قرآن مجید کی روشنی میں حضرت فاطمه زهرا (سلام الله علیها)


جن لوگوں نے حق کی راہ میں قربانی دی ھے قرآن مجید کی آیتوں میںان کی تجلیل و تعظیم کے ساتھ ساتھ ان کی مدح و ثنا بھی ھوئی ھے چنانچہ ان آیتوںکی تلاوت کا سلسلہ قیامت تک جاری رھے گا۔

قرآن مجید نے جن لوگوں کا خصوصی تذکرہ کیا ھے اور ان کے کردار اور فضائل و کمالات کی نمایاں طور سے تعریف کی ھے ان میں اھلبیت(علیہم السلام) پیغمبر ھر مقام پر سر فھرست نظر آتے ھیں مورخین اور مفسرین نے نقل کیا ھے کہ ان حضرات کی مدح وثنا میں کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی آیتیں نازل ھوئی ھیں بلکہ قرآن مجید کے متعدد سورے تو ان کے بتائے ھوئے جادہٴ حق اور ان کے حسن عمل کی تائید اور مدح سرائی کے ساتھ ان کی پیروی کی دعوت سے مخصوص ھیں۔

۱۔کوثر رسالت

کوثر یعنی خیر کثیر اور اگر چہ بظاھر اس میں وہ تمام نعمتیں شامل ھیں جن سے اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نوازا تھا لیکن سورہٴ کوثر کی آخر ی آیت کی شان نزول کے بارے میں جو تفصیلات ذکر ھوئے ھیں ان سے یہ بالکل واضح ھے کہ اس خیر کثیر کاتعلق کثرت نسل اور اولاد سے ھے جیسا کہ آج پوری دنیا جانتی ھے کہ رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل طیبہ آپ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا(سلام اللہ علیہا) سے ھی چلی ھے جسکا تذکرہ حضور اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض احادیث میں بھی موجود ھے۔

مفسرین نے اس سلسلہ میں یہ نقل کیا ھے کہ عاص بن وائل نے ایک دن قریش کے بڑے بڑے لوگوں سے یہ کھا:محمد تو لا ولد،ھیں اور ان کا کوئی بیٹا نھیں ھے [1]جو ان کا جانشین بن سکے لہٰذا جس دن یہ دنیا سے چلے جائیں گے اس دن ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہ رھے گا۔

یھی شان نزول جناب ابن عباس اور اکثر اھل تفسیر نے ذکر کی ھے[2]اور مشھور مفسر، فخر رازی نے کوثر کے معنی کے بارے میں اگر چہ مفسرین کے اختلاف کا تذکرہ کیا ھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے واضح الفاظ میں یہ بھی تحریر کیا ھے کہ”اور تیسرا نظریہ،یہ ھے کہ کوثر سے مراد آپ(علیہم السلام) کی اولاد ھے …کیونکہ یہ سورہ اس شخص کے جواب میں نازل ھوا ھے جس نے آپ(علیہم السلام) کو بے اولاد ھونے کا طعنہ دیا تھا لہذا اس کے معنی یہ ھیں کہ آپ کو ایسی نسل عطا گئی ھے جو ھمیشہ باقی رھے گی(اسکے بعد کہتے ھیں)چنانچہ آپ خود دیکھ سکتے ھیں کہ اھلبیت(علیہم السلام) کا کس طرح قتل عام کیا گیا ھے؟پھر بھی دنیا ان سے [3]بھری ھوئی ھے جب کہ بنی امیہ کا کوئی نام لینے والا بھی نھیں ھے نیز آپ یہ بھی دیکھئے کہ ان کے درمیان کتنے بڑے بڑے اور اکا بر علماء گذرے ھیں جیسے(امام محمد)باقر(امام جعفر)صادق(امام موسیٰ)کاظم(امام علی)رضاعلیہم السلام اور نفس زکیہ و غیرہ۔

جس طرح آیہٴ مباھلہ دلیل ھے کہ امام حسن و حسین(علیہم السلام) رسول اللہ(صلی الله علیه و آله وسلم)کے بیٹے ھیں اسی طرح اس بارے میںآنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متعددحدیثیں بھی موجود ھیں کہ خداوندعالم نے ھر نبی کی ذریت اسکے صلب میں رکھی ھے اور ختمی مرتبت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل کو حضرت علی(علیہم السلام) کے صلب میں قرار دیا ھے نیز صحاح میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث نقل کی گئی ھے کہ آپ نے امام حسن(علیہم السلام) کے بارے میں یہ فرمایاتھا:میرا یہ بیٹا سید و سردار ھے اور اللہ عنقریب اس کے ذریعہ دو بڑے گروھوں میں صلح کرائے۔ [4]

۲۔فاطمہ زھرا(علیہم السلام) سورہٴ دھرمیں

ایک روزامام حسن(علیہم السلام) اور امام حسین(علیہم السلام) مریض ھوئے اور رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ لوگوں کے ساتھ ان کی عیادت کرنے گئے تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے علی(علیہم السلام) تم اپنے ان دونوں بیٹوںکی شفا کےلئے کچھ نذر کر لو!چنانچہ حضرت علی(علیہم السلام) و فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ(علیہم السلام) کی کنیز فضہ نے یہ نذر کی کہ اگر یہ دونوں شفا یاب ھوگئے تو ھم تین روز ے رکھیں گے چنانچہ دونوں شہزادے بالکل شفا یاب ھوگئے گھر میں کچھ نھیں تھاحضرت علی(علیہم السلام)،شمعون یھودی سے تین صاع(سیر) جو ادھار لیکر آئے جن میں سے شہزادی کائنات(علیہم السلام) نے ایک سیر جو کا آٹا پیس کر اسی کی پانچ روٹیاں بنالیں اور سب لوگ انھیں اپنے سامنے رکھ کر افطار کرنے بیٹھ گئے کہ اسی وقت ایک سائل نے آکر سوال کیا:اے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اھلبیت(علیہم السلام) آپ حضرات کی خدمت میں سلام عرض ھے،میں مسلمان مسکینوں میں سے ایک مسکین ھوں مجھے کھانا عطا فرما دیجئے اللہ تعالی آپ کو جنت کے کھانوں سے سیر وسیراب فرمائے:سب نے ایثار کا مظاھرہ کرتے ھوئے اپنی تمام روٹیاں سائل کو دے دیں اور پانی کے علاوہ کچھ نھیں چکھا اور صبح کو پھر روزہ رکھ لیا شام کو جب روزہ کھولنے کےلئے بیٹھے تو ایک یتیم نے آکر سوال کرلیا اور انھوں نے اس یتیم کو اپنا کھانا دیدیا تیسرے دن ایک اسیر آگیا اور اس دن بھی گذشتہ واقعہ پیش آیا صبح کو حضرت علی(علیہم السلام) امام حسن(علیہم السلام) اور امام حسین(علیہم السلام) کا ھاتھ پکڑ کر رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میںلےگئے جب ان پر آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظرپڑی تو دیکھا کہ وہ بھوک کی شدت سے لرز رھے ھیں آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے لئے یہ کتنی تکلیف دہ بات ھے یہ تمھاری کیا حالت ھے؟پھرآپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر تشریف لےگئے تو کیا دیکھا کہ شہزادی(علیہم السلام) کائنات محراب میں مشغول عبادت ھیں اور ان کاپیٹ کمر سے ملا ھوا ھے اور آنکھیں اندر دھنس چکی تھیں یہ دیکھ کر آپ کو مزید تکلیف ھوئی تب جناب جبرئیل آپ کی خدمت میں نازل ھوئے اور کھا:اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو مبارک ھو یہ لیجئے خداوندعالم نے آپ کو آپ کے اھل بیت(علیہم السلام) کے بارے میں مبارکبادپیش کی ھے،پھر انھوں نے اس سورہ کی تلاوت فرمائی۔[5]

مختصر یہ کہ شہزادی کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں میں شامل ھیں جن کے بارے میں اللہ تعالی نے یہ گواھی دی ھے کہ آپ ان نیک لوگوں میں سے ھیں جو اس جام شربت سے سیراب ھوں گے جس میں کافور کی آمیزش ھوگی یھی وہ حضرات ھیں جو اپنی نذر کو پورا کرتے ھیں اور اس دن کے شر سے خائف رہتے ھیں جس کا شر ھر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور یھی وہ حضرات ھیں جو کھا نے کی ضرورت ھونے کے باوجود اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ھیں چاھے اسکی وجہ سے انھیں دشواریوں کا سامنا ھی کیوں نہ کرنا پڑے اور وہ صرف خدا کی مرضی اور خوشی کےلئے کھانا کھلاتے ھیں اور ان سے کسی قسم کے شکریہ اور بدلہ کے خواھشمند نھیں رہتے یھی وہ حضرات ھیں جنھوں نے خدا کےلئے صبر وتحمل سے کام لیا ھے … اور انھی کو خداوندعالم اس بد ترین دن کے شر سے محفوظ رکھا ھے …اور ان کے صبر و تحمل کے انعام میں انھیں جنت و حریر سے نوازا ھے۔[6]

۳۔فاطمہ زھرا(علیہم السلام) آیت تطھیرمیں

آیہٴ تطھیر رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت نازل ھوئی جب آپ جناب ام سلمہ(رض)کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ نے اپنے دونوں نواسوں حسن(علیہم السلام) و حسین(علیہم السلام) اور ان کے والد اور والدہ ٴگرامی کو اپنے پاس بٹھاکر اپنے اور ان کے اوپر ایک چادر ڈال دی تاکہ آپ کی ازواج اور دوسرے لوگ ان سے بالکل علٰیحد ہ ھوجائیں تو یہ آیت نازل ھوئی:

<انما یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا>[7]

اے اھلبیت(علیہم السلام) اللہ کا ارادہ یہ ھے کہ تم سے رجس اور گندگی کو دور رکھے اور تمھیں اسی طرح پاک رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ھے۔

یہ حضرات ابھی اسی طرح بیٹھے ھوئے تھے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی پر اکتفا نھیں کی بلکہ چادر سے اپنے ھاتھ باھر نکال کر آسمان کی طرف بلند کئے اور یہ دعا فرمائی:

”اللھم ھولاء اھل بیتی فاذھب عنھم الرجس و طھرھم تطھیراً “۔

بارالہٰا! یہ میرے اھلبیت ھیں لہٰذا تو ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں پاک و پاکیزہ رکھنا۔

