوس زندگی اور شقاوت سے نجات دلا ئی ان کا بدلہ یہ تھا کہ حملہ کرکے ان کا خون بھا دیاجائے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیاجس سے رونگٹے کھڑے ھوجاتے ھیںخدا نے امام کی دعا قبول کی اوراس نے امام حسین(ع) کے مجرم دشمنوں سے انتقام کے سلسلہ میں دعا قبول فرمائی اور کچھ مدت نھیں گذری تھی کہ دشمنوں میں پھوٹ پڑگئی اور جناب مختار نے امام(ع) کے خون کا بدلہ لیا،ان پر حملہ کرنااور ان کو پکڑنا شروع کیاوہ مقام بیدا پر چلے گئے تو جناب مختار نے ان پر حملہ کیا یھاں تک کہ ان میں سے اکثر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

زھری کا کھنا ھے: امام حسین(ع) کے ھر قاتل کو اس کے کئے کی سزا دی گئی ،یا تو وہ قتل کردیا گیا ، یا وہ اندھا ھوگیا،یا اس کا چھرہ سیاہ ھوگیا ،یا کچھ مدت کے بعد وہ دنیا سے چل بسا ۔[60]

۳۔امام(ع) کے لئے اس تیرکو بہت ھی بڑا تیر شمار کیا جاتا ھے ۔مو رخین کا بیان ھے :امام(ع) خون بھنے کی وجہ سے کچھ دیر سے آرام کی خاطر کھڑے ھوئے تو ایک بڑا پتھر آپ(ع) کی پیشا نی پر آکر لگا آپ(ع) کے چھرے  سے خون بھنے لگا ،آپ(ع)کپڑے سے اپنی آنکھو ں سے خون صاف کرنے لگے تو ایک تین بھال کا تیر آپ(ع) کے اس دل پر آکر لگاجو پوری دنیائے انسانیت کے لئے مھر و عطوفت سے لبریز تھا آپ(ع) کواسی وقت اپنی موت کے قریب ھونے کا یقین ھو گیا آپ(ع) نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر یوں فرمایا:”بسم اللّٰہ وباللّٰہ، وعلیٰ ملّة رسول اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ،الٰہي اِنّکَ تعلمُ اَنّھُم یقتلُوْنَ رجُلاً لیسَ علیٰ وجہ الارض ابنُ بِنتِ نبیٍ غَیْرِہِ “۔

تیر آپ کی پشت سے نکل گیا ،تو پرنالے کی طرح خون بھنے لگا آپ(ع)نے اپنے دونوں ھاتھوں میں خون لینا شروع کیا جب دونوں ھاتھ خون میں بھر گئے تو آپ(ع) نے وہ خون آسمان کی طرف پھینکتے ھوئے فرمایا: ”ھوَّنَ مَانَزَلَ بِیْ اَنَّہُ بِعَیْنِ اللّٰہِ “۔”معبود میرے اوپر پڑنے والی مصیبتوں کو آسان کردے بیشک یہ خدا کی مدد سے ھی آسان ھو سکتی ھیں“۔

امام(ع) نے اپنا خون اپنی ریش مبارک اور چھرے پر ملا حالانکہ آپ(ع) کی ھیبت انبیاء کی ھیبت کی حکایت کر رھی تھی اور آپ فر مارھے تھے :ھکذااکون حتی القی اللّٰہ وجدي رسول اللّٰہ واَنا مخضبُ بدمي ۔۔۔“۔[61]”میں اسی طرح اپنے خون سے رنگی ھوئی ریش مبارک کے ساتھ اللہ اور اپنے جد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے ملاقات کروں گا“

۴۔حصین بن نمیر نے ایک تیر مارا جو آپ(ع) کے منھ پر لگا،آپ(ع) نے زخم کے نیچے اپنا دست مبارک کیا جب وہ خون سے بھر گیا تو آپ(ع) نے آسمان کی طرف بلند کیا اور مجرموں کے متعلق پروردگار عالم سے یوں عرض کیا:”اللّھم احصھم عدداًواقتُلھم بدداً،ولا تذرعلی الارض منھم احداً“۔[62]۔

