حضرت رسول کریم شعب ابی طالب میں

حضرت رسول کریم شعب ابی طالب میں

مورخین کابیان ہے کہ جب کفارقریش نے دیکھاکہ اسلام روزافزوں ترقی کرتاچلاجارہاہے توسخت مضطرب ہوئے پہلے توچندقریش دشمن تھے اب سب کے سب مخالف ہوگئے اوربروایت ابن ہشام وابن اثیروطبری ابوجہل بن ہشام، شیبة، عتبہ بن ربیعة، نصربن حارث، عاص بن وائل اورعقبہ بن ابی معیط ایک گروہ کے ساتھ رسول خداکے قتل پرکمرباندھ کرحضرت ابوطالب کے پاس آئے اورصاف لفظوں میں کہاکہ محمدنے ایک نئے مذہب کااختراع کیاہے اوروہ ہمارے خداوں کوہمیشہ برابھلاکہاکرتے ہیں لہذا انہیں ہمارے حوالے کردوہم انہیں قتل کردیں یاپھرآمادہ جنگ ہوجاؤ حضرت ابوطالب نے اس وقت انھیں ٹالدیا اوروہ لوگ واپس چلے گئے ورروسول کریم اپناکام برابرکرتے رہے چنددنوں کے بعددشمن پھرآئے اورانھوں نے آکرشکایت کی اورحضرت کے قتل پراصرارکیا حضرت ابوطالب نے آنحضرت سے واقعہ بیان کیاانہوں نے فرمایاکہ اے چچامیں جوکہتاہوں ،کہتارہوں گا میں کسی کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوسکتا اورنہ کسی لالچ میں پھنس سکتاہوں اگرمیرے ایک ہاتھ پرآفتاب اوردوسے پرماہتاب رکھ دیاجائے جب بھی میں تعمیل حکم خداوندی سے بازنہ آوں گا میں جوکرتاہوں حکم خداسے کرتاہوں، وہ میرامحافظ ہے یہ سن کرحضرت ابوطالب نے فرمایاکہ ” بیٹاتم جوکرتے ہوکرتے رہو، میں جب تک زندہ ہوں تمہاری طرف کوئی نظراٹھاکرنہیں دیکھ سکتا تھوڑے عرصہ کے بعدبروایت ابن ہشام وابن ا ثیر، کفارنے ابوطالب سے کہا کہ تم اپنے بھتیجے کوہمارے حوالے کردو ہم اسے قتل کردیں اوراس کے بدلے میں ایک نوجوان ہم سے بنی مخزوم میں سے لے لو حضرت ابوطالب نے فرمایاکہ تم بعیدازعقل باتیں کرتے ہو، یہ کبھی نہیں ہوسکتا یہ کیونکہ ممکن ہے کہ میں تمہارے لڑکے کولے کراس کی پرورش کروں اورتم ہمارے بیٹے کولے کرقتل کردو۔ یہ سن کر ان کی آتش غضب اوربرافروختہ ہوگئی اوروہ ان کے ستانے پربھرپورتل گئے حضرت ابوطالب نے اس کے ردعمل میں بنی ہاشم اوربنی مطلب سے امدادچاہی اوردشمنوں سے کہلابھیجاکہ کعبہ وحرم کی قسم اگرمحمدکے پاؤں میں تمہاری طرف سے کانٹابھی چبھاتومیں سب کوہلاک کردوں گا حضرت ابوطالب کے اس کہنے پردشمن کے دلوں میں آگ لگ گئی اوروہ آنحضرت کے قتل پرپوری طاقت سے تیارہوگئے۔ حضرت ابوطالب نے جب آنحضرت کی جان کوغیرمحفوظ دیکھاتوفورا ان لوگوں کولے جنہوں نے حمایت کاوعدہ کیاتھا جن کی تعدادبروایت حیات القلوب چالیس تھی۔ محرم ۷بعثت میں ”شعب ابی طالب“ کے اندرچلے گئے اوراس کے اطراف کو محفوظ کردیا۔ کفارقریش نے ابوطالب اس عمل سے متاثرہوکرایک عہدنامہ مرتب کیاجس میں بنی ہاشم اوربنی مطلب سے مکمل بائیکاٹ کافیصلہ تھا طبری میں ہے کہ اس عہدنامہ کومنصوربن عکرمہ بن ہاشم نے لکھاتھاجس کے بعدہی اس کاہاتھ شل ہوگیاتھا۔ تواریخ میں ہے کہ دشمنوں نے شعب کاچاروں طرف سے بھرپورمحاصرہ کرلیاتھا اورانھیں مکمل قیدمیں مقیدکردیاتھا اس قیدنے اہل شعب پربڑی مصیبت ڈآلی جسمانی اورروحانی تکلیف کے علاوہ رزق کی تنگی نے انہیں تباہی کے کنارے پرپہنچادیااورنوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ دینداردرختوں کے پتے کھانے لگے ناتے ،کنبے والے اگرچوری چھپے کچھ کھانے پینے کی چیزپہنچادیتے اورانہیں معلوم ہوجاتاتوسخت سزائیں دیتے اسی حالت میں تین سال گزرگئے ایک روایت میں ہے کہ جب اہل شعب کے بچے بھوک سے بے چین ہوکرچیختے اورچلاتے تھے توپڑسیوں کی نیندحرام ہوجاتی تھی اس حالت میں بھی آپ پروحی نازل ہوتی رہی ، اورآپ کاررسالت انجام دیتے رہے۔