آپ باربار یھی دھرا رھے تھے اور جناب ام سلمہ یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رھی تھیں اور آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز بھی سن رھی تھیں اسی لئے وہ بھی یہ کہتی ھوئی چادر کی طرف بڑھیں:اے اللہ کے رسول میں بھی آپ حضرات کے ساتھ ھوں؟ تو آپ نے ان کے ھاتھ سے چادر کا گوشہ اپنی طرف کھینچتے ھوئے فرمایا:نھیں تم خیر پر ھو؟[8]

آیت نازل ھونے کے بعد رسول اسلام(علیہم السلام) کا مسلسل یہ دستور تھا کہ آپ جب بھی صبح کی نماز پڑھنے کےلئے اپنے گھر سے نکلتے تھے تو شہزادی(علیہم السلام) کائنات کے دروازہ پر آکر یہ فرماتے تھے:

”الصلاة یا اھل البیت انما یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس ویطھرکم تطھیراً“

نما ز!اے اھلبیت بیشک اللہ کا ارادہ یہ ھے کہ تم سے ھر رجس اور برائی کو دور رکھے اور تمھیں پاک و پاکیزہ رکھے۔

آپ کی یہ سیرت چھ یاآٹھ مھینے تک جاری رھی۔[9]

یہ آیت گناھوں سے اھلبیت(علیہم السلام) کے معصوم ھونے کی بھی دلیل ھے کیونکہ رجس گناہ کو کھا جاتا ھے اور آیت کے شروع میں کلمہٴ ” انّما “آیا ھے جو حصرپردلالت کرتا ھے جسکے معنی یہ ھیں کہ ان کے بارے میں اللہ کا بس یہ ارادہ ھے کہ ان سے گناھوں کو دوررکھے اور انھیں پاک وپاکیزہ رکھے اور یھی حقیقی اور واقعی عصمت ھے جیسا کہ نبھانی نے تفسیر طبری سے آیت کے یھی معنی وضاحت کے ساتھ بیان کئے ھیں۔[10]

۴۔مودت زھرا(علیہم السلام) اجر رسالت

جناب جابر نے روایت کی ھے کہ ایک دیھاتی عرب رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ھوا اور کھا اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے مسلمان بنادیجئے آپ نے فرمایا:یہ گواھی دو:

”لا الہ الاا للّٰہ وحدہ لا شریک لہ وان محمداً عبدہ ورسولہ“۔

”اللہ کے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے،وہ لا شریک ھے اور محمد اس کے بندہ اور رسول ھیں“۔

اس نے کھا آپ مجھ سے کوئی اجرت طلب کریں گے؟

فرمایا: نھیں صرف قرابتداروں کی محبت،اس نے کھامیرے قرابتداروں یا آپ کے قرابتداروں کی؟ فرمایا میرے قرابتداروں کی وہ بولا میں آپ کی بیعت کرتا ھوں لہذا جو شخص بھی آپ اورآپ کے قرابتداروں سے محبت نہ کرے اس پر خدا کی لعنت ھو،آپ نے فرمایا آمین۔[11]

مجاھد نے اس کی یہ تفسیر کی ھے کہ اس مودت سے آپ کی پیروی آپ کی رسالت کی تصدیق اور آپ کے اعزاء سے صلہٴ رحم کرنا مراد ھے جب کہ ابن عباس نے اس کی یہ تفسیر کی ھے کہ:آپ کی قرابتداری کا خیال رکھ کر اس کی حفاظت کی جائے۔ [12]

زمخشری نے ذکر کیا ھے کہ جب یہ آیت نازل ھوئی اسی وقت رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا گیا:اے اللہ کے رسول آپ کے وہ قرابت دار کون ھیں جن کی محبت ھمارے اوپر واجب کی گئی ھے؟آپ نے فرمایا:علی(علیہم السلام) فاطمہ سلام اللہ علیہااور ان کے دونوں بیٹے۔[13]

۵۔فاطمہ زھرا(علیہم السلام) آیہٴ مباھلہ میں

تمام اھل قبلہ حتی کہ خوارج کا بھی اس بات پر اجماع و اتفاق ھے کہ نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مباھلہ کےلئے عورتوں کی جگہ صرف اپنی پارہٴ جگر جناب فاطمہ زھرا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور بیٹوں میں اپنے دونوں نواسوں امام حسن(علیہم السلام) اور امام حسین(علیہم السلام) کو اور نفسوں میں صرف حضرت علی علیہ السلام کو ساتھ لیاجو آپ کےلئے ویسے ھی تھے جیسے موسیٰ کےلئے ھارون اور عیسائیوں سے مباھلہ کرنے کےلئے تشریف لےگئے اور صرف یھی حضرات اس آیت کے مصداق ھیں اور یہ ایک ایسی واضح و آشکار چیز ھے جس کا انکارکسی کےلئے ممکن نھیں ھے اوراس فضیلت میں کوئی بھی آپ حضرات کا شریک نھیں ھے اور جو شخص بھی تاریخ مسلمین کی ورق گردانی کرے گا اسے روز روشن کی طرح یھی نظر آئے گا کہ یہ آیت ان ھی سے مخصوص ھے اور ان کے علاوہ کسی اور کےلئے نازل نھیں ھوئی ھے۔[14]

نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان حضرات کو اپنے ساتھ لے کر عیسائیوں سے مباھلہ کرنے کےلئے تشریف لےگئے اور آپ نے ان پر فتح حاصل کی، اس وقت امھات المومنین(ازواج نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم))سب کی سب اپنے گھروں پر موجود تھیں مگر آپ نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نھیں بلایا اور نہ ھی اپنی پھوپھی جناب صفیہ اور اپنی چچازاد بھن جناب ام ھانی کوساتھ لیا اور نہ ھی خلفائے ثلا ثہ کی ازواج یا انصار و مھاجرین کی عورتوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ لےگئے۔

اسی طرح آپ نے جوانان جنت کے دونوں سرداروںیعنی(امام حسن اور امام حسین(علیہم السلام))کے ساتھ بنی ھاشم یاصحابہ کے کسی بچہ اور جوان کو نھیں بلایا اور نہ ھی حضرت علی(علیہم السلام) کے علاوہ اپنے اعزاء واقرباء اور ابتدائی اور قدیم مسلمانوں اور اصحاب میں سے کسی کو دعوت دی اورجب ان چاروںحضرات کولے کر آپ باھر نکلے تو آپ کالے بالوں والی چادر اوڑھے ھوئے تھے جیسا کہ امام فخر رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ھے کہ امام حسین(علیہم السلام) آپ کی آغوش میں اور امام حسن(علیہم السلام) آپ کی انگلی پکڑے ھوئے تھے جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پیچھے اور ان کے بعد حضرت علی(علیہم السلام) چلے آرھے تھے اور آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے یہ فرما رھے تھے: جب میں دعا کروں توتم لوگ آمین کھنا، اُدھر اسقف نجران نے کھا:اے میرے عیسائی بھائیو!:میں ان چھروں کو دیکھ رھا ھوں کہ اگر یہ خدا سے پھاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی دعا کردیں تو وہ اسے وھاں سے،ہٹادے گا لہذا ان سے مباھلہ نہ کرناورنہ مارے جاوٴگے اور قیامت تک روئے زمین پر کسی عیسائی کا نام ونشان باقی نھیں رہ جائے گا۔[15] فخر رازی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ھیں:یہ آیت دلیل ھے کہ حسن(علیہم السلام) اور حسین(علیہم السلام) رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرزندھیں کیونکہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کولے کر آئیں گے اور آپ حسن و حسین(علیہم السلام) کو ساتھ لائے تھے لہذا ان دونوں کا فرزند رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھونا بالکل طے شدہ بات ھے۔[16]

شہزادی ٴ کائنات سلام اللہ علیھا سید المرسلین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہ میں!

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ھے:

< اٴن اللّہ لیغضب لغضب فاطمة، و یرضی لرضاھا >

بیشک اللہ تعالی فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناراضگی سے ناراض اور ان کے خوش ھوجانے سے راضی ھوجاتا ھے۔ [17]

<فاطمة بضعة منی؛ من آذاھا فقد آذانی، و من اٴحبھا فقد اٴحبنی>

فاطمہ میرا ٹکڑا ھے جس نے اسے تکلیف پھنچائی اس نے مجھے تکلیف دی ھے اور جس نے اس سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی ھے۔[18]

<فاطمة قلبی و روحی التی بین جنبی>فاطمہ میرا دل اور میرے دونوں پھلووں کے درمیان موجود میری روح ھے۔[19]

<فاطمہ سیدہ نساء العالمین>فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردار ھیں۔[20]

اس قسم کی شھادتیں کتب حدیث وسیرت میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کثرت کے ساتھ مروی ھیں اورجو اپنی خواھش سے کوئی کلام ھی نھیں کرتے تھے نیز رشتہ داری یا دوسرے وجوھات سے بالکل متاثر نھیں ھوتے تھے اور خدا کی راہ میں آپ کو کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروانھیں تھی۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کو اسلام کی تبلیغ کےلئے بالکل وقف کر رکھا تھا اور آپ کی سیرت تمام لوگوں کےلئے نمونہ عمل تھی،مختصر یہ کہ آپ کے دل کی دھڑکن،آنکھوں کی جنبش، ھاتھ پیر کی نقل و حرکت اور آپ کے افکار کی شعاعیںقول،فعل اور تقریر(یعنی آپ کی سنت)بلکہ آپ کا پورا وجود ھی دین کی علامت،شریعت کا سر چشمہ، ھدایت کا چراغ اور نجات کا وسیلہ بن گیا۔

جتنا زمانہ گذرتا جارھا ھے اور اسلامی سماج جتنی ترقی کر رھا ھے اتنا ھی ان سے ھماری محبتوں میں اضافہ ھی ھوتا جارھا ھے یا جب بھی ھم آنحضرت کے کلام میں اسلام کے اس بنیادی نکتہ کو دیکھتے ھیں کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ فرمایا تھا: ”یا فاطمة اعملی لنفسک فانّی لا اغنی عنک من اللّہ شیئاً‘اے فاطمہ(علیہم السلام) اپنے لئے عمل کرو کیونکہ میں خدا کی طرف سے تمھارے لئے کسی چیز کا ذمہ دار نھیں بن سکتا ھوں[21](یعنی ھر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ھے)۔

آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:<کمل من الرجال کثیر، و لم یکم-ل من النس-اء إلا مریم بنت عمران، و آسیة بنت مزاحم امراٴة فرعون، و خدیجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد(صلی الله علیه و آله وسلم)>