آپ(ع) پرتیروں کی اتنی بارش ھوئی کہ آپ(ع) کا بدن ٹکڑے ٹکڑے ھوگیا ،جسم سے خون بھا اورآپ پر پیاس کا غلبہ ھوا تو آپ(ع) زمین پر بیٹھ گئے حالانکہ آپ(ع) کی گردن میں سخت درد ھورھاتھا ، (آپ(ع) اسی حالت میں بیٹھے ھوئے تھے کہ )خبیث مالک بن نسیر نے آپ(ع) پر حملہ کر دیا اس نے آپ پر سب و شتم کیا، تلوار بلند کی آپ(ع) کے سر پر خون سے بھری ایک بلند ٹوپی تھی امام(ع) نے اس کو ظالم کی طرف پھینکتے ھوئے اس کے لئے یہ کلمات ادا کئے :”لااَکلتَ بیمینک ولاشربتَ،وحشرک اللّٰہ مع الظالمین “۔

آپ نے لمبی ٹوپی پھینک کر ٹوپی پر عمامہ باندھاتو ظالم نے دوڑ کر لمبی ٹوپی اٹھائی تو اس کے ھاتھ شل ھو گئے ۔[63]

امام کی اللہ سے مناجات

ان آخری لمحوں میں امام(ع) نے خدا وند عالم سے لو لگا ئی ،اس سے مناجات کی ، خدا کی طرف متوجہ قلب سے تضرع کیا اور تمام مصائب و آلام کی پروردگار عالم سے یوں شکایت فر ما ئی :

”صبراًعلیٰ قضائکَ لاالٰہ سواکَ،یاغیاث المستغیثین،مالي ربُّ سواکَ ولامعبودُغیرُکَ ،صبراًعلیٰ حُکمِکَ،یاغیاثَ مَنْ لاغیاثَ لَہُ، یادائما لانفادلہ، یامحیيَ الموتیٰ،یاقائماعلیٰ کلِّ نفسٍ،احکُم بیني وبینھم ْ وانتَ خیر ُالحاکمِیْنَ “۔[64]

”پروردگارا !میںتیرے فیصلہ پر صبر کرتا ھوں تیرے سوا کو ئی خدا نھیں ھے ،اے فریادیوں کے فریاد رس،تیرے علاوہ میرا کو ئی پر وردگار نھیں اور تیرے سوا میرا کو ئی معبود نھیں ،میں تیرے حکم پر صبر کرتا ھوں، اے فریادرس! تیرے علاوہ کو ئی فریاد رس نھیں ھے ،اے ھمیشہ رھنے والے تجھے فنا نھیں ھے، اے مردوں کو زندہ کرنے والے ،اے ھر نفس کو باقی رکھنے والے ،میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کراور تو سب سے اچھا فیصلہ کر نے والا ھے “۔

یہ دعا اس ایمان کا نتیجہ ھے جو امام(ع) کے تمام ذاتیات کے ساتھ گھل مل گا تھا یہ ایمان آپ کی ذات کا اھم عنصرتھا ۔۔۔آپ(ع) اللہ سے لو لگائے ر ھے ،اس کی قضا و قدر (فیصلے )پر راضی رھے ،تمام مشکلات کو خدا کی خاطر برداشت کیا،اس گھرے ایمان کی بناپرآپ(ع) تمام مشکلات کو بھول گئے ۔

ڈاکٹر شیخ احمد وا ئلی اس سلسلہ میں یوں کہتے ھیں :

یا ابا الطف وازدھیٰ  بالضحایا

مِن ادیم الطفوف روض

نُخبَة مِن صحابةٍ

ورضیعُ مُطوَّ قُ وَ شَبُوْلُ

وَالشَّبَابُ الفَیْنَانُ جَفَّ فَغَاضَتْ

نَبْعَةُ حُلْوَةُ وَوَجْہُ جَمِیْلُ

وتَاَمَّلْتُ فِيْ وُجُوْ ہِ

وَزَوَاکِيْ الدِّمَاءِ مِنْھَا تَسِیْلُ

وَمَشَتْ فِيْ شِفَاھِکَ الْغُرِّنَجْویٰ

نَمَّ عَنْھَاالتَّسْبِیْحُ والتَّھْلِیْلُ

لَکَ عُتْبِیْ یَا رَبِّ اِنْ کَانَ َ

فَھٰذَا اِلیٰ رِضَاکَ قَلِیْلُ[65]