تین سال کے بعد ہشام بن عمربن حرث کے دل میں یہ خیال آیاکہ ہم اورہمارے بچے کھاتے پیتے اورعیش کرتے ہیں اوربنی ہاشم اوران کے بچے فاقہ کشی کررہے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے پھراس نے اورچندآدمیوں کوہم خیال بناکرقریش کے اجتماع میں اس سوال کواٹھایا۔ ابوجہل اورا سکی بیوی ”ام جمیل“ جسے بزبان قرآن ”حمالة الحطب“کہاجاتاہے نے مخالفت کی لیکن عوام کے دل پسیج اٹھے اسی دوران میں حضرت ابوطالب آگئے اورانہوں نے کہاکہ ”محمد“ نے بتایاہے کہ تم نے جوعہدنامہ لکھاہے اس دیمک چرگئی ہے اورکاغذ کے اس حصہ کے سواجس پراللہ کانام ہے سب ختم ہوگیاہے اے قریش بس ظلم کی حدہوچکی تم اپنے عہدنامہ کودیکھواگرمحمدکاکہناسچ ہوتوانصاف کرواوراگر جھوٹ ہوتوجوچاہے کرو۔
حضرت ابوطالب کے اس کہنے پرعہدنامہ منگوایاگیااورحضرت رسول کریم کا ارشاداس کے بارے میں من وعن صحیح ثابت ہواجس کے بعدقریش شرمندہ ہوگئے اورشعب کاحصارٹوٹ گیا۔
اس کے بعدہشام بن عمربن حرث اوراس کے چارساتھی ،زبیربن ابی امیہ مخزومی اورمطعم بن عدی ابوالبختری بن ہشام، زمعہ بن الاسودبن المطلب بن اسدشعب ابی طالب میں گئے اوران تمام لوگوں کوجواس میں محصورتھے ان کے گھروں میں پہنچادیا۔(تاریخ طبری، تاریخ کامل، روضة الاحباب)۔
مورخ ابن واضح المتوفی  ۲۹۲ ء کابیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد” اسلم یومسئذخلق من الناس عظیم“ بہت سے کافرمسلم ہوگئے۔ (الیعقوبی ج ۲ ص ۲۵ طبع نجف ۱۳۸۴ ھء)