کامل مردتو بہت سارے ھیں مگر کامل عورتیں مریم بنت عمران،فرعون کی زوجہ آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی نھیں ھے۔[22]

نیز آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:

<إنما فاطمة شجنة منی، یقبضنی ما یقبضھا، و یبسطنی ما یبسطھا۔ و إن الاٴنساب یوم القیامة تنقطع غیر نسبی و سببی و صھری۔ ۔۔>

فاطمہ میری ایک شاخ ھے اور جو چیز اسے خوش کرتی ھے اسی سے مجھے بھی خوشی ھوتی ھے[23] اور قیامت کے دن میرے نسب وسبب اور دامادی کے علاوہ تمام نسب ایک دوسرے سے الگ ھوجائیں گے۔[24]

ایک دن پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا ھاتھ پکڑے ھوئے نکلے اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:<من عرف ھذہ فقد عرفھا، و من لم یعرفھا فھی فاطمة بنت محمد، و ھی بضعة منی، و ھی قلبی الذی بین جنبی؛ فمن آذاھا فقد آذانی، و من آذانی فقد آذی الله >

جو اسے جانتا ھے وہ تو اسے جانتا ھی ھے اور جو نھیں جانتا وہ اسے پہچان لے کہ یہ فاطمہ بنت محمد ھے اور یہ میرا ٹکڑا ھے اور یہ میرے دونوں پھلووں کے درمیان دھڑکنے والا میرا دل ھے لہذا جس نے اسے ستایا اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف پھنچائی اس نے اللہ کو تکلیف دی ھے۔ [25]

نیز فرمایا: <فاطمة اٴعز البریّتة علیّ>

فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام مخلوقات میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ھیں۔[26]

آپ کی عصمت کی طرف موجود ان اشاروںکے بعد ھمارے لئے ان احادیث کی تفسیر کرنا کوئی مشکل کام نھیں ھے بلکہ یہ احادیث توآپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت کے ساتھ اس بات کی شاھد ھیں کہ آپ صرف خدا کےلئے ناراض ھوتی ھیں اور خدا کےلئے راضی اور خوش ھوتی ھیں۔

فاطمہ زھرا(علیہم السلام) ائمہ،صحابہ اور مورخین کے اقوال کی روشنی میں امام زین العابدین(علیہم السلام) نے فرمایا ھے:” لم یولد لرسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من خدیجة علی فطرة الاسلام الا فاطمة “اعلان اسلام کے بعد جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ جناب خدیجہ(علیہم السلام) سے رسول اکرم کی کوئی اور اولاد نھیں ھوئی۔ [27]

امام محمد باقر سے منقول ھے:

<و الله لقد فطمھا اللّہ تبارک و تعالی بالعلم >[28]

خدا کی قسم اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو علم سے سیر و سیراب فرمایاھے۔

امام جعفر صادق سے منقول ھے:

<انّھا سُمِّیَتْ فاطمة لانّ الخلق فَطَمُوْا عَنْ مَعرِفَتَھا>[29]

آپ کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ھے کیونکہ مخلوقات کو آپ کی معرفت سے عاجزرکھا گیا ھے۔

ابن عباس سے منقول ھے ایک دن رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرماتھے اور آپ کے پاس علی(علیہم السلام)،فاطمہ اور حسن(علیہم السلام) و حسین(علیہم السلام) بھی موجود تھے،تو آپ نے ارشاد فرمایا:

<اللّٰھم إنک تعلم اٴن ھوٴلاء اٴھل بیتی و اٴکرم الناس علی؛ فاٴحبب من اٴحبھم واٴبغض من اٴبغضھم، و وال من والاھم و عاد من عاداھم، و اٴعن من اٴعانھم، و اجعلھم مطھرین من کل رجس، معصومین من کل ذنب و اٴیدھم بروح القدس منک>[30]

پروردگارا تو بہتر جانتا ھے یہ میرے اھلبیت ھیں اور میرے اوپر ھرایک سے زیادہ کریم و مھربان ھیں لہذا جو ان سے محبت رکھے اس سے محبت رکھنا اور جو ان سے بغض رکھے اس سے بغض رکھنا جوان کا چاھنے والا ھو اس سے دوستی رکھنا اور جو ان کا دشمن ھو اس سے دشمنی رکھنا جو ان کی نصرت کرے اس کی مدد فرما نا اور انھیں ھر برائی اور گندگی سے طیب وطاھر اور ھر گناہ سے محفوظ رکھنا اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرمانا۔

جناب ام سلمہ سے یہ روایت ھے:کہ انھوں نے کھا فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنت رسول اللہ،آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکل و صورت میں سب سے زیادہ مشابہ تھیں۔ [31]

ام المومنین عائشہ نے کھا ھے:میں نے فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کے بابا کے علاوہ کسی کو ان سے زیادہ زبان کا سچانھیں پایا سوائے ان کی اولادکے![32] اور جب وہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پھو نچتی تھیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ھوجاتے تھے ان کو بوسہ دیتے خوش آمدیدکہتے اور ان کا ھاتھ پکڑکرانھیں اپنی جگہ بٹھاتے تھے اسی طرح جب نبی کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لاتے تھے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑے ھوکر ان کو بوسہ دیتی تھیں اور ان کا کاندھا پکڑکر اپنی جگہ بٹھاتی تھیں اور پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل انھیں اپنے اسرار(راز)بتاتے رہتے تھے اور اپنے کاموں میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔[33]

حسن بصری سے منقول ھے:اس امت میں فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑا کوئی عابد نھیں آپ اتنی نمازیں پڑھتی تھیں کہ آپ کے دونوں پیروں پر ورم آجاتا۔ [34]

ایک روز عبد اللہ بن حسن، اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے پاس گئے اس وقت اگر چہ وہ بالکل نو عمر تھے مگر اتنے پر وقار تھے کہ عمر بن عبد العزیز اپنی جگہ سے کھڑا ھوگیا اوراس نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا اور آپ کی ضروریات پوری کرنے کے بعد آپ کے پیٹ پر اتنی زور سے چٹکی لی کہ وہ درد سے چنچ پڑے پھر ان سے کھا:اسے شفاعت کے وقت یاد رکھنا[35]جب وہ واپس چلےگئے تو اس کے حوالی موالیوں نے اس کی مذمت کرتے ھوئے کھا ایک نو عمر بچہ کا اتنا احترام کیوں؟تو اس نے جواب دیا:مجھ سے ایسے قابل اعتماد اور ثقہ شخص نے نقل کیا ھے جیسے میں نے خود اپنے کانوں سے رسول کی بابرکت زبان سے یہ جملے سنے ھوں کہ آپ نے فرمایا:فاطمہ میرا ٹکڑا ھے جس سے وہ خوشی ھوتی ھے اسی سے مجھے بھی خوش ھوتی ھیں اور مجھے یقین ھے کہ اگر جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ ھوتیں تو ان کے بیٹے کے ساتھ میں نے جو یہ نیک برتاوٴ کیا ھے وہ اس سے ضرور خوش ھوتیں پھر انھوں نے پوچھا کہ مگر یہ چٹکی لینے اور یہ سب کھنے کی کیا ضرورت تھی؟اس نے کھا:بنی ھاشم میں کوئی بھی ایسا نھیں ھے جس کو حق شفاعت حاصل نہ ھو لہذا میری یہ آرزوھے کہ مجھے ان کی شفاعت نصیب ھوجائے۔[36]

ابن صباغ مالکی نے کھا ھے:یہ اس شخصیت کی بیٹی ھیں جن پر ”سبحان الذی اسریٰ“(پاک وپاکیزہ ھے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا)،نازل ھوئی سورج اور چاندکی نظیرخیرالبشر کی بیٹی، دنیا میں پاک وپاکیزہ پیدا ھونے والی،اور محکم و استوار اھل نظرکے اجماع کے مطابق سیدہ و سردارھیں۔

حافظ ابو نعیم اصفھانی نے آپ کے بارے میں یہ کھا ھے:چنتدہ عابدوں اور زاھدوں میں سے ایک، متقین کے درمیان منتخب شدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا،سیدہ،بتول،رسول سے مشابہ اور ان کا ٹکڑا۔ ۔۔آپ دنیا اور اسکی رنگینوں سے کنارہ کش اور دنیا کی برائیوں کی پستیوں اور اس کی آفتوں سے اچھی طرح واقف تھیں۔[37]

ابو الحدیدمعتزلی یوں رقمطراز ھیں:رسول اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم)نے جناب فاطمہ زھرا(سلام اللہ علیہا) کا اتنا زیادہ احترام کیا ھے جس کے بارے میں لوگ گمان بھی نھیں کرسکتے ھیں،حتی کہ آپ اس کی بنا پر باپ اور اولاد کی محبت سے بھی بلندتر مرتبہ پر پھونچ گئے اسی وجہ سے آپ نے نجی نشستوںاور عام محفلوں میں ایک دوبار نھیں بلکہ باربار فرمایا اور ایک جگہ نھیں بلکہ متعدد جگھوں پر یہ ارشاد فرمایا:<إنھا سیدة نساء العالمین، و إنھا عدیلة مریم بنت عمران، و إنھا إذا مرت فی الموقف نادی مناد من جھة العرش: یا اٴھل الموقف! غضوا اٴبصارکم؛ لتعبر فاطمة بنت محمد>یہ عالمین کی عورتوں کی سید وسردار ھے یہ مریم بنت عمران کی ھم پلہ ھے اور جب روز قیامت میدان محشرسے ان کا گذر ھوگا تو عرش کی طرف سے ایک منادی یہ آواز دے گا: اھل محشر اپنی نظریں جھکا لوتاکہ فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گذر جائیں،یہ صحیح احادیث میں سے ھے اور ضعیف حدیثوں میں نھیں ھے اور ایک دوبار نھیں بلکہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ جانے کتنی بار یہ ارشاد فرمایا: <یوٴذینی ما یوٴذیھا، یغضبنی ما یغضبھا،و إنھا بضعة منی؛ یریبنی ما رابھا>[38]جس بات سے اسے تکلیف پھنچتی ھے اس سے مجھے بھی تکلیف پھنچتی ھے اور جس بات سے اسے غصہ آتاھے اسی سے میں بھی غصہ(ناراض)ھوجاتاھوں اور وہ تو میرا ٹکڑا ھے۔