”اے کربلا کے سورما اے وہ ذات جس کی قربانیوں کی بنا پر سر زمین کربلا سر سبز و شاداب ھو گئی ۔

آپ(ع) کے ساتھی برگزیدہ تھے ،ان میں شیر خوار تک تھا آپ(ع) کے ساتھی قابل رشک جوان تھے۔

میں نے آپ(ع) کی قربانی پر غور کیاحالانکہ اس سے خون بہہ رھا تھا۔

آپ زیر لب بھی تسبیح و تھلیل میں مشغول رھے۔

اے پروردگاریہ میری ناچیز کو شش ھے گر قبول افتد زھے عزّ و شرف“  ۔

امام(ع) پر حملہ

مجرموں کے اس پلید و نجس وخبیث گروہ نے فرزند رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پرحملہ شروع کردیاانھوں نے امام(ع) پر ھر طرف سے تیروں اور تلواروں سے حملہ کیازرعہ بن شریک تمیمی نے پھلے آپ(ع) کے با ئیں ھاتھ پر تلوار لگا ئی اس کے بعد آپ(ع) کے کاندھے پر ضرب لگا ئی ،اور سب سے کینہ رکھنے والا دشمن سنان بن انس خبیث تھا، اس نے ایک مرتبہ امام(ع) پر تلوار چلا ئی اور اس کے بعد اس نے نیزہ سے وار کیا اور اس بات پر بڑا فخر کر رھاتھا، اس نے حجّاج کے سامنے اس بات کو بڑے فخر سے یوںبیان کیا :میں نے ان کو ایک تیر مارا اور دو سری مرتبہ تلوار سے وار کیا ،حجّاج نے اس کی قساوت قلبی دیکھ کر چیخ کر کھا :اَما انکما لن تجتمعافي دار ۔[66]

اللہ کے دشمنوں نے ھر طرف سے آپ(ع) کو گھیر لیا اور ان کی تلواروں نے آپ(ع) کاپا ک خون بھادیا،بعض مو رخین کا کھنا ھے :اسلام میں امام حسین(ع) جیسی مثال کو ئی نھیں ھے ،امام حسین(ع) کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے ایک سو بیس زخم تھے ۔[67]

امام حسین(ع) کچھ دیر زمین پر ٹھھرے رھے آپ(ع) کے دشمن بکواس کرتے رھے اور آپ(ع) کے پاس آنے کے متعلق تیاری کرتے رھے ۔اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ھیں:

فمااجلتِ الحربُ عنْ مِثْلِہِ

صریعایُجَبِّنُ شُجْعانُھَا

”حالانکہ آپ(ع) زمین پر بے ھوش پڑے تھے پھر بھی کو ئی آپ(ع) کے نزدیک آنے کی ھمت نھیں کررھا تھا “۔

سب کے دلوں آپ(ع) کی ھیبت طاری تھی یھاں تک کہ بعض دشمن آپ کے سلسلہ میں یوں کھنے لگے : ھم ان کے نورا نی چھرے اور نورا نی پیشانی کی وجہ سے ان کے قتل کی فکر سے غافل ھوگئے ۔

جو شخص بھی امام(ع) کے پاس ان کو قتل کرنے کے لئے جاتا وہ منصرف ھو جاتا ۔[68]

چادر میںلپٹی ھوئی رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی نواسی زینب(ع) خیمہ سے باھر آئیں وہ اپنے حقیقی بھائی اور بقیہ اھل بیت کو پکار رھی تھیںاور کہہ رھی تھیں :کاش آسمان زمین پر گر پڑتا ۔

ابن سعد سے مخاطب ھو کر کھا :(اے عمر !کیا تو اس بات پر راضی ھے کہ ابو عبد اللہ قتل کردئے جائیں اور تو کھڑا ھوا دیکھتا رھے ؟)اس خبیث نے اپنا چھرہ جھکا لیا ،حالانکہ اس کی خبیث ڈاڑھی پر آنسو بہہ رھے تھے، [69] عقیلہ بنی ھاشم جناب زینب سلام اللہ علیھا اس انداز میں واپس آرھی تھیںکہ آپ کی نظریں بھا ئی پر تھیںلیکن اس عالم میں بھی صبر و رضا کا دامن ھاتھ سے نھیں چھوڑا،آپ واپس خیمہ میں عورتوں اور بچوںکی نگھبانی کے لئے اُن کے پاس پلٹ آئیں ۔