موجودہ دور کے مورخ ڈاکٹر علی حسن ابراھیم نے لکھا ھے:جناب فاطمہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی،تاریخ کا وہ نمایاں ورق ھے جسمیں عظمت کے مختلف رنگ بھرے ھوئے ھیں اور آپ بلقیس یاکلوپطرہ کی طرح نھیںتھیں جن کی عظمت و منزلت کاکل دار مدار ان کے بڑے تخت(بے پناہ دولت و ثروت اورلاجواب حسن و جمال پر تھا اور نہ ھی آپ عائشہ کی طرح تھیں جنھوں نے لشکر کشی اور مردوں کی قیادت کی وجہ سے شھرت حاصل کی بلکہ ھم ایک ایسی شخصیت کی بارگاہ میں حاضر ھیں جن کی حکمت و جلالت کی چھاپ پوری دنیا میں ھر جگہ دکھائی دیتی ھے ایسی حکمت جسکا سر چشمہ اور ماخذ علماء اور فلاسفہ کی کتابیں نھیں ھیں بلکہ یہ وہ تجربات روزگار ھیں جو زمانہ کی الٹ پھیراور حادثات سے بھرے پڑے ھیں نیز آپ کی جلالت ایسی ھے جسکی پشت پر کسی طرح کی ثروت و دولت اور حکومت کا ھاتھ نھیں ھے بلکہ یہ آپ کے نفس کی پختگی کا کرشمہ ھے۔[39]

 

حضرت فاطمہ زھرا(س) کی شخصیت کے چند نمایاں نقوش

شہزادی کائنات(علیہم السلام) کے تذکروں کا دائرہ کائنات میں نور کی پھلی کرن پھوٹنے سے لیکر آپ کی فانوس حیات کی روشنی کے گل ھونے والے لمحہ کے درمیان موجود وسعتوں سے کھیں زیادہ ھے۔

آپ اس عظیم نبی کی بیٹی ھیں جنھوں نے انسانیت کی فکروں کو ترقی سے سرفراز کرکے منزل معراج پر پھنچادیا نیز آپ ایسے مرد الہٰی کی زوجہ ھیں جو حق کا ایک اھم رکن اور تاریخ بشر یت کے سب سے عظیم نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وجود کا استمرار تھے۔

آپ کمال عقل،جمال روح،پاکیزہ صفات اور اصل کرم کی آخری منزلوں پر فائز تھیں آپ نے جس معاشرہ میں زندگی بسر کی اسے اپنی ضوفشانیوںسے منور کردیا اور یھی نھیں بلکہ اپنے افکار وخیالات کے نتیجہ میں آپ اس سے کھیں آگے نظر آئیں،آپ نے رسالت الہٰیہ کے بر پا کردہ انقلاب میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کرلیا اور اس کا اتنا اھم رکن(حصہ)بن گئیں کہ جس کو سمجھے بغیر تاریخ رسالت کو سمجھنا قطعاً ناممکن ھے۔

ایک عورت کےلئے جتنے فضائل و کمالات ضروری ھیں جیسے انسانیت،عفت، پاکدامنی، کرامت قداست و غیرہ کوشہزادی کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کردار و عمل کی شکل میں بالکل مجسم کرکے پیش کردیا اس کے علاوہ آپ کی روشن وتابناک ذکاوت و ذھانت، منفرد زیرکی(فطانت)اور وسیع علم اپنی جگہ پر ھے اور آپ کے افتخار کےلئے یھی کافی ھے کہ آپ نے مدرسہٴ نبوت اوربیت رسالت میں تربیت پائی اور اپنے والد گرامی سے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو ان پررب العالمین کی جانب سے نازل کیا گیا تھا اور اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ آپ اپنے والد گرامی کے گھر میں اس علمی دولت سے آراستہ ومزین ھوئیں جو مکہ کی کسی عورت کو نصیب نہ ھوسکی۔[40]

آپ(علیہم السلام) نے حضرت محمد مصطفیٰ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی مرتضی(علیہم السلام) کی شیریںزبانوں سے قرآن کی آیتیں سنیں اور اس کے احکام وفرائض اور سنتوں کو اس طرح ذھن نشین کرلیا کہ بڑے بڑے صاحبان شرف و منزلت بھی اس کی گرد راہ تک نھیں پھونچ سکے۔

آپ نے ایمان و یقین کے ساتھ نشوونما پائی،وفا و اخلاص اور زھد کے ساتھ پروان چڑھیں اور چند سال کے اندر ھی یہ روشن ھوگیا کہ آپ وہ دختر شرف و منزلت ھیں جس کی نظیر جناب حواء کی بیٹیوں میں کھیں نظر نھیں آسکتی۔

آپ نے ھر کمال میں اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتے ھوئے زندگی کے مختلف مراحل طے کئے یھاں تک کہ آپ کے بارے میں ام الموٴمنین عائشہ کو یہ کھنا پڑا:میں نے مخلوقات خدا میں کسی کو فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ لب ولہجہ اور انداز گفتگو میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشابہ نھیں دیکھا اور جب وہ اپنے والد کی خدمت میں جاتی تھیں تووہ ان کا ھاتھ پکڑ کر چومتے تھے بہترین انداز سے انھیں خوش آمدید کہتے تھے اور اپنی جگہ بٹھاتے تھے اور جب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس جاتے تھے تو وہ بھی کھڑے ھوکر آپ کا استقبال کرتی تھیں اور ان کے ھاتھ پکڑکر ان کوبوسہ دیتی تھیں۔[41]

یھیں سے ھمیں وہ راز بھی معلوم ھوجاتا ھے جس کی بنا پر حضرت عائشہ نے بالکل واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ میں نے زمین کی تمام عورتوں میں جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے زیادہ چھیتی کسی کو نھیں پایا اپنے الفاظ میں انھوں نے اس کی یہ وجہ بیان کی ھے:میں نے فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باباکے علاوہ ان سے زیادہ زبان کا سچا کو ئی نھیں دیکھا۔ [42]

اس طرح شہزادی(علیہم السلام) کائنات، عالم نسوانیت کی ایک ایسی مکمل اور مجسم علامت بن گئیں جس کے سامنے تمام مومنین کے سر نھایت خلوص کے ساتھ بالکل خم نظر آتے ھیں۔

۱۔علم و معرفت

جناب فاطمہ زھرا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کےلئے وحی و نبوت کے گھر میں جن علوم ومعارف کا انتظام موجود تھا آپ نے صرف ان ھی پر اکتفا نھیں کی اور علم و معرفت کے آفتاب کی جو کرنیں آپ کے اوپر مسلسل پڑتی رہتی تھیں آپ نے انھیں کو کافی نھیں سمجھا بلکہ اپنی توانائیوں کے مطابق اپنے والد گرامی اور اپنے شوھر نامدار(جوعلم نبی کے شھر کا دروازہ تھے)سے مسلسل علوم حاصل کرتی رھیں آپ اپنے دونوں بیٹوں یعنی امام حسن(علیہم السلام) اور امام حسین(علیہم السلام) کو پابندی سے بزم پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھیجا کرتی تھیں اور واپسی پر ان سے سب کچھ دریافت بھی فرماتی تھیں جس سے ایک طرف تو تعلیم سے آپ کی دلچسپی اور دوسری جانب اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کا انداز معلوم ھوتا ھے نیز یہ کہ اپنے گھر کی تمام مصروفیتوںکے باوجود بھی آپ مسلمان عورتوں کو مسلسل تعلیم دیا کرتی تھیں۔

طلب ونشر علم کی راہ میں آپ کی جھد مسلسل نے آپ کو بزرگ ترین راویات حدیث اور سنت مطھرہ کی حاملات میں سر فھرست لا کھڑا کیا ھے۔ انھی کوششوں کے نتیجہ میں ایک ضخیم کتاب وجود میں آئی جس کی آپ بہت قدر کیا کرتی تھیں”مصحف فاطمہ“ نام کی یہ کتاب آپ کی میراث کے طور پر آپ کے فرزندوں آئمہ معصومین علیھم السلام تک یکے بعد دیگرے منتقل ھوتی رھی ھے۔ جس کی تفصیل آپ حضرات آپ کی میراث کے باب میں ملاحظہ کریں گے۔

آپ کی بلندی فکر اوروسعت علم کا ندازہ آپ کے ان ھی دو خطبوں سے لگایا جاسکتاھے جو آپ نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بالکل بر جستہ ارشاد فرمائے تھے جن میں سے ایک خطبہ تو مسجد نبوی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بڑے بڑے صحابہ کے درمیان دیا تھا اور دوسرا خطبہ اپنے گھر میں ارشاد فرمایاتھا اور یہ دونوں ھی خطبے[43] آج تک آپ کی فکر کی گھرائی،اصالت،نیز آپ کی ثقافتی وسعت نظر،منطقی قوت استدلال اورنااھل ھاتھوں میں امت کی باگ ڈور پھونچ جانے کے بعد رو نما ھونے والے واقعات کی پیشین گوئیوں کے بہترین شاھکار ھیں،اسکے علاوہ بارگاہ خدا میں آپ کا بے مثال ادب،خدا اور حق کی راہ میں آپ کے جھاد کا اپنا الگ مقام ھے۔

بیشک شہزادی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، ان اھل بیت(علیہم السلام) کی ایک فرد تھیںجنھوں نے تقوا ئے الہٰی کو اپنے گلے لگایا تو اللہ نے انھیں دولت علم سے مالامال کردیا(جسکی طرف قرآن میں واضح اشارہ موجو ھے)اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم سے آراستہ و پیراستہ فرمایا۔(اور گویا آپ کی گھٹی میں علم الٰھی شامل تھا)لہٰذاآپ کو ”فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “کھاجانے لگا اور چونکہ آپ کی کوئی مثل و نظیر نھیں ھے لہٰذا آپ کو ”بتول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “کھا گیا۔

۲۔ اخلاق کریمہ

جناب سیدہ کونین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیک سیرت، پاک باطن، شریف النفس، جلیل القدر، زود فھم، خوش صفات، جری، نڈر، بھادر، غیرتمند خود پسندی سے بیزار اور غرور و تکبر سے دور تھیں۔ (۱)

آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حوصلہ مند، بے حد بردبار، صاحب وقار و سکون، مھربان، پختہ رائے کی مالک اور پاکدامن تھیں۔

اپنے والد نبی رحمت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے پھلے آپ کی زندگی پروقار، مقصد زیست سے سرشار اور خندہ روئی اور تبسّم کے ساتھ بسر ھوئی۔ لیکن اپنے والد کی وفات کے بعد وہ تبسّم نہ جانے کھاں غائب ھو گیا۔