امام(ع) بہت دیر تک اسی عالم میں رھے حالانکہ آپ(ع) کے زخموں سے خون جا ری تھا ، آپ(ع) قتل کر نے والے مجرموں سے یوں مخاطب ھوئے :”کیا تم میرے قتل پر جمع ھو گئے ھو ؟،آگاہ ھوجاؤ خدا کی قسم! تم میرے قتل کے بعد اللہ کے کسی بندے کو قتل نہ کرپاؤگے ،خدا کی قسم !مجھے امید ھے کہ خدا تمھاری رسوا ئی کے عوض مجھے عزت دے گا اور پھر تم سے اس طرح میرا انتقام لے گاکہ تم سوچ بھی نھیں سکتے ۔۔۔“۔

شقی اظلم سنان بن انس تلوار چلانے میں مشھور تھا اس نے کسی کو امام(ع) کے قریب نھیں ھو نے دیا چونکہ اس کو یہ خوف تھا کہ کھیں کو ئی اور امام(ع) کاسر قلم نہ کر دے اور وہ ابن مرجانہ کے انعام و اکرام سے محروم رہ جائے۔

اس نے امام(ع) کا سر تن سے جدا کیا حالانکہ امام کے لب ھائے مبارک پر سکون و اطمینان ،فتح و نصرت اور رضائے الٰھی کی مسکراہٹ تھی جو ھمیشہ ھمیشہ باقی رھے گی ۔

امام(ع) نے قرآن کریم کو بیش قیمت روح عطا کی ،اور ھر وہ شرف و عزت عطا کی جس سے انسانیت کا سر بلند ھوتا ھے ۔۔اور سب سے عظیم اور بیش قیمت جو امام(ع) خرچ کی وہ اپنی اولاد ،اھل بیت اور اصحاب مصیبتیں دیکھنے کے بعد مظلوم ،مغموم اور غریب کی حالت میں قتل ھو جانا ھے اور اپنے اھل و عیال کے سامنے پیاسا ذبح ھو جانا ھے ،اس سے بیش قیمت اور کیا چیز ھو سکتی ھے جس کو امام(ع)نے مخلصانہ طور پر خدا کی راہ میں پیش کر دی ؟

امام(ع) نے خدا کی راہ میں قربانی دے کر تجارت کی ،یہ تجارت بہت ھی نفع آور ھے جیساکہ خداوند عالم فرماتا ھے :< إِنَّ اللهَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اٴَنفُسَہُمْ وَاٴَمْوَالَہُمْ بِاٴَنَّ لَہُمْ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ اٴَوْفَی بِعَہْدِہِ مِنْ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہِ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ>۔[70]

”بیشک اللہ نے صاحب ایمان سے اُن کی جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیا ھے کہ یہ لوگ راہ خدا میں جھاد کرتے ھیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ھیں اور پھر خود بھی قتل ھو جاتے ھیں یہ وعدئہ برحق توریت ، انجیل اور قرآن ھر جگہ ذکر ھوا ھے اور خدا سے زیادہ اپنے عھد کا کون پورا کرنے والا ھوگا، تو اب تم لوگ اپنی اس تجارت پر خو شیاں مناؤ جو تم نے خدا سے کی ھے کہ یھی سب سے بڑی کا میابی ھے “۔

بیشک امام حسین(ع) نے اپنی تجارت سے بہت فائدہ اٹھایا اور فخر کے ساتھ آپ(ع)کے ساتھ کامیاب ھوئے جس میں آپ(ع) کے علاوہ اور کو ئی کامیاب نھیں ھوا ،شھداء ِ حق کے خاندان میں کسی کو بھی  کو ئی شرف و عزت و بزرگی اور دوام نھیں ملا جو آپ(ع) کو ملا ھے ،اس دنیا میں بلندی کے ساتھ آپ(ع) کا تذکرہ (آج بھی ) ھورھا ھے اور آپ(ع) کا حرم مطھرزمین پر بہت ھی با عزت اورشان و شوکت کے ساتھ موجود ھے ۔

اس امام عظیم کے ذریعہ اسلام کا وہ پرچم بلندی کے ساتھ لھر ارھا ھے جو آپ(ع) کے اھل بیت اور اصحاب میں سے شھید ھونے والوں کے خون سے رنگین ھے، یھی پرچم کا ئنات میں،دنیا کے گوشہ گوشہ میں آپ(ع) کے انقلاب اور کرامت و بزرگی کو روشن و منور کر رھا ھے ۔

 



[1] سیر اعلام النبلاء ،جلد ۳،صفحہ ۱۹۰۔تاریخ ابن عساکر خطی ،جلد ۱۳،صفحہ ۵۰۔

[2] مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔نور الابصار، صفحہ ۱۲۹:اللھم انی اُ حِبُّہ وَ اُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ“۔

”خدایا میں اس کو دوست رکھتا اور جو اس کو دوست رکھتا ھے اس کوبھی دوست رکھتاھوں“

[3] سنن ابن ماجہ ،جلد ۱،صفحہ ۵۶۔مسند احمد، جلد ۴،صفحہ ۱۷۲۔اسد الغابہ، جلد ۲،صفحہ ۱۹۔تہذیب الکمال،صفحہ ۷۱۔تیسیر الوصول ،جلد ۳، صفحہ ۲۷۶۔مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔

[4] حیاةالامام حسین(ع)، جلد ۱،صفحہ ۹۵۔

[5] تاجِ جامع للاصول ،جلد ۳،صفحہ ۲۱۸۔

[6] منھاج السنة، جلد ۴،صفحہ ۲۱۰۔

[7] مجمع الزوائد، جلد ۹،صفحہ ۲۰۱۔سیر اعلام النبلاء ،جلد ۳،صفحہ ۱۹۱۔ذخائر العقبی ،صفحہ ۱۴۳۔

[8] مستدرک حاکم، جلد ۳،صفحہ ۱۷۹۔

[9] مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ۱۷۹۔

[10] شیعہ کربلا سے حاصل کی گئی مٹی پر سجدہ کرتے ھیں جس کو رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے چوما ھے ۔

[11] کنز العمال، جلد ۷،صفحہ ۱۰۶۔سیر اعلام النبلاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۵۔ذخائر العقبیٰ، صفحہ ۱۴۸۔

[12] کنز العمال ،جلد ۷،صفحہ ۱۰۶۔معجم کبیر طبرانی ،جلد ۳،صفحہ۱۰۶۔

[13] مجمع الزوائد، جلد ۹، صفحہ ۱۸۷

[14] مجمع الزوائد ،جلد ۹، صفحہ ۱۸۹

[15] مجمع الزوائد ،جلد ۹ ،صفحہ ۱۹۱۔

[16] تاریخ ابن الوردی ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۳۔۱۷۴۔

[17] معجم کبیر طبرانی ”ترجمہ امام حسین(ع)“،جلد ۳،صفحہ ۱۰۸۔

[18] تاریخ خمیس ،جلد ۲، صفحہ ۳۳۴

[19] تاریخ بن عساکر (مخطوط)،جلد ۱۳، صفحہ ۵۷۔۵۸،معجم کبیر طبرا نی نے کتاب ترجمہ امام حسین(ع) ،جلد ۳ ،صفحہ ۱۰۵۔۱۰۶۔