آپ نے حق کے علاوہ کبھی زبان نھیں کھولی سچائی کے علاوہ کوئی گفتگو نہ کی، کسی کا غلط انداز سے کبھی تذکرہ نھیںکیا،آپ غیبت،تھمت،چغلخوری، اشارہ و کنائے نیز کسی کی تضحیک سے کوسوں دوررھیں اسرار کی حفاظت،وعدہ وفائی،نصیحت کی تصدیق،معذرت قبول کرنا برائیوں سے چشم پوشی،گستاخیوں اور جسارتوں کو حلم وبردباری کے ساتھ نظر انداز کردینا آپ کی عام عادت تھی۔

آپ برائیوں سے دور،خیر و خیرات کی طرف مائل،امانتدار،دل اور زبان کی سچی، عفت وپاکدامنی کی آخری چوٹی(بلندی)پر فائز،پاکدامن اور ایسی پاکیزہ نظر خاتون تھیں جس پر خواھشات نفسانی کا ذرہ برابر اثر نہ ھوتا تھا اور ایسا کیوں نہ ھو؟آپ تو نبی کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان اھلبیت میں شامل ھیںجن کو خداوندعالم نےھر برائی اور گندگی سے دور رکھا ھے۔ [44]

آپ کسی بھی نامحرم مرد سے بات کرتی تھیں تو آپ کے اور اس کے درمیان کوئی نہ کوئی پردہ ضرورحائل رہتا تھا، جو آپ کی عفت و پاکدامنی کی علامت ھے۔

بلکہ اس سلسلہ میں آپ کے احتیاط کا یہ عالم تھا کہ آپ کو یہ بات بھی بری محسوس ھوئی کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے جنازہ کی اسی طرح ایک چادر ڈال کر اس کی تشییع کی جائے جس طرح دوسری عورتوں کا جنازہ اٹھایا جاتا ھے۔ [45]

آپ بے حد زاھدہ اور قناعت پسند تھیں اور آپ کو یہ معلوم تھا کہ لالچ سے دل مردہ ھوتا ھے نیز کام بگڑجاتے ھیں اسی لئے آپ اپنے والد گرامی کی اس حدیث پر شدت سے عمل پیرا تھیں ”فاطمة اصبری علی مرارة الدنیا لتفوزی بنعیم الابد“[46]”اے فاطمہ دنیا کی تلخیوں پر صبر کرو تاکہ ابدی نعمتوں کی مالک بن جاوٴ“اس لئے آپ معمولی سے معمولی وسائل زندگی اورسادہ زیستی پر خوش وخرم، مشکلات ِزندگی پر صابر، تھوڑے سے حلال پر قانع نیزراضی و خشنود،دوسروں کے اموال سے بے پروا،نا حق چیز یا غیر خدا سے حاصل شدہ کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھنے کی پابند،مختصر یہ کہ آپ استغناء نفس کاراز ھیں،جیسا کہ آپ کے والد گرامی نے فرمایا ھے:”انما الغنی غنی النفس“،مالداری(استغناء)صرف نفس کی مالداری ھے۔

آپ وہ سیدہٴ بتول ھیں جو دنیا سے کنارہ کش ھو کر، خدا سے بالکل نزدیک، کائنات کی رنگینوں سے متنفراس کی بلاوٴں سے اچھی طرح واقف صبر وتحمل کے ساتھ اپنا فریضہ کو ادا کرنے والی اور بے شمار مشکلات زندگی کے باوجود ھمیشہ اپنے پروردگار کے ذکرمیں مصروف دکھائی دیتی ھیں۔

شہزادی دو عالم کوصرف آخرت کی فکر لاحق تھی اسی لئے آپ کو دنیاوی مسرتوں سے خوشی نہ ھوتی تھی،کیونکہ آپ نے اپنے بابا کو بھی ھمیشہ دنیا کی آسائش وآرام اور اس کی لذتوں سے کنارہ کش اور دور ھی دیکھا۔

آپ ھی سے دنیا والوں نے یہ سبق سیکھا ھے کہ بلاوٴں پر صبراورآسائشوں میں ذکرخدا کیسے ھوتا ھے اور قضاء و قدر الہٰی پر کس طرح راضی رھا جاتاھے جیسا کہ آپ نے اپنے والد گرامی کی یہ حدیث نقل فرمائی ھے:

”ان اللّٰہ اذا احب عبداً ابتلاہ فان صبر اجتباہ و ان رضی اصطفاہ “۔[47]

خداوندعالم جب کسی بندہ سے محبت کرتا ھے تو اسے امتحان اور آزمائش میں مبتلا کردیتا ھے چنانچہ اگر وہ صبر کرلیتا ھے تو اسے چن لیتا ھے اور اگر وہ راضی رہتا ھے تو اسے ممتاز و منتخب قرار دیتا ھے۔

۳۔سخاوت وایثار

جود و سخا کے میدان میں آپ اپنے پدر بزگوار کے نقش قدم پر گامزن رھیں اس لیے کہ آپ نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سن رکھاتھا:”السخی قریب من اللّٰہ…“سخاوت کرنے والا اللہ سے،لوگوںسے اور جنت سے قریب اور جھنم سے دور ھوتا ھے اور اللہ تعالیٰ خود بھی جوادھے اور سخاوت کرنے والے سے محبت کرتا ھے۔“

اور ایثار تو حضرت محمد مصطفیٰ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شعار تھا یھاں تک کہ آپ کی بعض ازواج نے کھا ھے:پوری زندگی کبھی بھی آپ نے لگاتارتین دن تک سیر ھو کر کھانا نھیں کھایا بلکہ آپ ھمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے:”ولو شئنا لشبعنا ولکنا نوٴثر علی انفسنا“[48]”اگر ھم چاھیں توشکم سیر،رہ سکتے ھیں مگر ھم لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ھیں“

یھی وجہ ھے کہ شہزادی کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے والد کی پیروی میں ایثار وقربانی کے ھر مرحلہ میں آگے نظر آتی ھیں جسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ھے کہ آپ نے اپنی شادی کا جوڑا بھی سائل کو عطا فرمادیا تھا آپ کے عظیم جودو ایثار کےلئے وھی واقعہ کافی ھے جسے ھم سورہٴ دھر کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کرچکے ھیں۔

جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ھے:پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھمیں عصر کی نماز پڑھائی جب تعقیبات سے فارغ ھوگئے تو محراب میںھماری طرف رخ کرکے بیٹھ گئے لوگ آپ کو ھر طرف سے اپنے حلقہ میں لئے ھوئے تھے کہ اچانک ایک بوڑھا شخص آیا جو بالکل پھٹے پرانے کپڑے پھنے ھوئے تھا جس سے بڑھا پے اور کمزوری

کی وجہ سے سنبھلا نھیں جارھاتھا یہ منظر دیکھ کر رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی خیریت پوچھی!تو اس نے کھا:اے نبی اللہ میںبہت بھوکاھوں لہٰذاکچھ کھانے کو دیدیجئے میرے پاس کپڑے نھیں ھیں مجھے کپڑے دیدیجئے اور میں فقیربھی ھوں۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:میرے پاس تو فی الحال کوئی چیز نھیں ھے پھر بھی چونکہ خیر کی طرف راھنمائی کرنے والا خیرات کرنے والے کی طرح ھوتا ھے لہٰذا تم اس کے گھر چلے جاوٴ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ھے اور اللہ اور اس کارسول اس سے محبت رکھتے ھیں وہ اپنے اوپر اللہ کو ترجیح دیتا ھے،جاوٴ تم فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ کی طرف چلے جاوٴ( بی بی کا گھر پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس حجرے سے ملا ھوا تھا جو ازواج کے حجروں سے الگ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مخصوص حجرہ تھا)اور فرمایا:اے بلال ذرا اٹھو اور اسے فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر تک پھنچادو۔

 

وہ دیھاتی جناب بلال کے ساتھ چلا گیا،جب وہ جناب فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر جا کررکا تو اس نے بلند آواز سے کھا: نبوت کے گھرانے والو! فرشتوں کی رفت و آمد کے مرکزو مقام اور روح الامین جبرئیل کے نزول کی چوکھٹ والو تم پر پروردگار عالم کا سلام ھو! شہزادی کونین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا تم پر بھی سلام ھو، تم کون ھو؟ اس نے کھا میں ایک بوڑھا اعرابی ھوں آپ کے پدر بزرگوار کی خدمت میں حاضر ھوا تھا۔ اے دختر پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں برھنہ تن اور بھوکا ھوں لہٰذا مجھ پر کچھ کرم فرمائےخدا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی رحمت نازل کرے۔ اس وقت آپ کے یھاں یہ حال تھا کہ شہزادی کونین نے اور اسی طرح، مولائے کائنات(علیہم السلام)( حتی حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم)) نے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھا حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کو بھی اس بات کا علم تھا جناب سیدہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوسفند کی ایک کھال اٹھائی جس پر امام حسن(علیہم السلام) اور امام حسین(علیہم السلام) سوتے تھے اور فرمایا کہ اے دقّ الباب کرنے والے اس کو لیجا امید ھے کہ خدا اس کے ذریعہ تم کو بھلائی دے گا۔ اعرابی نے کھا: اے دختر پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم)! میں نے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھوک کا شکوہ کیا ھے لیکن آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ کو یہ کھال دے رھی ھیں؟ میں اس بھوک میں اس کا کیا کروں؟ یہ سن کر آپ نے اپنی گردن سے وہ ھار اتارکر اس اعرابی کی طرف بڑھا دیا جو آپ کو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حمزہ ۺ کی بیٹی فاطمہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تحفہ میں دیا تھا۔اور فرمایا: لیجا کر اس کو بیچ دینا امید ھے کہ خدا تم کو اس کے ذریعہ اس سے بہتر چیز عنایت فرمائے گا۔ اعرابی ھارلے کر مسجد میں آیا حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے اور کھا: اےرسول خدا (صلی الله علیه و آله وسلم)! فاطمہ(علیہم السلام) نے یہ ھار مجھ کو دے کر کھا ھے اس کو بیچ دینا حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) یہ سن کر روپڑے اور فرمایا کہ: اس کے ذریعہ اس سے بہتر چیزکیسے عنایت نہ فرمائے گا جبکہ تم کو یہ ھار بنی آدم کی تمام عورتوں کی سردار فاطمہ بنت محمد(صلی الله علیه و آله وسلم) نے دیا ھے؟ اس وقت جناب عمار یاسر کھڑئے ھوئے اور فرمایا کہ رسول خدا (صلی الله علیه و آله وسلم) کیا مجھے یہ ھار خرید نے کی اجازت ھے؟ آپ نے فرمایا عمار! اس کو خرید لو کیونکہ اگر جن وانس بھی مل کر اس کو خرید لیں تو ان میں سے کسی پر بھی خدا عذاب نہ فرمائے گا۔ جناب عمارنے عرض کی اے اعرابی یہ ھار کتنے میں بیچوگے؟ اس نے کھا کہ اس کی قیمت یہ ھے کہ مجھ کو پیٹ بھر روٹی اور گوشت مل جائے، ایک بر د یمانی مل جائے جسے اوڑھ کر میں نماز پڑھ سکوں اور اتنے دینار جن کے ذریعہ میں اپنے گھر واپس پھونچ جاؤں اسی دوران جناب عمار ۺ نے اپنا وہ تمام حصہ جو آپ ۺ کو حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے خیبر کے مال غنیمت میں سے دیا تھا قیمت کے عنوان سے پیش کرتے ھوئے کھا کہ میں اس ھار کے بدلے تم کو بیس دینار، دوسو درھم، ایک برد یمانی، اپنی سواری جو تم کو تمھارے گھر تک پھونچادے گی اور اتنی مقدار میں گیھوں کی روٹیاں اور گوشت بھی فراھم کر رھا ھوں جس سے تم بالکل سیر ھوجاؤ۔ اعرابی نے کھا اے بھائی تم کتنے سخی ھو! جناب عمار اس کو اپنے ساتھ لےگئے اور وعدے کے مطابق وہ ساری چیزیں اسے دیدیں اعرابی دوبارہ حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کے پاس آیا تو حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے اس سے کھا: کیا تم سیر ھوگئے اور تم کو پوشاک مل گئی اس نے کھا میرے ماں باپ آپ(علیہم السلام) پر فدا ھوں! جی ھاں میں بے نیاز ھوگیا ھوں۔ حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے فرمایا تو اب فاطمہ(علیہم السلام) کو ان کے ایثار کا بدلہ دو! تو اعرابی نے کھا: پروردگارا: تو معبود ھے ھم نے تجھ کو پیدا نھیں کیا ھے اور تیرے سوا ھمارا کوئی معبود نھیں ھے تو ھر حال میں ھمارا رازق ھے خدایا! فاطمہ(علیہم السلام) کو ایسی نعمت عطا فرما جیسی نعمت نہ کسی نے دیکھی ھوا اور نہ سنی ھو۔ حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے آمین کھا اور اصحاب کی طرف رخ کر کے کھا: خدا نے فاطمہ(علیہم السلام) کو دنیا میں یہ چیزیں دی ھیں:میں اس کا باپ ھوں اور تمام عالمین میں کوئی مجھ جیسا نھیں؛ علی (علیہم السلام) ان کے شوھر ھیں اگر علی(علیہم السلام) نہ ھوتے تو فاطمہ(علیہم السلام) کا کوئی ھمسر نہ ھوتا، ان کو حسن(علیہم السلام) اور حسین(علیہم السلام) جیسے بیٹے عطا کئے جن کا مثل تمام عالمین میں نھیں یہ تمام فرزندان انبیاء(علیہم السلام) اھل بھشت کے سردار ھیں۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جناب مقداد و عمار یاسرو سلمان فارسی بیٹھے تھے ان سے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مزید بتاؤں؟ انھوں نے کھا: جی ھاں! تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے تھے انھوں نے یہ بیان کیا ھے کہ جب فاطمہ(علیہم السلام) سے قبر میں دو فرشتے پوچھیں گے: تمھارا پروردگار کون ھے؟ تو وہ جواب دیں گی اللہ میرا پروردگار ھے وہ سوال کریں گے: تمھارا نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ھے؟ تو وہ یہ جواب دیں گی: میرے پدر بزرگوار۔ وہ سوال کریں گے: تمھارا ولی کون ھے؟ تو وہ یہ جواب دیں گی: یہ شخص جو میری قبر کے کنارے کھڑا ھے۔ کیا میں تم کو ان کی مزید فضیلت بتاؤ ں؟ یاد رکھو خدا نے ان پر فرشتو ں کی ایک جماعت کو معین کیا ھے جو آگے پیچھے،دائیں بائیں ھر طرف سے ان کی حفاظت کرتی ھے یہ سب زندگی میں ان کے روبرو حاضر ھیں اور وہ ان کی وفات کے وقت بھی اور قبر میں بھی ان کے ساتھ رھیں گے۔ اوروہ جماعت ان کے والد، شوھر اور ان کی اولاد پر مسلسل درود بھیجتی رہتی ھے چنانچہ میری وفات کے بعد جو بھی میری زیارت کرے اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی ھے اور جس نے فاطمہ(علیہم السلام) کی زیارت کی اس نے گویا میری زیارت کی ھے جس نے علی(علیہم السلام) کی زیارت کی اس نے گویا فاطمہ(علیہم السلام) کی زیارت کی جس نے حسن(علیہم السلام) اور حسین(علیہم السلام) کی زیارت کی اس نے گویا علی(علیہم السلام) کی زیارت کی اور جس نے ان کی ذریت کی زیارت کی اس نے گویا ان دونوں کی زیارت کی ھے۔

اس وقت جناب عمار یاسرنے ھار کو مشک سے معطر کیا اور اسے ایک برد یمانی میں لپیٹ دیا۔ آپ کا ایک غلام تھا جس کو آپ نے خیبر سے ملنے والے اپنے حصے سے خرید ا تھا آپ نے اس سے فرمایا اس ھار کو لو اور سول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیدو اور تم بھی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیت ھو۔ غلام نے ھار لے کر رسول خدا(صلی الله علیه و آله وسلم) کو دیا اور جناب عمار کی بات دھرائی تو حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے فرمایا: فاطمہ(علیہم السلام) کے پاس جاؤ اور ان کو یہ ھار دیدو اور تم بھی انھیں کی ملکیت میں ھو غلام ھار لے کر جناب فاطمہ(علیہم السلام) کی خدمت میں حاضر ھوا اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کی گفتگو سے باخبر کیا جناب فاطمہ(علیہم السلام) نے وہ ھار لے لیا اور اس غلام کو آزاد کردیا غلام کوھنستا دیکھ کر جناب فاطمہ(علیہم السلام) نے پوچھا تم کیوں ھنس رھے ھو؟ اس نے کھا مجھ کو اس ھار کی برکت عظمیٰ سے ھنسایا ھے جس کی برکت سے ایک بھوکا شکم سیر ھوا، ایک برھنہ تن نے لباس پایا، ایک نادار مالدار ھوگیا، ایک غلام آزاد ھوگیا اور پھر یہ ھار اپنے مالک کے پاس واپس آگیا۔ [49]

ایمان اور اطاعت الٰھی

خدا پر ایمان،انسان کامل کی قیمت ھے اور خدا کی اطاعت کمال کی بلندیوں تک پھونچنے کا زینہ ھے۔ انبیاء(علیہم السلام) نے دار کرامت میں صدق کے مقامات حاصل کئے کیونکہ انھوں نے ایمان کے اعلیٰ ترین درجات پالئے تھے اور نیکیوں اوراللہ سبحانہ کی عبادت میں خلوص کے حصول کےلئے دنیا میں جد وجھد کی تھی۔

قرآن کریم نے سورہ دھر میں شہزادی کونین(علیہم السلام) کے کمال اخلاص، خشیت الٰھی، خدا اور آخرت پر آپ کے اس ایمان کامل کی شھادت دی ھے جو ھر ایک کےلئے نمونہ ھے اسی طرح حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے آپ کے بارے میں یہ گواھی دی ھے:

<إن ابنتی فاطمة ملاٴ اللہ قلبھا و جوارحھا إیماناً إلی مشاشھا، ففرغت لطاعة اللّہ>[50]

” خدا نے میری بیٹی فاطمہ زھرا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل اور اعضاء وجوارح کو ایمان سے پر کردیا ھے جس کی وجہ سے انھوں نے اطاعت الٰھی کےلئے اپنے آپ کو وقف کردیا ھے “

ایک اور جگہ آپ(علیہم السلام) کی عبادت کے بارے میں فرماتے ھیں:

<إنھا متی قامت فی محرابھا بین یدی ربھا جل جلالہ، زھر نورھا لملائکة السماء کما یزھر نور الکواکب لاٴھل الاٴرض “ و یقول اللہ عزو جل لملائکتہ:” یا ملائکتی، انظروا إلی اٴمتی فاطمة، سیدة إمائی، قائمة بین یدی، ترتعد فرائصھا من خیفتی، وقد اٴقبلت بقلبھا علی عبادتی،اُشھدکم اٴنی قد آمنت شیعتھا من النار>

” فاطمہ زھرا(علیہم السلام) جب محراب عبادت میں اپنے پروردگار کے سامنے کھڑی ھوتی ھیں تو ان کا نور آسمان کے فرشتوں کو اسی طرح چمکتا ھوا دکھائی دیتا ھے جس طرح زمین والوں کےلئے ستارے چمکتے دکھائی دیتے ھیں“اور خداوندعالم اپنے فرشتوں سے کہتا ھے:” میرے فرشتو! میری کنیز اور میری کنیزوں کی ملکہ و سردار فاطمہ زھرا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھو جو میری بار گاہ میں کھڑی ھے اور میرے خوف سے تھر تھر کانپ رھی ھے اور دل کی مکمل توجہ کے ساتھ میری عبادت میں مشغول ھے تم سب گواہ رھنا کہ میں نے اس کے شیعوں کو آتش دوزخ سے امان دیدی ھے “ [51]

<و قال الحسن بن علی: راٴیت امی فاطمة(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قامت فی محرابھا لیلة جمعتھا،فلم تزل راکعة ساجدة حتی اتضح عمود الصبح، سمعتھا تدعو للموٴمنین و الموٴمنات و تسمیھم و تکثر الدعاء لھم، و لاتدعو لنفسھا بشیٴ، فقلت لھا: یا اٴماہ، لم لا تدعین لنفسک کما تدعین لغیرک؟ فقالت: یا بنی! الجار ثم الدار۔ >

”امام حسن(علیہم السلام) نے ایک بار شب جمعہ میں اپنی مادر گرامی کو محراب عبادت میں کھڑے ھوئے دیکھا آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل رکوع وسجود کرتی رھیں یھاں تک کہ سپیدیٴ سحر نمودار ھوگئی میں نے سنا کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنین و مومنات کےلئے ان کا نام لے لے کر بہت زیادہ دعائیں کر رھی تھیں لیکن اپنے لئے کوئی دعا نھیں فرمائی میں نے عرض کی مادر گرامی: جس طرح آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کےلئے دعا کر رھی تھیں اسی طرح آپ نے اپنے لئے کیوں دعا نھیں کی؟ تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیٹے پھلے پڑوسی پھر گھر “ [52]