[20] حیاة الامام الحسین ،جلد ۱،صفحہ ۴۲۶۔

[21] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد۱۰،صفحہ ۱۴۔

[22] الاصابہ ،جلد ۱،صفحہ ۱۸۷۔حیاة الامام الحسین(ع)، جلد ۱،صفحہ ۴۲۹۔

[23] تاریخ یعقوبی، جلد ۲،صفحہ ۲۹۳۔

[24] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ۳، صفحہ ۲۴۹۔

[25] تاریخ طبری ،جلد ۶،صفحہ ۲۷۳۔

[26] دیوان سید حیدر،صفحہ ۸۷۔

[27] دیوان سید حید ر،صفحہ ۷۱۔

[28] دیوان سید حیدر،صفحہ ۷۱۔

[29] شرح نہج البلاغہ، جلد ۳،صفحہ ۲۶۳۔

[30] الامام حسین،(ع) صفحہ ۱۰۱۔

[31] انساب الاشراف، جلد ۱،صفحہ ۲۴۰۔

[32] کشف الغمہ ،جلد ۲،صفحہ ۲۲۹۔

[33] الاصابہ، جلد ۲،صفحہ ۲۲۲۔

[34] سورئہ آل عمران، آیت ۱۳۴۔

[35] تاریخ ابن عساکر، جلد ۱۳،صفحہ ۵۴۔

[36] اعیان الشیعہ ،جلد ۴،صفحہ ۱۱۰۔

[37] الارشاد (دیلمی )،جلد ۱،صفحہ ۲۸۔

[38] تحف العقول، صفحہ ۲۴۶۔

[39] ریحانة الرسول، صفحہ ۵۵۔

[40] ریحانة الرسول ،صفحہ ۵۵۔

[41] ریحانة الرسول ،صفحہ ۵۵۔

[42] تحف العقول ،صفحہ ۲۴۶۔

[43] تحف العقول، صفحہ ۲۴۵۔

[44] تاریخ ابن اثیر،جلد ۲،صفحہ ۵۵۳۔

[45] حیاةالامام حسین(ع)، جلد ۲،صفحہ ۲۵۵۔(نقل شدہ کتاب الفتوع جلد۵،صفحہ ۱۸)۔

[46] الخصائص الحسینیہ، صفحہ ۶۰۔

[47] حیاةالامام حسین(ع)، جلد ۳، صفحہ ۳۷۴۔

[48] دررالافکار فی وصف الصفوة الاخیار، ابوالفتح ابن صدقہ، صفحہ ۳۸۔

[49] مناقب ابن شھر آشوب ،جلد ۴، صفحہ ۲۲۲۔

[50] مقتل الحسینِ مقرم، صفحہ ۳۳۳۔

[51] الخصائص الحسینیہ مولف تستری ،صفحہ ۳۹۔

[52] تاریخ ابن کثیر،جلد ۸،صفحہ ۱۸۸۔

[53] ریحانة الرسول، صفحہ ۶۴میں آیا ھے کہ بڑے تعجب کی بات ھے کہ جس نے بھی ان اشعار کو مثال کے طور پر پیش کیا وہ قتل کردیا گیاحضرت امام حسین علیہ السلام نے ان اشعار کو یو م الطف ،زید بن علی نے یوم السبخہ اور یحییٰ بن زید نے یوم جوزجان میں ،اور جب ابراھیم بن عبد اللہ بن الحسن نے منصور کے خلاف خروج کرتے وقت ان اشعار کو مثال کے طور پر پیش کیا تو ان کے ساتھیوں نے ان سے بغاوت کی اور کچھ مدت نھیں گذری تھی کہ ان کو تیر مارکر موت کے گھاٹ اتاردیا۔

[54] مناقب ابن شھر آشوب، جلد ۴،صفحہ ۲۲۳۔

[55] صواعق محرقہ، صفحہ ۱۱۷۔۱۱۸۔جوھرة الکلام فی مدح السادة الاعلام، صفحہ ۱۱۹۔

[56] مقتل الحسین المقرم ،صفحہ ۳۳۷۔

[57] جنة الماویٰ، صفحہ ۱۱۵۔

[58] الدر التنظیم، صفحہ ۱۶۸۔

[59] مقتل حسین ”مقرم ،صفحہ ۳۳۹۔

[60] عیون الاخبار، مو لف ابن قتیبہ ،جلد ۱،صفحہ ۱۰۳۔۱۰۴۔

[61] مقتل خوارزمی، جلد ۲ ،صفحہ ۳۴۔

[62] انساب الاشراف، جلد ۱، صفحہ ۲۴۰۔

[63] انساب الاشراف ،جلد ۳،صفحہ ۲۰۳۔

[64] مقتل الحسین المقرم ،صفحہ ۳۴۵۔

[65] دیوانِ وائلی ،صفحہ ۴۲۔

[66] مجمع الزوائد،جلد ۹،صفحہ ۱۹۴۔

[67] الحدائق الوردیہ ،جلد ۱،صفحہ ۱۲۶۔

[68] انساب الاشراف ،جلد ۳،صفحہ ۲۰۳۔

[69] جواھر المطالب فی مناقب امام علی بن ابی طالب، صفحہ ۱۳۹۔

[70] سورئہ توبہ ،آیت ۱۱۱۔