جمعہ کے دن کی آخری گھڑیوں کو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف دعا کےلئے مخصوص کر رکھا تھا اسی طرح آپ(علیہم السلام) رمضان کی آخری دس راتوں میں بالکل نھیں سوتی تھیں اور گھر میں موجود تمام افراد کو عبادت و دعا کےلئے شب بیداری پر آمادہ کرتی تھیں۔ حسن بصری نے کھا ھے: اس امت میں فاطمہ(علیہم السلام) سے زیادہ عبادت گذار کوئی نھیں ھوا آپ(علیہم السلام) اس قدر عبادت کرتی تھیں کہ پیروں پر ورم آجاتا تھا۔ [53] آپ(علیہم السلام) نماز میں خوف خدا سے کانپتی تھیں۔ [54]

حقیقت تو یہ ھے کہ جناب سیدہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی پوری حیات طیبہ میں کبھی بھی محراب عبادت سے باھر ھی نھیں نکلیں کیونکہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر کے اندر اپنے شوھر کی فرمانبرداری اور اولاد کی تربیت کی بنا پر عبادت خدا میں مصروف رہتی تھیں اور اسی طرح دوسر ی عام خدمات انجام دے کے بھی خدا کی اطاعت و عبادت ھی کرتی تھیں۔ مزیدیہ کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقرا کی امداد بھی اطاعت و عبادت خدا کےلئے ھی کرتی تھیں اور خود زحمتیں برداشت کر کے دوسروں کے ضروریات پورے کرتی تھیں۔

آپ کا انداز محبت

جس طرح جناب سیدہ(علیہم السلام) نے اپنے پدر بزرگوار کا پیار پایا تھا اسی طرح آپ(علیہم السلام) بھی اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ بہت حسن سلوک سے پیش آتی تھیں ان سے بے لوث محبت فرماتی تھیں ھمیشہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھا، آپ اپنے پدر بزرگوار کے گھر کا انتظام بھی سنبھالتی تھیں اوران کے آرام وسکون کا خیال رکھتی تھیں جس طرح کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پدر گرامی(صلی الله علیه و آله وسلم) کی خوشی کے تمام وسائل فراھم کرتی تھیں مثلاً آن حضرت کے نھانے کےلئے پانی بھرنا، آپ کے، کھانے کا انتظام کرنا، کپڑے دھونا آپ کا معمول تھا حتی کہ آپ(علیہم السلام) دوسری خواتین کے ساتھ میدان جنگ میں کھانا اور پانی پھونچاتی تھیں۔ زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور ان کی مرھم پٹی کرتی تھیں۔

جنگ احد میں آپ(علیہم السلام) نے حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کے زخموں کا اس طرح علاج کیا کہ جب دیکھا کہ خون بند نھیں ھو رھا ھے تو آپ(علیہم السلام) نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اسے جلایا اور جب وہ جل کر بالکل راکھ ھوگیا تو اس کو زخم پر چھڑک دیا جس سے خون بند ھوگیا۔ جب خندق کھودی جارھی تھی تو آپ(علیہم السلام) حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کےلئے تھوڑی سی روٹی لے کر آئیں حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے پوچھا:

<فقال:ما ھذہ یا فاطمة؟ قالت: من قرص اختبزتہ لابنی، جئتک منہ بھذہ الکسرة۔ فقال: یا بنیة، اٴما اٴنھا لاٴول طعامٍ دخل فم اٴبیک منذ ثلاثہ اٴیام >

”فاطمہ زھرا (علیہم السلام) یہ کیا ھے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اس روٹی کا ایک حصہ ھے جو میںنے اپنے دونوں بچوں کےلئے پکائی تھی اس میں سے آپ کےلئے اتنا حصہ بچاکر لائی ھوں اس وقت حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) نے فرمایا بیٹی: تمھارا باپ تین دن کے بعد یہ پھلا کھانا کھارھا ھے “[55]

 

اس طرح جناب سیدہ(علیہم السلام) نے شفقت اور پیار ومحبت کی ان کمیوں کو پورا کردیا جو حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کےلئے راہ خدا میں جھاد و دعوت کے سخت ترین لمحات میں اپنے والدین اور زوجہ مکرمہ جناب خدیجہ(علیہم السلام) کی وفات کے بعد پیدا ھوگئی تھیں۔ اسی سے ھم کو با ر بار حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کی زبان پر آنے والے اس فقرہ کا مطلب سمجھ میں آجاتا ھے:

<فاطمة اٴم اٴبیھا >

” فاطمہ(علیہم السلام) اپنے باپ(صلی الله علیه و آله وسلم) کی ماں ھیں “۔ [56]

حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) آپ(علیہم السلام) کے ساتھ بالکل ماں جیسا برتاؤ کرتے تھے مثلاً آپ(علیہم السلام) کے ھاتھوں کو بوسہ دیتے تھے، مدینہ واپسی پر سب سے پھلے آپ(علیہم السلام) سے ملاقات کرنے جاتے تھے اسی طرح ھر سفر اور جنگوں پر روانہ ھوتے وقت سب سے آخر میں آپ(علیہم السلام) سے رخصت ھوتے تھے گویا آپ(علیہم السلام) اس صاف وشفاف سر چشمہٴ رحمت سے سفر کی برکتوں کا توشہ حاصل کرتے تھے اسی طرح آپ(علیہم السلام) ان کے پاس بہت زیادہ رفت وآمد فرماتے تھے اور شہزدای کونین(علیہم السلام) آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح پیش آتی تھیں جیسے ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ پیش آتی ھے یعنی آپ(علیہم السلام) حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کے رنج ومصیبت کو کم کرتی تھیں اور آپ کی خدمت اور فرمانبرداری میں کوئی کمی نھیں کرتی تھیں۔

آپ کا مسلسل جھاد

جناب سیدہ(علیہم السلام) اس وقت پیدا ھوئیں جب اسلام اور جاھلیت کے درمیان بے حد سخت مقابلہ جاری تھا آپ (علیہم السلام) نے اس وقت آنکھیں کھولیں جب مسلمان بت پرستی سے بر سر پیکار تھے۔ قریش نے حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) اور تمام بنی ھاشم کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ جس کی بناپر حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) اپنی مجاھدزوجہ اور دختر گرامی کے ساتھ شعب ابی طالب میں چلےگئے تھے قریش کا یہ محاصرہ تین سال جاری رھا، آپ(علیہم السلام) کو ھر طرح کی محرومی اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ(علیہم السلام) نے حق کے دفاع اور اپنے مقصد کےلئے قربانی پیش کرتے ھوئے راہ خدا میں جھاد جاری رکھا۔

محاصرہ کے یہ سال نھایت سختی اور پریشانی کے عالم میں گذرے اور بالآخر حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) وھاں سے سرخ رو ھو کر نکلے۔

خدا نے اسی سال جناب خدیجہ(علیہم السلام) کو اپنی بارگاہ میں بلالیا نیز اسی سال آپ(علیہم السلام) کے چچا، اور آپ کی تبلیغ کے حامی یعنی ناصر اسلام جناب ابو طالب نے وفات پائی۔ اپنے سب سے زیادہ محبوب اور عزیز افراد کو کھونے کے بعد حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) شدید رنج و الم میں مبتلا ھوگئے اسی طرح جناب فاطمہ زھرا(علیہم السلام) جو ابھی شفقت مادری سے اچھی طرح سیرنہ ھو پائی تھیں کہ انھیں بھی اپنی والدہ کی جدائی کا غم برداشت کرنا پڑا اور اس طرح اپنی والدہ گرامی کو کھونے کے باوجود آپ(علیہم السلام) اپنے پدر بزرگوار کی مصیبت میں ان کی شریک ھوگئیں۔ حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) ھمیشہ یہ چاہتے تھے کہ آپ(علیہم السلام) کو اتنا پیار دیں کہ آپ(علیہم السلام) کا تمام ترغم دور ھوجائے۔

حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کے حامی چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش نے حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کو ھر طرح ستانا شروع کردیا جناب سیدہ کونین(علیہم السلام) اپنے والد کی آنکھوں سے ان قریش کے مظالم کا مشاھدہ کر تی رہتی تھیں جن کو حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) تاریکیوں سے نور کی طرف لانا چاہتے تھے۔

جبکہ حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) جناب سیدہ کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رنج و الم کو ھلکا کرنا چاہتے تھے لہٰذا آپ ان کو یہ کہہ کر صبر دلایا کرتے تھے کہ:

<لا تبکی یا بنیة؛فإن اللہ مانع اٴباک و ناصرہ علی اٴعداء دینہ و رسالتہ>

”بیٹی گریہ مت کرو کیونکہ خدا تمھارے بابا کا محافظ ھے اور وھی دین و رسالت کے دشمنوں کے خلاف میری نصرت کرے گا“ [57]

اس طرح پیغمبر اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) اپنی بیٹی کے اندر جھاد کی سب سے اعلیٰ روح پھونک رھے تھے اور ان کے قلب کو صبر کے ساتھ کامیابی کی امید سے مالامال کر رھے تھے۔ مکہ کی گھٹن کی فضا سے اپنے پدر بزرگوار کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد آپ(علیہم السلام) بھی ان علی(علیہم السلام) کے ھمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئیںکہ جنھوں نے قریش کے غرور کو چکنا چور کردیا اور آپ سب مقام قبا میں حضور اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) سے جاملے اس سفر میں پیدل چلتے چلتے آپ (علیہم السلام) کے پیروں پر ورم آگیا تھا۔

جب آپ(علیہم السلام) کے پدر بزرگوار مدینہ میں اپنی با برکت حکومت کو مضبوط کر چکے تو آپ(علیہم السلام) شادی کرنے کے بعد اپنے شوھر حضرت علی(علیہم السلام) کے گھر منتقل ھوگئیں اور ان کے جھاد میں ان کا ھاتھ بٹایا، زندگی کی سختیوں اور راہ خدا میں جھاد کی مشکلات پر صبر کیا اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک نئی مشترکہ زندگی کا اعلیٰ نمونہ پیش کر رھی تھیں۔

آپ نے حق کی نصرت اور وصیت رسول اکرم(صلی الله علیه و آله وسلم) کا دفاع کرنے میں اھم کردار ادا کیا اور آپ(علیہم السلام) نے صراط مستقیم سے لوگوں کے انحراف کے خلاف اپنے شوھر کی طرف داری کےلئے سخت ترین لمحات میں فریاد بلند کی تاکہ دنیا کو یہ بتادیں کہ علی(علیہم السلام) کی زندگی کا اندرونی محاذ مضبوط ھے اور اسے ھرگز کمزور خیال نہ کیا جائے۔ البتہ ھر قسم کی صور ت حال سے نپٹنے کےلئے آپ(علیہم السلام) آخری فیصلہ اپنے قائد اور اپنے امام شوھر گرامی کے اوپر چھوڑ دیتی تھیں تاکہ وہ خود ھی حالات کے اعتبار سے مناسب قدم اٹھاسکیں۔

جناب سیدہ کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھفتہ کے دن صبح کے وقت احد میں شھدا کی قبروں کی زیارت کےلئے تشریف لے جاتی تھیں ان کےلئے طلب رحمت اور دعائے استغفار کر تی تھیں۔ یہ لگن اور جاں فشانی اس بات کا پتہ دیتی ھے کہ جناب سیدہ کونین(علیہم السلام) جھاد و شھادت کو کتنی اھمیت دیتی تھیں نیز آپ(علیہم السلام) کی اس عملی زندگی کی قدر و قیمت کا بھی پتہ چلتا ھے جو جھاد سے شروع ھوئی، اسی راستہ پر رواں دواں رھی اور آخر کار آپ(علیہم السلام) کے درجہ شھادت پر فائز ھونے کے بعد جھاد پر ھی تمام ھوئی۔ [58]



[1] یہ اس وقت کا واقعہ ھے جب پیغمبر (ص) کے فرزند عبد اللہ کہ جو خدیجہ کے بطن سے تھے ان کا انتقال ھو گیا تھا اور پیغمبر (ص) کی اولاد ذکور میں سے کوئی باقی نھیں بچا تھا۔

[2] تفسیر کبیر ،ج۳۲،ص۱۳۲۔

[3] تاریخ بغداد : ج ۱ ،ص ۳۱۶ ، ریاض النضرہ : ج۲ ، ص ۱۶۸ ، کنز العمال: ج ۱۱ ح ،۳۲۸۹۲۔

[4] صحیح بخاری : کتاب صلح ، صحیح تر مذی : ج ۵ ، ح ۳۷۷۳ ،ط احیاء تراث ،مسند احمد : ج۵ ، ص ۴۴ تاریخ بغداد: ج۳ ، ص ۲۱۵ ، کنز العمال: ج ۱۲ ،۱۳ احادیث ۳۴۳۰۴،۳۴۳۰۱ ، ۳۷۶۵۴۔

[5] سورہٴ دھر یا ھل اتیٰ یا انسان۔

[6] ملاحظہ فرمایئے :کشاف مولفہ زمخشری ،تفسیر کبیر مولفہ ثعلبی ،اسد الغابہ ج۵ ص۵۳۰اور تفسیر فخر رازی۔

[7] سورہٴ احزاب ۳۳۔

[8] صحیح مسلم :کتاب فضائل صحابہ ومستدرک صحیحین،۳/۱۴۷،الدر المنثور،ذیل تفسیر آیہٴ تطھیر،تفسیر طبری۲۲/۵،صحیح ترمذی ۵ حدیث۳۷۸۷،مسند احمد ۶/۲۹۲و۳۰۴،اسد الغابہ ۴/۲۹،تہذیب التہذیب۲/۲۵۸۔

[9] الکلمة الغراء فی تفضیل الزھراص۲۰۰،علامہ سید عبدالحسین شرف الدین فرماتے ھیں:اسے امام احمد نے اپنی صحیح کی ج۳ ص ۲۵۹ ،پر اور حاکم نے بھی نقل کیا ھے نیز اسے ترمذی نے صحیح اور ابن ابی شبیہ،ابن حریر،ابن منذر ،ابن مردویہ اور طبرانی و غیرہ نے ((حسن))قرار دیا ھے ۔

[10] الکلمة الغراء فی تفضیل الزھرا،ص ۱۰۰۔

[11] حلیة الاولیاء:ج۳، ص۲۰۱، تفسیر الطبری: ج۲۵،ص ۲۵ ۔۱۶۔ ۱۷ ، تفسیر المنثور سورہٴ شوریٰ کی تیسری آیة کی تفسیر ، الصوائق المحرقة: ۲۶۱و اسد الغایة :ج۵،ص۳۶۷۔

[12] فضائل الخمسہ بن الصحاح الستہ ج۱ ص۳۰۷۔

[13] الکشاف فی تفسیرا الآیہ ، و تفسیر الکبیر : فخر رازی ، اور الدر المنثور : اور ذخائرلعقبی :۳۵ ٰ الغدیر :ج ۳ ۔علامہ امینی نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہ یہ اھل بیت علیھم السلام کی شان میں نازل ھوئی ھے ۴۵ ماخذ ذکر کئے ھیں۔

[14] الکلمة الغراء فی تفضیل الزھرا:ا۸ا۔

[15] علامہ سید عبد الحسین شرف الدین کہتے ھیں:اس واقعہ کو تمام محدثین اور مورخین نے دسویں ہجری کے واقعات کی تفسیر کے ذیل میں تحریر کیا ھے اور یھی مباھلہ کا سال ھے اسی طرح ملاحظہ کیجئے صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ ،کشاف زمخشری سورہٴ آل عمران کی ۶۱ ویں آیت ۔

[16] تفسیر الکبیر : آیة کی تفسیر کے ذیل میں، الصواعق المحرقہ : ۲۳۸۔

[17] کنز العمال :ج ۱۲، ص ۱۱۱، مستدرک صحیحین :ج ۳، ص ۱۵۴ ، میزان الاعتدال :ج ۱،ص۵۳۵۔

[18] صواعق المحرقة : ۲۸۹، الامامة والسیاسة :ص ۳۱ ،کنز العمال : ج۱۲ ، ص۱۱۱، خصائص النسائی: ۳۵ ، صحیح مسلم : کتاب فضائل الصحابة۔

[19] فرائد السمطین :ج۲ ،ص۶۶۔

[20] المستدرک صحیحین : ج۳ ،ص۱۷۰، وابو نعیم فی حلیة الاولیاء : ج۲،ص ۳۹،والطحاوی فی مشکل الآثار : ج ۱ ،ص ۴۸ ،وشرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید : ج۹ ،ص ۱۹۳ ، والعوالم :ج۱۱ ،ص ۱۴۱۔ ۱۴۶۔

[21] فاطمہ الزھراء وتر فی غمد: مقدمہ از قلم سید موسیٰ صدر۔

[22] رواہ صاحب الفصول المھمہ ۲۷، تفسیر الوصول :ج۲ ،ص۱۵۹ ، شرح ثلاثیات مسند احمد :ج ۲ ،ص ۵۱۱ ۔

[23] الشجنة : اشعبة من کل شیء اشجنھہ کالغصن یکون من الشجرة ۔ مستدرک الحاکم :ج۳ ،ص ۱۵۴ ، کنز العمال :ج ۱۲، ص ۱۱۱ ح ، ۳۴۲۴۰ ۔

[24] مسند احمد : ج۴، ص ۳۲۳ ۔ ۳۳۲ ، والمستدرک :ج ۳ ،ص ۱۵۴ ۔۱۵۹۔

[25] فصول المھمہ : ۱۴۴ ، و رواہ فی کتاب المختصر عن تفسیر الثعلبی :۱۲۳۔

[26] امالی الطوسی : مجلس ۱ ح ۳۰ ،والمختصر :۱۳۶۔

[27] روضةالکافی : ح ۵۳۶۔

[28] کشف الغمہ :ج۱ ،ص ۴۶۳۔

[29] بحار الانوار :ج ۴۳، ص ۱۹۔

[30] بحار الانوار :ج۴۳ ،ص ۶۵۔ ۲۴۔

[31] کشف الغمہ :ج۱ ، ص۴۷۱ ۔

[32] اھل البیت : ۱۴۴ لتوفیق ابو علم۔

[33] بحار الانوار : ج۴۳ ،ص ۸۴۔

[34] وقرة: رزاتة و حلم ، الع نة الطی الذی فی البطن من السمن ( المختار / باب عکن )۔

[35] الاغالی : ج۸ ،ص ۳۰۷ ، ومقاتل الطالبیین : ۱۲۴۔

[36] الفصول المھمة : ۱۴۱،ط بیروت۔

[37] حلیة الاولیاء :ج ۲ ،ص ۳۹ ،ط بیروت ۔

[38] شرح نہج البلاغہ :ج۹ ،ص۱۹۳۔

[39] فاطمةالزھرا (ع) ء بہجة قلب المصطفیٰ : ۲۱۔

[40] اھل البیت : ۱۱۶ موٴ لفہ: توفیق ابو علم۔

[41] اھل البیت : ۱۱۶ موٴ لفہ: توفیق ابو علم۔

[42] اھل البیت : ۱۱۶ موٴ لفہ: توفیق ابو علم۔

[43] یہ دونوں خطبے ،اس کتاب میں آگے چل کر آئیں گے۔

[44] اھل بیت :۱۳۲۔۱۳۴ ۔

[45] اھل بیت :۱۳۲۔۱۳۴۔

[46] اھل بیت :۱۳۲۔۱۳۴۔

[47] اھل بیت (ع) ۱۳۷۔

[48] اھل بیت (ع) ۱۳۸۔

[49] بحارالانوار ج۴۳ ۔۴۶ ص ۵۶ ص۵۸ ۔

[50] بحارالانوار ج۴۳ ۔۴۶ ص ۴۳۔

[51] امالی صدوق مجلس نمبر ۲۴ ص ۱۰۰۔

[52] بحار الانوار ج۴۳۔ ص ۸۱۔۸۲۔

[53] بحار الانوار ج۴۳۔ ص ۸۴۔

[54] اعلام الدین:۲۴۷، عُدّة الداعی ص ۱۵۱ ۔

[55] اھل بیت ص۱۴۱۔۱۴۲۔

[56] اسد الغابہ ج۵ ص ۵۲۰ اور الاستیعاب ج۴ ص ۳۸۰ ۔

[57] سیرة المصطفیٰ ص ۲۰۵۔تاریخ طبری:۱ص۴۲۶ط دارالفکر بیروت

[58] مقدمہ ٴفاطمة الزھرا وترفی غمداز قلم موسی صدر ۔